ہمارا سیاسی مزاج، بلاول اور مولانا آمنے سامنے!

ہمارا سیاسی مزاج، بلاول اور مولانا آمنے سامنے!
ہمارا سیاسی مزاج، بلاول اور مولانا آمنے سامنے!

  

ہمارے ملک میں سیاست بھی تغیر کا شکار ہی رہتی ہے، سیاسی جماعتیں اور عناصر باہمی شیر و شکر نظر آئیں تو پھر وہ وقت بھی آ جاتا ہے جب یہ مخالف کناروں پر کھڑے ہوں۔ ایک کا رخ اگر مشرق کی طرف ہو تو دوسرا مغرب کی طرف کر لیتا ہے۔ آج کل پھر نئی صورتِ حال بن رہی ہے۔ ماضی قریب کے حلیف حال کے حریف بن کر سامنے آ گئے ہیں،اس میں میرے لئے دلچسپی یا تشویش بلاول بھٹو زرداری کی حالیہ تقاریر اور مولانا فضل الرحمن کا جواب ہے۔اس سے قبل کہ اس صورتِ حال پر اپنے رائے ظاہر کروں، ذرا ماضی پر نظر دوڑا لیتے ہیں،اس دور سے اندازہ ہو گا کہ آج اگر پیپلزپارٹی اور جمعیت علماء اسلام(ف) آمنے سامنے نظر آنے لگی ہیں تو ماضی میں یہ جماعتیں ایک حد تک نظریاتی طور پر بھی ایک دوسرے کی حلیف تھیں۔یہ وقت1969ء سے 1970ء کا تھا، جب ذوالفقار علی بھٹو نے پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی۔ ان کے ترقی پسند ساتھیوں نے جماعت کا جو منشور ترتیب دیا وہ چار اصولی نعروں پر مشتمل تھا۔

اسلام ہمارا دین ہے، اور سوشلزم ہماری معیشت ہے۔ کے دو نعرے اور بائیں بازو کی محاذ آرائی عروج پر تھی۔ ایشیا سرخ ہے اور ایشیا سبز ہے کے نعرے لگتے تھے۔ ترقی پسند عناصر کی اکثریت پیپلزپارٹی کی صفوں میں آ چکی تھی، ایسے میں دائیں بازو کی طرف سے ایشیا سرخ والوں کو گمراہ اور سوشلزم کو کفر قرار دینا شروع کر دیا گیا تھا۔معاشرے میں سخت تناؤ تھا۔ کفر کے فتوؤں سے حالات خراب تر تھے، ان دِنوں مَیں روزنامہ ”امروز“ میں تھا۔ ایک روز میرے چیف رپورٹر عبداللہ ملک نے ڈیوٹی لگائی کہ مَیں اس وقت جمعیت علماء اسلام(متحدہ) کے صوبائی صدر مولانا عبید اللہ انور کا انٹرویو کروں، میری رہائش اکبری دروازہ میں تھی اور دینی بزرگوں سے قربت کے باعث رپورٹنگ کے لئے بھی کہا جاتا تھا۔ مولانا عبید اللہ انورسے بھی سلام دعا تھی، مَیں شیرانوالہ دروازہ میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا، اور ان سے حالاتِ حاضرہ پر گفتگو کی۔مولانا نے بہت ہی واضح طور پر سوشلزم کے کفر  ہونے کی نہ صرف تردید کی،بلکہ فتوے کی مذمت بھی کی۔ ان کے انٹرویو کی اشاعت سے پیپلزپارٹی کو تقویت ملی اور ہر دو جماعتوں کے تعلقات 1977ء تک بہتر رہے۔

اگرچہ درمیان میں مولانا مفتی محمود کی طرف سے موجودہ خیبرپختونخوا صوبے کی وزارت اعلیٰ سے استعفا بھی پریشانی کا باعث بنا، یہ وہ دور ہے جب ہمارے مولانا فضل الرحمن صاحبزادے تھے،پھر پاکستان قومی اتحاد کا وقت آ گیا، جب اس اتحاد کے سربراہ مولانا مفتی محمود ہوئے اور یہ محاذ آرائی ذوالفقار علی بھٹو کی سزائے موت کے عمل درآمد پر منتج ہوئی۔بعد ازاں جنرل ضیاء الحق کی ”آمریت“ نے نوابزادہ نصر اللہ کو متحرک کر دیا اور وہ آگ پانی جمع کر کے ایم آر ڈی بنانے میں کامیاب ہوئے۔جمعیت اور پیپلزپارٹی قریب آ گئے اور یہ سلسلہ موجودہ پی ڈی ایم تک رہا کہ مولانا فضل الرحمن صاحبزادے سے امیر جمعیت بن گئے۔1988ء کے انتخابات کے دوران محترمہ اور مولانا فضل الرحمن کے درمیان غلط فہمیاں دور ہوئیں،پھر صدارتی انتخاب کے مسئلہ پر اختلاف بھی ہوا، لیکن جلد ہی یہ مرحلہ بھی نکل گیا۔(یہ طویل قصہ ہے، پھر کبھی سہی) مولانا نے تعاون کیا اور خاتون کی سربراہی کے حوالے سے محترمہ کا ساتھ دیا تھا۔یہ تعلقات ہی تھے کہ پیپلزپارٹی کے دور ہی میں وہ کشمیر کمیٹی کے سربراہ بنے تھے۔

اب جو ہوا، وہ ہم لوگوں کے لئے پس منظر اور پیش منظر کی وجہ سے دلچسپ ہے۔ بلاول بھٹو زرداری مضطرب اور پُرجوش تھے اور مولانا سے دیرینہ مراسم (پیپلزپارٹی+ محترمہ) سے مستفید ہوئے اور ایک گول میز کانفرنس ہو  گئی جس کا نتیجہ مولانا فضل الرحمن کی سربراہی میں پی ڈی ایم (پاکستان جمہوری تحریک) کے اتحاد کی صورت میں نکلا۔ مولانا سربراہ ہوئے، مسلم لیگ(ن) اور پیپلزپارٹی اہم جماعتیں تھیں، تاہم سیاسی تعصب دور نہ ہو پایا۔ یہ اتحاد دشمن کا دشمن، دوست کے فارمولے کے تحت تھا، ہر جماعت اپنی پوزیشن بہتر کرنے کے لئے فکر مند رہی، فکری اتحاد نہ ہونے سے بات جدائی تک آ گئی۔پیپلزپارٹی اور اے این پی بوجوہ الگ ہو گئیں،جبکہ پی ڈی ایم باقی ماندہ جماعتوں پر مشتمل بحال رہی، ہر دور کا موقف اپنا اپنا تھا۔

اب تازہ ترین صورت حال بلاول بھٹو کی جنوبی پنجاب والی مہم کے نتیجے میں پیدا ہوئی ہے،بلاول بتدریج آگے بڑھے اور اب انہوں نے پی ڈی ایم کو حزبِ اختلاف ماننے ہی سے انکار کر دیا،اور ان کی گفتگو طعنہ زنی تک آ گئی۔انہوں نے کہا اپوزیشن کا کردار ادا کرو، حکومت کے سہولت کار نہ بنو۔یہ کٹھ پتلی کی کٹھ پتلی حکومت ہے، اکٹھے زور لگاؤ  یہ گر جائے گی۔ قارئین! خود اندازہ لگائیں کہ یہ مولانا کے لئے قابل برداشت تھی؟ مولانا نے ترکی بہ ترکی جواب دیا، پیپلزپارٹی  اسٹیبلشمنٹ سے مل گئی ہے، بقول شاعر ”اتنی نہ بڑھا، پاکی داماں کی حکایت“ کے مطابق مولانا فرماتے ہیں،ہمیں سب علم ہے،منہ نہ کھلواؤ، جو پیشکش پیپلزپارٹی کو ہوئی وہ ہمیں بھی ہوئی تھی،ہم نے ٹھکرا دی، اب خود ہی غور فرمائیں کہ ہر دو فریق کیا کہہ رہے ہیں، اور مولانا محترم نے تو اقرار ہی کر لیا ہے کہ ان کے بھی اسٹیبلشمنٹ سے رابطے ضرور ہیں۔بات ماننا یا نہ ماننا یہ مختلف بات ہے، اب اگر یہی صورتِ حال سامنے آئی ہے تو پھر کس کا شکوہ کس کے ساتھ، اس سے تو ثابت ہوا کہ یہ سب ایک ہیں اور ہر کسی کی خواہش بھی ایک سی ہے۔ اب اگر یہ کہا جائے کہ عمران حکومت یہ پانچ سال یقینا پورے کرے گی تو اس میں غلط کیا ہو گا؟ان حضرات کو خود ہی اپنی اداؤں پر غور کرنا ہو گا کہ کیا کہہ رے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ مولانا فضل الرحمن اپنے پہلے دھرنے کو ختم کرنے والے حوالے سے بات کر رہے ہیں،جب چودھری برادران کی ملاقات اور مذاکرات کے بعد اختتامی اعلان ہوا تھا، اگرچہ مولانا نے جب کہا ہمارے ساتھ وعدے پورے نہ کئے گئے تو چودھری برادران  نے وضاحت کر دی تھی۔

یہ حالات عوامی اور ملکی سطح پر اچھے نہیں کہ حکومت کی بری کارکردگی عوام کے مصائب میں اضافہ کرتی جا رہی ہے،اور اپوزیشن کو اس کا ادراک نہیں۔یہ بھی عوام کا نام لے کر عوامی مسائل سے آنکھ چرا رہی اور آپس میں لڑ رہی ہے۔ملکی امور کے لئے ہر سطح پر اتفاق رائے ضروری ہے،اپنے اندازِ فکر پر سب کو غور کی ضرورت ہے۔میں نے  طویل عرصہ سیاسی رپورٹنگ میں گزارا اور بہت کچھ یاد ہے اور کچھ امانت بھی،مولانا سے تعلق پرانا ہے جب وہ صاحبزادے تھے، احترام واجب اس لئے کئی باتیں ہماری امانت والی ہیں، بات یہاں ختم کرتے ہیں،کہ یہ لڑائی کسی کے بھی مفاد میں نہیں۔

مزید :

رائے -کالم -