کرونا سے 2ہلاکتیں، شیخ زید ہسپتال، وینٹی لیٹرز کی تعداد میں اضافہ 

کرونا سے 2ہلاکتیں، شیخ زید ہسپتال، وینٹی لیٹرز کی تعداد میں اضافہ 

  

 ملتان،بستی ملوک، رحیم یارخان، ٹھٹھہ صادق آباد،اوچشریف،،احمد (بقیہ نمبر13صفحہ6پر)

پور سیال،  ٹبہ سلطان پور، خانیوال(خصوصی رپورٹر،بیورو رپورٹ،تحصیل رپورٹر،نمائندہ پاکستان، نامہ نگار) احمد پور سیال کے رہائشی کورونا کے مبینہ مریض کی حالت تشویشناک ہوگئی۔اہل خانہ کی لوگوں سے مریض کی صحت کاملہ وعاجلہ کی دعاؤں کی اپیل۔احمد پور سیال کا رہائشی سید ہادی بالم شاہ کی حالت 9محرم الحرام کو بگڑ گئی جسے نشتر ہسپتال لے جانے پر پتہ چلا کہ اسے کورونا کا مرض لاحق ہوگیا ہے۔اس وقت تک مریض کی حالت سنبھل نہیں سکی اور وہ نشتر ہسپتال میں زیر علاج ہے جس کی تازہ ترین حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔اہل خانہ نے مریض کی صحت یابی کے لیے دعاؤں کی اپیل کی ہے۔ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر خرم شہزاد نے کہا ہے کہ ضلع میں کورونا وائرس کی چوتھی لہر کے باعث حفاظتی اور طبی اقدامات میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ضلعی انسداد کورونا کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا جس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر(ریونیو)ڈاکٹر سدرہ سلیم، ایم ایس شیخ زید ہسپتال ڈاکٹر آغا توحید، ضلعی فوکل پرسن ڈاکٹر عمران عباس سمیت دیگر موجود تھے۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ شیخ زید ہسپتال میں وینٹی لیٹرز کی مجموعی تعداد 56ہے جسے مختلف شعبہ جات کی ضروریات کے مطابق تقسیم کیا ہوا ہے تاہم کورونا سے متاثرہ مریضوں کے لئے12وینٹی لیٹرز مختص تھے جس کی تعداد بڑھا کر 20کر دی گئی ہے اب شیخ زید ہسپتال کورونا وارڈ میں 20وینٹی لیٹرز موجود ہیں۔انہوں نے ایم ایس شیخ زید ہسپتال کو ہدایت کی کہ کورونا وارڈ میں مریضوں کی سہولیات کے لئے مزید اقدامات کئے جائیں جبکہ ضلعی ہیلتھ اتھارٹی ضلع بھر میں ویکسی نیشن کے عمل میں بھی تیزی لائے۔انہوں نے اجلاس میں آن لائن موجود اسسٹنٹ کمشنرز کوبھی ہدایت کی کہ وہ اپنی تحصیلوں میں ویکسی نیشن کے عمل کی مانیٹرنگ کریں جبکہ کورونا ایس او پیز کے حوالہ سے بھی سخت اقدامات کو برقرار رکھا جائے۔علاوہ ازیں عوامی آگہی کے لئے بھی اقدامات کئے جائیں کہ شہری ویکسین لگوائیں، پر ہجوم جگہوں پر جانے سے گریز، سماجی فاصلے کا خیال اور ماسک کا استعمال ضرور ی کریں۔اجلاس میں بتایا گیا کہ ضلع بھر میں 15لاکھ28ہزار419افراد کو ویکسین لگائی جا چکی ہے جبکہ ضلع میں کورونا سے متاثرہ648مریض موجود ہیں۔  محکمہ صحت تحصیل میلسی کے آفسران کی نااہلی، کرونا ویکسین، ایسٹرا زنک اورفائزر نیاب ہوگی کوٹہ کے تحت آنے والی ویکسین محکمہ صحت کا عملہ خود ہی خوردبرد کرنے لگا عوام کئی ماہ سے مطلوبہ ویکسین آنے کا انتظارکر نے لگے عوام کہنا ہے کہ محکمہ صحت تحصیل میلسی کے آفسران ایسٹرازنک اور فائز ر کمپنی کی مطلوبہ ویکسین شفارشوں پر لگاتے ہوئے خوردبرد کرنے میں مصروف ہیں اور عوام کو عام ویکسین لگا کر ٹرخانے میں لگے ہوئے ہیں ایسٹرا زنک اور فائزر کمپنی کی ویکسین تحصیل ہسپتال جہانیاں میں موجود ہے تو تحصیل میلسی کے ویکسی نیشن سنٹروں میں کیو فراہم نہیں کی جارہی علاقہ مکینوں نے ڈپٹی کمشنر وہاڑی سے فوری طور پر نوٹس لیتے ہوئے صورتحال کی طر ف توجہ دینے کا مطا لبہ کیا ہے۔    ٹبہ سلطان پور شہر میں حکو مت کی جانب سے جاری کردہ ایس او پیزپر عملدامد نہ ہونے کے باعث کرونا وائرس تیزی کے ساتھ پھیلنے لگا ہے روانہ درجنوں پرائیویٹ ہسپتالوں میں آنے والے مریضوں میں کرونا وائرس کی تشخیص ہونے لگی ہے عوام حفاظتی اقدامات کرنے کی بجائے ایس او پیزکو نظر اندازکرتے ہوئے عوام سے روٹین کے مطابق رابطہ رکھے ہوئے ہیں سرکاری انتظامیہ بھی ایس او پیز پر عملدامد کروانے میں مکمل طور پر ناکام دیکھائی دے رہی ہے علاقہ کی مختلف تنظیموں کے افراد نے شدید احتجاج کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر وہاڑی سے فوری طور پر نوٹس لیتے ہوئے ٹبہ سلطان پور میں ایس او پیز پر عملدآمد یقینی کروانے کا مطا لبہ کیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر آغا ظہیر عباس شیرازی کی  ہدایت پر کورونا ایس ایس او پیز کی خلاف ورزی پر ضلعی انتظامیہ کا بھرپور کریک ڈاؤن جاری ہے اس سلسلے میں جمعہ کے روز اسسٹنٹ کمشنرز اور دیگر افسران نے ضلع بھر میں چھاپے مار کر 35 دکانیں سیل کردیں جبکہ ہزاروں روپے کے جرمانہ بھی وصول کئے گئے ڈپٹی کمشنر نے پرائس مجسٹریٹس کو ہدایت کی ہے کہ وہ لاک ڈاؤن نہ ماننے والے تاجروں کے خلاف بغیر کسی دباؤ کے کام کریں اور حکومتی احکامات پر ہر صورت عمل کرائیں ڈپٹی کمشنر نے متنبہ کیا ہے کہ کورونا کی صورتحال خراب ہورہی ہے اس لئے ہر شخص ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دے اور انتظامیہ سے تعاون کرے انہوں نے مزید کہا ہے کہ لاک ڈاؤن پر عمل یقینی بنانے کے لئے زیرو ٹالرینس پالیسی پر عمل کیا جارہا ہے بار بار احکامات کی خلاف ورزی کرنے والوں کو جیل کی ہوا بھی کھانی پڑ سکتی ہیسپیشل پرائس کنٹرول مجسٹریٹ تحصیل احمد پور شرقیہ قاضی محمد نعیم نے اوچ شریف میں خیر پور ڈاہا روڈ، احمد پور شرقیہ روڈ اور مین بازار میں کورونا ایس او پیز اور سمارٹ لاک ڈاؤن کے باعث جمعہ اور ہفتہ کودکانیں بند رکھنے کے حکومتی فیصلے کی خلاف ورزی پرکارروائیاں کرتے ہوئے 6دکانیں سربمہر کر دیں جبکہ شمس محل روڈ پردکان کھلی رکھنے اور سماجی فاصلہ و ماسک کے بغیر گاہکوں کو بٹھانے پر نعمان ہیئر ڈریسر کے مالک نعمان مغل کے خلاف پنجاب متعدی امراض (روک تھام و کنٹرول) ایکٹ مجریہ 2020ء کے تحت تھانہ اوچ شریف میں مقدمہ درج کرا دیا گیا، سپیشل پرائس کنٹرول مجسٹریٹ نے میڈیا کو بتایا کہ این سی او سی کے احکامات کے تحت اوچ شریف میں جمعہ اور ہفتہ کو کاروبار اور تجارتی مراکز کو بند رکھنے کا اعلان کیا گیا تھا،انہوں نے کہا کہ کریانہ سمیت دیگر مستثنیٰ شدہ کاروبار سے وابستہ افراد کوایس او پیز کے ساتھ دکانیں کھولنے کی اجازت ہے۔ ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی خانیوال کی منیجمنٹ ٹیم نے تحصیل جہانیاں ٹھٹھہ صادق آباد نواح میں قائم بنیادی مراکز صحت، کورونا ویکسی نیشن سنٹرز کا تفصیلی جائزہ لینے کے لئے دورہ کیا،دوران وزٹ ڈاکٹر عبدالمجید بھٹی چیف ایکزیکٹیو آفیسر ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی خانیوال نے مختلف بنیادی مراکز کا دورہ کیا جس میں جنرل او پی ڈی، نارمل ڈلیوری کی سہولیات ایمرجنسی ادویات کی فراہمی کے ساتھ ساتھ یونین کونسل لیول پر روٹین ویکسی نیشن اور کورونا ویکسی نیشن کا بغور جائزہ کیا،ہسپتالوں کی صفائی ستھرائی، عملہ کی موجودگی اور کلین گرین مہم کو بغور جائزہ لیا، مزید ازاں کورونا ویکسی نیشن سنٹرز اور موبائل کیمپس کی کارکردگی اور ریکارڈ کی جانچ پڑتال کی، ڈاکٹرعبدالمجید بھٹی نے تمام ہسپتالوں میں ہر قسم کی ادویات کی موجودگی اور عملہ کی موجودگی پر انچارج میڈیکل آفیسران کو مبارکباد پیش کی، ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی کی منیجمنٹ ٹیم نے ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر جہانیاں ڈاکٹر زوہیب صادق کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا۔ اور انہیں شاباش دی،اور کہا کہ یہ آپکی محنت کا ہی ثمر ہے جس کی وجہ سے پورے ضلع میں تحصیل جہانیاں ہسپتالوں کی کارکردگی کے ساتھ ساتھ کورونا ویکسی نیشن کے ٹارگٹ میں بھی پورے ضلع میں پہلے نمبر پر ہے۔ڈسٹرکٹ ہیلتھ منیجمنٹ ٹیم میں ڈاکٹر فصل الرحمن بلال ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر، ڈاکٹر ابرار اقبال پروگرام ڈائریکٹر، ڈاکٹر منیب احمد چوہدری ڈائریکٹر ای پی آئی، ڈاکٹر شہزاد سرور ڈسٹرکٹ کوآرڈی نیٹر آئی آر ایم این سی ایچ ااور شاہد الرحمن گل ڈسٹرکٹ ای پی آئی فوکل پرسن شامل تھے(محمودکوٹ اسٹیشن الفرقان  سائنس کالج میں غیر سرکاری تنظیم ہینڈز کے تعاون سے ویکسی نیشن کمیپ لگایا گیا ضلع مظفرگڑھ میں این جی او ہینڈز اور پی ایس او کے تعاون سے موبائل ویکسینشن کا آغاز 21اگست 2021 گیا تھا۔جس میں موبائل ویکسینیشن یونٹ کے ذریعے تقریبا 15 ہزار سے زائد  لوگوں  کورونا وبا سے بچا کی ویکسین لگائی  گئی۔ ان خیالات  کا اظہار ڈسٹرکٹ ایگزیکٹو  منیجر ھینڈز میڈیم سعدیہ نواز نے کیا انہوں نے مزید کہا کہ کرونا وبا پر قابو پا کر معاشی بحالی کا عمل شروع ہو گا۔کورونا وبا کے حوالے سے احتیاطی تدابیر پر مکمل عمل کیا جائے۔ ایسے افرا د جنھوں نے ابھی تک کورونا ویکسین نہیں لگوائی وہ فی الفور ویکسین لگوائیں کورونا وبا سے نمٹنے کا واحد حل ویکسین ہے لہذا تمام شہریوں سے اپیل ہے کہ وہ جلد از جلد ویکسین لگواکر نہ صرف اپنی بلکہ اپنے پیاروں کی جان بھی بچائیں انہوں نے کہاکہ ویکسین لگوانے کے بعد بھی احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں۔اس حوالے سے حکومتی ہدایات پر مکمل عمل کریں۔ضلع رحیم یار خان میں کورونا وائرس کی نئی قسم نے پنجے گاڑ لیے اموات کی شرح 2 سے پانچ تک پہنچ گئی۔شیخ زید ہسپتال میں کرونا آئی سی یو سمیت وارڈ میں مریضوں کی تعداد میں اضافہ کی وجہ سے سہولیات کا فقدان خاص طور پر وینٹی لیٹرز نایاب ہو گئے جب کہ ہسپتال انتظامیہ نے ہاتھ کھڑے کر دیئے۔آئے روز سہولیات کے فقدان کی وجہ سے اموات معمول بن گئیں۔ ایم ایس ٹی ایچ کیو خان پور ڈاکٹر خان وزیر کی خوش دامن والدہ کو طبیعت ناساز ہونے پر مقامی پرائیویٹ ہسپتال آر وائی کے ہسپتال داخل کرایا گیا جہاں تین دن علاج پر اڑھائی لاکھ خرچ ہوئے۔طبیعت میں افاقہ نہ ہونے پر شیخ زید ہسپتال ریفر کر دیا گیا جہاں پر تین دن سے انتہائی سیریس کنڈیشن میں وینٹی لیٹر کے انتظار میں کورونا ایمرجنسی وارڈ میں داخل رہیں جنہیں ورثا کی طرف سے واویلا اور حکومتی اعلی شخصیت کی مدخلت پر آئی سی یو میں داخل کر کے وینٹی لیٹر مہیا کیا گیا۔ ورثا کا کہنا ہے کہ شیخ زید ہسپتال میں آئی سی یو میں صرف سفارشی مریض داخل کیے جاتے ہیں اور جن کی کوئی سفارش نہیں ہوتی وہ زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعد مر رہے ہیں۔ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ضلع رحیم یار خان سمیت اس وقت کورونا ڈیتھ میں بھی حکومتی احکامات پر ہیر پھیر ہو رہا ہے اور کرونا سے ہونے والی اموات کو چھپایا جا رہا ہے۔روزانہ دو سے پانچ افراد کورونا سے جاں بحق ہو رہے ہیں اور بڑی مشکل سے ایک یا دو کے اعدادو شمار جاری کیے جا رہے ہیں۔کافی تعداد میں مریض شیخ زید ہسپتال معائنہ کے لیے جانے سے گھبرا رہے ہیں۔حکومتی اعدادو شمار کے مطابق ضلع رحیم یار خان میں کورونا پازیٹو کی تعداد سات سو کے قریب ہے مگر صورت حال اس سے کافی مختلف ہے اور ہزاروں لوگ گھروں میں علاج کر رہے ہیں۔کرونا آئی سی یو و کورونا ایچ او ڈی ڈاکٹر عمران بشیر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ شیخ زید ہسپتال میں وینٹی لیٹرز کی تعداد 56 ہے جس میں 13 وینٹی لیٹر کورونا آئی سی یو میں مہیا کیے گئے ہیں اس وقت مریضوں کی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے مزید ضرورت ہے جس کے لیے انتظامیہ کو آگاہ کیا ہے مگر ابھی تک میسر نہ آئے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اس وقت کرونا کی نئی قسم ڈیلٹا وائریس نے ضلع رحیم یار خان کا رخ کر لیا ہے جس کے ٹیسٹ کی سہولت صرف اسلام آباد میں میسر ہے اور بہت زیادہ مہنگا ٹیسٹ ہے جسے برداشت کرنا ناممکن ہے اس سلسلے میں 36 کے قریب کورونا میں مبتلا مریضوں کے ٹیسٹ اسلام آباد بھیجے گئے جن میں 5 مریض ڈیلٹا وائرس میں مبتلا پائے گئے۔انہوں نے ڈیلٹا وائرس کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ ڈیلٹا وائرس میں مبتلا مریض دو تین دن میں ہی موت کے منہ میں چلا جاتا ہے۔اس وائرس میں ڈیتھ کی شرح زیادہ ہے۔ وینٹی لیٹرز کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ کرونا کے مریضوں میں انکے پھیپھڑے 50 فیصد تک متاثر ہونے پر انہیں وینٹی لیٹر پر شفٹ کیا جاتا ہے جبکہ انٹرنیشنل تحقیق کے مطابق وینٹی لیٹرز پر ہائی موڈ پر ڈیتھ کی شرح 90 فیصد تک ریکارڈ کی گئی ہے اس لیے ہم کورونا وائرس کے مریضوں کو تھرڈ موڈ پر سی پیک وینٹی لیٹر کا استعمال کر رہے ہیں۔انہوں نے اس بارے میں مزید بتایا کہ کورونا کے متاثرہ مریضوں کا آکسیجن لیول کم ہو جاتا ہے۔جسے عام طور پر آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے پہلی سٹیج پر انہیں سینٹرلائز آکسیجن ٹینک سے سپلائی ہونے والی 15 سے 50 لیٹر فی گھنٹہ کے پریشر والی آکسیجن مہیا کی جاتی ہے جو کہ مریض کو ضرورت کے حساب سے مہیا کی جاتی ہے۔دوسری سٹیج پر مریض کی حالت بگڑنے پر اسے ہائی آکسیجن فلو مشین یا سی پیک موڈ وینٹی لیٹر پر شفٹ کیا جاتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ اس وقت شیخ زید ہسپتال میں کورونا سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 140ہے جوکہ سینٹرلائز پریشر آکسیجن ہائی آکسیجن فلو مشین یا وینٹی لیٹرز پر موجود ہیں۔جبکہ کافی تعداد میں کورونا وائرس سے متاثرہ مریض ہوم آئیسولیشن میں موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس وقت جان لیوا کورونا ڈیلٹا وائرس سے بچنے کا ایک ہی راستہ ہے کہ لوگ اپنی ویکسین جلد از جلد مکمل کرائیں اور ایس او پی پر عملدرآمد کرتے ہوئے آپس میں 6 فٹ کا فاصلہ رکھیں ہاتھ ملانے سے گریز کریں گھر سے نکلتے وقت ماسک کے استعمال کو یقینی بنائیں۔جبکہ بار بار صابن سے ہاتھ دھوئیں۔ محکمہ ہیلتھ کی طرف سے دیئے گئے اعداد و شمار کے مطابق کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد بڑھنا شروع ہو گئی ہے۔گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران 2 ڈاکٹرز سمیت 43 افراد میں وائرس کی تصدیق ہوگئی جنہیں ورثا کی جانب سے شیخ زید ہسپتال لایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے متاثرہ مریضوں کے سوائپ حاصل کرنے کے بعد ان میں وائرس کی تصدیق کرتے ہوئے ایس او پیز کے تحت گھروں میں ائیسولیٹ کر دیا۔ بستی ملوک کے علاقے رانا واہن میں موجود بنیادی مرکز صحت میں کرونا ایس او پیز کی کھلم کھلا خلاف ورزی۔حکومتی احکامات نو ماسک نو سروس کو ہوا میں اڑا دیا اور بنیادی مرکز صحت کا عملہ خود بھی بغیر ماسک کے کام کرنے لگاجب اس حوالے سے میڈیکل آفیسر سے بات کرنے اس دفتر گئے تو دفتر میں خالی کرسی منہ چڑا رہی تھی مقامی لوگوں نے بتایا کہ ڈاکٹر صاحب کبھی کبھار ہے ہوتے ہیں اگر آئے بھی تو گیارہ بجے کے بعد آتا ہے اہل علاوہ کا مطالبہ ہے کہ ہسپتال میں کرونا ایس او پیز کو عملدرآمد کرایا جائے اور ڈاکٹر کی موجودگی کو بھی یقینی بنایا جائے نشتر ہسپتال ملتان میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کورونا میں مبتلا مزید  02 مریض جاں بحق ،اموات کی مجموعی  تعداد 899 ہو گئی, زیر علاج کورونا میں مبتلا  مریضوں کی  تعداد 23ہو گئی،  شبہ میں 150مریض زیر علاج،  کورونا مریضوں کے لئے مختص 90 وینٹی لیٹرز   میں سے صرف 05 وینٹی لیٹر خالی رہ گئے، داخل 318 مریضوں میں سے 278 مریضوں نے موذی وائرس کے خلاف ویکسی نیشن نہیں کروا رکھی تفصیل کے مطابق فوکل پرسن نشتر ہسپتال ڈاکٹر عرفان ارشد  نے بتایا کہ  نشتر ہسپتال کے آئی سو لیشن وارڈز میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کورونا میں مبتلا  ملتان کے رہائشی 40 سالہ حسنین علی اور خانیوال کی 50 سالہ تاج بی بی نے دم توڑ دیا،یوں یکم اپریل 2020  سے 10 ستمبر   2021 کے درمیان کورونا کے باعث ہونے والی اموات کی مجموعی تعداد 899 ہو گئی ہے،جبکہ نشتر ہسپتال میں زیر علاج کورونا کہ مریضوں کی تعداد 23 ہو گئی ہے جن میں سے 15 مریضوں کا تعلق ملتان سے ہے,جبکہ کورونا کے شبہ میں 150 مریض زیر علاج ہیں جن کی رپورٹس کا انتظار  ہے،ادھر رواں سال نشتر ہسپتال میں کورونا کے شبہ میں 7ہزار 678 افراد رپورٹ ہوئے جن میں سے 2 ہزار 866 افراد میں کورونا کی تصدیق ہوئی ہے،ادھر کورونا مریضوں کے لئے  مختص   90 وینٹی لیٹرز میں سے صرف 05 وینٹی لیٹر خالی ہیں،   جبکہ کورونا آئی سو لیشن بلاک میں بستروں کی تعداد 374 کر دی گئی  ہے، جن میں سے صرف 56 خالی ہیں،ادھر ترجمان نشتر ہسپتال ڈاکٹر عرفان کے مطابق داخل 318 مریضوں میں سے 278 نے موذی وائرس کے خلاف ویکسین نہیں کروا رکھی ہے کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر سول سیکرٹریٹ ساوتھ پنجاب کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق ملتان میں 80، وہاڑی میں 05,  لودھراں میں 12،خانیوال میں 18،  بہاولپور میں 54, بہاولنگر میں 07، رحیم یار خان میں 42، مظفر گڑھ میں 12، ڈیرہ غازیخان میں 45،   لیہ میں 17 اور راجن پور میں 05 نئے کیس سامنے آئے ہیں، یوں مجموعی طور  پر ملتان سمیت جنوبی پنجاب میں کورونا کے 297 نئے کیسز سامنے آئے ہیں۔

کرونا

مزید :

ملتان صفحہ آخر -