نشتر ہسپتال، شعبہ نیونٹالوجی  منصوبہ ناکام ہونے کا خدشہ

نشتر ہسپتال، شعبہ نیونٹالوجی  منصوبہ ناکام ہونے کا خدشہ

  

  ملتان (  خصو صی  رپورٹر  )  حکومت عدم توجہی کے باعث  نشتر ہسپتال میں مخیر حضرات کے تعاون سے تیار ہونے(بقیہ نمبر21صفحہ6پر)

 والے  شعبہ نیونٹالوجی کا منصوبہ ناکام ہونے کا خدشہ بڑھ گیاجبکہ ہسپتال انتظامیہ نے اس شعبہ کو کورونا کے وارڈ میں منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔جس پر ڈاکٹروں نے غصے کا اظہار کیا ہے۔ذرائع سے معلوم ہوا ہے نشتر ہسپتال میں نیونٹالوجی کا منصوبہ کو وارڈ نمبر 19 کے بیسمنٹ میں تیار کیا گیا۔جسکی تیاری میں پروفسیر ڈاکٹر فوزیہ۔اور ڈاکٹر ساجد اختر میو کی کاوشوں نمایاں تھیں۔جنہوں نے دن رات کی انتھک محنت کے بعد پچاس بستروں پر مشتمل نیونٹالوجی کا وارڈ کا منصوبہ بنایا تھا۔اس وارڈ کو  باقاعدہ طور مخیر حضرات کے تعاون سے تیار کیا گیا تھا۔اور اسکا کچھ سال قبل افتتاح بھی کیا گیا تھا۔لیکن یہ شعبہ حکومتی عدم توجہی کی وجہ سے ناکامی سے دوچار ہوا ہے۔کیونکہ اس شعبہ میں مین پاور کی کمی تھی۔ایس این ای منظوری کیلئے لاہور کاغذوں میں دفن ہوکر رہ گیا۔جس کے بارے میں محکمہ صحت کے اعلی حکام کو نشتر ہسپتال انتظامیہ نے متعدد بار آگاہ کیا۔لیکن حکومت کے کانوں پر جوں تک نا رینگی۔ذرائع سے مزید معلوم ہوا ہے نشتر ہسپتال میں نیونٹالوجی کے شعبہ کو کورونا وارڈ میں تبدیل کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔جو غلط ہے۔ڈاکٹروں نے نشتر ہسپتال انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کورونا کا وارڈ کسی وارڈ میں منتقل کریں۔

خدشہ

مزید :

ملتان صفحہ آخر -