کاروباری شخصیت کی کار حادثے میں موت، بینک انتظامیہ نے 12 گھنٹے بعد ہی اس کے اکاؤنٹ سے 39 کروڑ غائب کردیے، بیوہ اور یتیم بچے دربدر

کاروباری شخصیت کی کار حادثے میں موت، بینک انتظامیہ نے 12 گھنٹے بعد ہی اس کے ...
کاروباری شخصیت کی کار حادثے میں موت، بینک انتظامیہ نے 12 گھنٹے بعد ہی اس کے اکاؤنٹ سے 39 کروڑ غائب کردیے، بیوہ اور یتیم بچے دربدر

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) اسلام ہمیں یتیموں کے مال کو ناحق کھانے سے روکتا ہے، قرآن پاک میں واضح حکم دیا گیا ہے کہ " وہ جو یتمیوں کا مال ناحق کھاتے ہیں وہ تو اپنے پیٹ میں نری آگ بھرتے ہیں اور کوئی دم جاتا ہے کہ بھڑکتی اگ میں جائیں گے۔" قرآن و حدیث میں واضح احکامات کے باوجود کچھ لوگوں کے ضمیر مردہ ہوچکے ہوتے ہیں جس کی وجہ سے انہیں اچھے برے کی پہچان نہیں رہتی۔ 

یتمیوں کا مال کھانے کی ایک مثال لاہور سے سامنے آئی ہے جہاں کامران الہٰی نامی کاروباری شخصیت کا 2016 میں کار حادثے میں انتقال ہوا۔ ابھی اس شخص کا انتقال ہوئے 12 گھنٹے بھی نہ گزرے تھے کہ حبیب بینک کے ملازمین نے نامعلوم رشتہ دار کے ساتھ مل کر اس کے اکاؤنٹ سے 39 کروڑ روپے کی خطیر رقم غائب کردی۔

26 مئی 2016 کو کامران الہٰی کا انتقال ہوا جس کے بعد اب تقریباً ساڑھے 4 سال کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن بیوہ اور یتیم بچوں کی کوئی شنوائی نہیں ہورہی ۔  بیوہ خاتون مریم کامران نے سٹیٹ بینک آف پاکستان کو اس معاملے کی تحقیقات کیلئے درخواستیں بھی دی ہیں لیکن سرکاری دفاتر والا پرانا گھسا پٹا جواب کہ " آپ کے کیس پر کام ہورہا ہے" دے کر انہیں ٹرخا دیا جاتا ہے۔

بیوہ خاتون نے مطالبہ کیا ہے کہ اس کے یتیم بچوں کا مال کھانے والوں کو سامنے لایا جائے اور انہیں فوری انصاف فراہم کیا جائے۔

مزید :

علاقائی -پنجاب -لاہور -