مون سون کا تاخیری سلسلہ

مون سون کا تاخیری سلسلہ

  

مون سون کے تاخیری سلسلے کی وجہ سے پورے ملک میں تیز، موسلادھار اور درمیانی درجہ کی بارش نے جہاں موسم کی شدت دور کر دی، وہاں معمول کے مطابق نکاسی ئ آب کے مسائل نے شہریوں کی روزمرہ مصروفیات کو معطل کر دیا، کراچی میں مکان کی چھت گرنے سے والدہ سمیت تین بچے جاں بحق ہوئے اور اوکاڑہ میں چھت گر گئی،تین افراد زخمی ہوئے۔کراچی،کوئٹہ، لاہور، فیصل آباد، سرگودھا، اسلام آباد، راولپنڈی اور پشاور میں بھی نہ صرف نشیبی علاقوں میں معمول کے مطابق پانی جمع ہوا، بلکہ عام سڑکیں بھی ڈوب گئیں۔یہ صورتِ حال آمدو رفت میں پریشانی کا باعث بنی، گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں بند ہوگئیں، حتیٰ کہ نشیبی علاقوں کے گھروں میں بھی پانی داخل ہو گیا۔یوں شہری موسم سے لطف اندوز ہونے کی بجائے اپنا آپ اور سامان سنبھالتے ر ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب نے حکم جاری کیا کہ واسا افسر اور ملازم باہر سڑکوں پر رہیں اور نکاسی ئ  آب کا انتظام کریں کہ پانی جلد از جلد نکالا جائے۔ حیرت والی بات نہیں، بارش کا پانی معمول کے مطابق جمع ہوا اور اخراج میں بھی اتنا ہی وقت لے رہا ہے۔پانی اُتر جانے کے بعد بھی نشیبی علاقوں، گڑھوں اور سڑکوں کے کناروں پر سے نہیں نکالا جاتا، جو بعد میں بھی پریشانی کا باعث بنتا ہے۔واسا حکام نے موقع پر دیکھ کر تحقیق کا عمل نہیں کیا کہ بارش کا پانی جہاں کھڑا رہے، وہاں سے خارج بھی ہو، بارش کے ساتھ بجلی نے بھی معمول کے مطابق پریشان کیا۔صرف لاہور میں ڈیڑھ سو سے زیادہ فیڈر ٹرپ کر گئے، لیسکو حکام کے مطابق بارش تھم جانے پر بحالی کا کام شروع ہو گا۔

مزید :

رائے -اداریہ -