مدینہ کی ریاست بنانے والوں کے دور میں عورت کی۔۔۔۔ سینیٹر ساجد میر نے ایسی بات کہہ دی کہ حکومتی وزرا بھی شرمسار ہوجائیں

مدینہ کی ریاست بنانے والوں کے دور میں عورت کی۔۔۔۔ سینیٹر ساجد میر نے ایسی بات ...
مدینہ کی ریاست بنانے والوں کے دور میں عورت کی۔۔۔۔ سینیٹر ساجد میر نے ایسی بات کہہ دی کہ حکومتی وزرا بھی شرمسار ہوجائیں

  

لاہور (  ) مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے سربراہ سینیٹر پروفیسر ساجد میر نےکہاہےکہ  کتنی بےشرمی والی بات ہےکہ موٹروے پرایک خاتون کو بے آبرو کیا گیا،موجودہ حکومت کے دور میں جرائم میں اضافہ ہوگیا ہے،بڑھتی ہوئی اخلاقی بے راہ روی اور عصمت دری کے واقعات کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے،مدینہ کی ریاست بنانے والوں کے دور میں عورت کی عزت تک محفوظ نہیں ہے۔

تفصیلات کےمطابق سینیٹرساجدمیرنےموٹروے پرخاتون سے اجتماعی زیادتی کے واقعے کی شدید مذمت کرتےہوئےکہاکہ اب تو بڑی شاہراہیں بھی محفوظ نہیں، ملک میں جنگل کا قانون اور بھیڑیوں کا راج ہے،بچوں اور بچیوں کو زیادتی کے بعدقتل کرنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں،اگر جنسی درندوں کو بروقت نشان عبرت بنایا جائے تو زیادتی کے واقعات کو بڑھنے سے روکا جاسکتا ہے۔  پروفیسر ساجد میر نےکہاکہ سرکاری اعدادو شمار کے مطابق پچھلے 7 ماہ میں صرف پنجاب میں گینگ ریپ اور اغوا برائے تاوان کے 10 ہزار سے زیادہ کیس رجسٹرڈ ہوئے ہیں،حالات کی سنگینی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نا اہلی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ایک تو پنجاب پولیس پہلے سے زیادہ ناکارہ ہوچکی ہے،آئے روز کے تبادلوں نے پولیس کے پورے نظام کا شیرازہ بکھیر دیا ہے۔ معاشرے میں لوگوں کی جان ومال اور عزت آبرو کی حفاظت کے لیے ہمیں اسلا م کے نظام حدو وتعزیرات کو عملی طور پر نافذ کرنا ہو گا،جہاں جہاں ان تعلیمات پر عمل کیا گیا اور ان احکام کو نافذ کیا گیا وہاں سماج پر ان کے خوش گوار اثرات مرتب ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ آج بھی جو لوگ سماج میں برائیوں کو پنپتا دیکھ کر فکر مند ہیں اور آبرو ریزی کے بڑھتے ہوئے واقعات کو روکنے کے لیے اسلامی سزا کو پسندیدگی کی نظر سے دیکھ رہے ہیں اور اسے نافذ کیے جانے کا مطالبہ کر رہے ہیں، اگر وہ سنجیدہ ہیں تو انھیں پورے اسلامی نظام معاشرت کوقبول کرنااور اسلام کی تمام تعلیمات پرعمل کرناہوگا، تبھی مطلوبہ فائدے حاصل ہوسکتے ہیں،برائیوں پر قابو پایا جاسکتا ہے اور معاشرہ کی پاکیزگی قائم رکھی جاسکتی ہے،بڑھتی ہوئی اخلاقی بے راہ روی اور عصمت دری کے واقعات کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے،مدینہ کی ریاست بنانے والوں کے دور میں عورت کی عزت تک محفوظ نہیں ہے۔

مزید :

علاقائی -پنجاب -لاہور -