تبدیلیوں اور معطلیوں سے تبدیلی نہیں آتی

تبدیلیوں اور معطلیوں سے تبدیلی نہیں آتی
تبدیلیوں اور معطلیوں سے تبدیلی نہیں آتی

  

دنیا بھر میں پاکستان شاید واحد ایسا ملک ہے جہاں عوام اور میڈیا کی رائے کو سب سے زیادہ اہمیت دی جاتی ہے اور اس مقصد کے لئے امن و امان، عوامی مفاد حتیٰ کہ قومی مفاد کو بھی داؤ پر لگا دیا جاتا ہے۔

امریکہ میں 11 ستمبر کا سانحہ پیش آیا۔ زور و شور کے ساتھ بحث ہوئی کہ غلطی کس کی ہے؟ عوامی نمائندوں، میڈیا اور حکومت کے لوگوں نے کھل کر اس کا ذمہ دار سی آئی اے کو قرار دیا۔ سی آئی اے اس سانحہ کے ذمہ داروں کے متعلق لاعلم رہی تھی۔ یہ انٹیلی جنس کی بہت بڑی غلطی تھی۔ ایک ایسی غلطی جس نے امریکہ کو تبدیل کر دیا تھا اور اس غلطی کی وجہ سے امریکہ کو دو بڑی جنگیں لڑنا پڑیں۔ خود سی آئی اے کے افسران نے اپنی کوتاہی کا اعتراف کیا۔ ایسی صورت حال پاکستان میں پیش آتی تو کیا ہوتا؟ انٹیلی جنس کے تمام بڑے افسران کو تبدیل کر دیا جاتا اور ان کی جگہ جونیئر یا ایسے لوگوں کو لگا دیا جاتا جنہیں انٹیلی جنس کے کام کا سرے سے علم ہی نہ ہوتا۔ میڈیا میں حکومت کی تعریف ہوتی۔ تنقید ہوتی اور پھر کوئی نیا واقعہ میڈیا کا ایجنڈا بن جاتا۔ آپ کو یاد ہو گا کہ فردوس عاشق اعوان صاحبہ نے ایک تھپڑ مار دیا تھا۔ یہ تھپڑ کئی ہفتے تک میڈیا کے پرائم ٹائم شو کا حصہ رہا۔ اسی دوران ایک دہشت گردی کا واقعہ بھی پیش آیا جس میں متعدد لوگ شہید اور زخمی ہوئے مگر اس پر زیادہ توجہ نہیں دی گئی۔ میڈیا فردوس عاشق اعوان کے تھپڑ کے سحر میں مبتلا رہا اور اس ایجنڈے سے باہر نہ نکل سکا۔ مگر امریکیوں نے ایسا نہیں کیا۔ انہوں نے سی آئی اے کا نہ تو ڈائریکٹر تبدیل کیا اور نہ ہی نچلی سطح پر تبدیلیاں کیں۔

جارج ٹینٹ سی آئی اے کے ڈائریکٹر رہے اور وہ پوری دنیا میں اپنے ادارے کے ذریعے کارروائیاں کرتے رہے۔ حکومت نے سی آئی اے کی فنڈنگ بڑھا دی۔ ان کے اختیارات میں اضافہ کر دیا۔سی آئی اے اور ایف بی آئی کے درمیان ورکنگ ریلیشن شپ کو بہتر بنایا گیا۔ داخلی سکیورٹی کے لئے ایک نیا ادارہ بنا دیا۔ جارج بش نے ٹرانسفر کے پاکستانی نسخہ کو استعمال کرنے سے پرہیز کیا۔ البتہ ان سے ایک بہت بڑی غلطی ہو گئی۔ انہوں نے عراق پر حملہ کر دیا۔ افغانستان پر حملے کی وجہ تو 11ستمبر کا سانحہ تھا۔ مگر عراق پر حملہ کرتے ہوئے امریکی عوام کو بتایا گیا کہ صدام حسین کے پاس بڑے پیمانے پر تباہی والے خطرناک ہتھیار ہیں جو نہ صرف امریکہ بلکہ دنیا کے امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ عراق پر حملہ ہوا، قبضہ ہوا۔ مگر جن ہتھیاروں کو جواز بنا کر حملہ کیا گیا تھاکہیں نہ ملے۔ اگر امریکی پنجاب پولیس کے کسی ریٹائر افسر کو مشیر رکھ لیتے تو وہ اس شرمندگی سے بچ جاتے جس کا بش انتظامیہ کو سامنا کرنا پڑا۔ سی آئی اے کے پاس اپنے جہاز ہیں وہ کچھ خطرناک قسم کے ہتھیار عراق کے کسی دورافتادہ مقام پر رکھتے۔ پھر عالمی میڈیا دکھا رہا ہوتا کہ صدام حسین کے پاس کتنے خطرناک ہتھیار تھے اور وہ عالمی امن کے لئے کیسا خطرہ بن سکتا تھا۔ مگر امریکیوں نے یہاں خاصی نالائقی کا ثبوت دیا۔ انہوں نے الزامات کا سامنا کرنے کا فیصلہ کیا۔ کولن پاول نے اسے اپنے کیریئر پر سب سے بڑا دھبہ قرار دیا۔ دوسرے امریکی اہلکار بھی الزام قبول کرتے رہے اور انہوں نے اسے اپنی غلطی قرار دیا۔

صدر بش کے بعد بارک اوبامہ آئے۔ انہوں نے انتخابی مہم کے دوران بش انتظامیہ کی پالیسیوں  پر کڑی تنقید کی تھی۔ انہوں نے اقتدار میں آنے کے بعد صدر بش، ڈک چینی، کولن پاول اور سی آئی اے چیف کے احتساب کے لئے کوئی کارروائی نہیں کی۔ انہوں نے ان لوگوں کو احتساب کے ادارے کے سپرد نہیں کیا۔ صدر بارک اوبامہ نے وہی کچھ کیا جو ان سے پہلے امریکی صدر کرتے آئے تھے۔ انہوں نے اپنے اقتدار کا مقصد جارج بش، ڈک چینی، کولن پاول اور جارج ٹینٹ کو جیل میں پہنچانا قرار نہیں دیا۔ سی آئی اے کے ذریعے ہی انہوں نے اسامہ بن لادن کا سراغ لگایا اور کارروائی کی۔ انہوں نے قوم کو ماضی کے اندھیروں میں لے جانے کی بجائے مستقبل کی روشنیوں میں لے جانے کافیصلہ کیا اور امریکی قوم نے ان کی کارکردگی پر انہیں دوسری مدت کے لئے بھی صدر منتخب کر لیا۔ امریکیوں نے اوبامہ کی اس نالائقی کو اسی طرح نظرانداز کر دیا جیسے گزشتہ انتخابات میں انہوں نے اوبامہ کے والد کو ان کے لئے مسئلہ نہیں بننے دیا تھا۔ امریکی جانتے تھے کہ اوبامہ کا والد سیاہ فام ہے، مسلمان ہے اور غریب طبقے سے تعلق رکھتا ہے۔ انہیں اوبامہ کی خامیاں نظر نہیں آتی تھیں۔ ان کی نظر اوبامہ کی ذہانت، فطانت، بصیرت اور قائدانہ صلاحیتوں پر تھی۔

قائداعظمؒ نے اپنی جدوجہد کے دوران کامیابی کے لئے کوئی بھی غیر اخلاقی حربہ اختیار کرنے سے انکار کر دیا تھا، مگر وہ انگریزوں اور ہندوؤں کی بھرپور مخالفت کے باوجود پاکستان حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ نیلسن منڈیلا کو سفید فاموں نے برسوں جیل میں رکھا۔ ان کو ناقابل بیان تشدد کا نشانہ بناتے رہے مگر وہ اقتدار میں آئے تو انہوں نے سب کو معاف کر دیا اور اپنے ساتھیوں کے اس اصرار کے باوجود معاف کر دیا کہ کچھ برے لوگوں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ انہوں نے قوم کو انتقام کی خطرناک دلدل میں دھکیلنے کی بجائے روشن مستقبل کی طرف راہنمائی کی۔

پاکستان میں جب بھی حکومت کی کارکردگی پر سوال اٹھتے ہیں تو متعلقہ اداروں کے سربراہوں کو تبدیل کر دیا جاتا ہے۔ پنجاب کے چیف سیکرٹری بار بار تبدیل ہو چکے ہیں اور آئی جی پنجاب ٹرانسفر کا ذائقہ چکھ چکے ہیں۔ کیا یہ تبدیلی حالات کو تبدیل کر دے گی؟اگر امریکی دانش سے اس کا جواب حاصل کرنے کی کوشش کی جائے تو جواب نفی میں ملے گا۔ تبدیلیاں اور معطلیاں میڈیا اور عوام کو وقتی طور پر مطمئن تو کر سکتی ہیں۔ حکومت کے لئے تعریف و تحسین کی وجہ بھی بن سکتی ہیں مگر ان سے معاملات میں بہتری کی امید نہیں کی جا سکتی۔ تبدیلیاں اور معطلیاں افسروں کے مورال پر بہت برا اثر ڈالتی ہیں۔ بعض لوگ اس پالیسی کو کرپشن میں اضافے کی بڑی وجہ بھی قرار دیتے ہیں۔ہم امریکیوں کی غلط کاریوں کو اپنانے میں تو زیادہ تردد نہیں کرتے۔ ہمیں امریکیوں کے ان چند نسخوں پر عمل کر کے بھی دیکھ لینا چاہیے جن کی وجہ سے امریکہ سپر پاور ہے اور ان میں سے سب سے اہم نسخہ یہ ہے کہ آپ دوسروں پر اعتماد کریں اور انہیں اعتماد دیں اور اس حقیقت کو بھی تسلیم کریں کہ انسانوں سے غلطیاں ہوتی ہیں اور انسانی غلطیوں کی وجہ سے جیل یاترا کے خوف کا کلچر قومی روح کو دیمک کی طرح چاٹ سکتا ہے اور قوم کو کسی بڑے حادثے سے دوچار کر سکتا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -