بعد اَز خدا بزرگ تُو ہی

بعد اَز خدا بزرگ تُو ہی
بعد اَز خدا بزرگ تُو ہی

  

سورۃ الا حزاب کی آیت نمبر 40میں رَبّ العزت نے قیامت تک آنے والے انسانوں پر واضح کر دیاکہ ”محمدؐ  تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں،بلکہ بلا شک و شبہ وہ خداکے پیغمبر ہیں اور جملہ پیغمبروں میں آخری ہیں اورخدا ہر چیز کا علم رکھتا ہے“اِسی طرح سورۃ مائدہ کی آیت نمبر3میں رَبّ العزّت نے ارشادفرمایا:”آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کر دیااور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لئے اسلام کو دین پسند کیا“۔علماء اور فقہاء نے ”نعمت“ سے مراد آپؐ کی ذاتِ گرامی لی ہے جن کے ذریعے سے دین ِ اسلام نازل ہوا۔

ساتویں صدی ہجری میں آپؐ کی حیاتِ مبارکہ کے دوران ہی دو جھوٹے نبی منظرِ عام پر آئے ایک کا نام اَسود بن صنعا یمنی تھا اور دوسرے کا نام مسلمہ ابن حبیب تھا، جو بعد میں مسیلمہ کذّاب کے نام سے مشہور ہوا۔اس کا تعلق عرب کے ایک بڑے قبیلے بنو حنیفہ سے تھا جو نجدمیں آباد تھا۔وہ عربی میں اشعار و جملے گھڑ کر لوگوں کے سامنے اُنہیں آیات کے طور پر پیش کرتا،اورچالیس ہزار تک پیرو کار اپنے گرد اکٹھے کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ الطبری کے مطابق 10ہجری کے اختتامی اَیّام میں اس نے رسولِ پاکؐ  کو ایک خط لکھا،جس کا ترجمہ کچھ یو ں ہے۔مسیلمہ،خدا کے پیغمبرکی جانب سے،محمد،ؐ خدا کے پیغمبر کے نام،۔آپؐ پر سلام ہو، مجھے اس(نبوّت) کے معاملہ میں آپؐ کے ساتھ حصّہ دار بنایا گیا ہے۔آدھی زمین ہماری ملکیت میں ہے اور آدھی کے مالک قریش ہیں،لیکن قریش کے لوگ حد سے تجاوز کرنے والے ہیں“۔ اس خط کا جواب آپؐ نے کچھ یوں دیا،”محمدؐ، خدا کے پیغمبر کی جانب سے، مسیلمہ، صریحاً جھوٹے کے نام۔ سلامتی ہو اس پر جو خداکی ہدایت پر چلتا ہے۔ اس کے بعد بلا شک و شبہ زمین (پربادشاہی) خدا کی ہے۔وہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے عنایت کر دیتا ہے۔حتمی مسئلہ خدا سے ڈرنے والوں کا ہے“۔

آپ ؐنے لوگوں پر واضح کیا ”میں آخری نبی ہوں،میرے بعد کوئی نبی نہیں“۔آپؐ نے اپنے بعد نبوت کے امکان کو حتمی طور پر رَد کرنے کے لئے فرمایا، ”کہ اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا، تو حضرت عمرؓ بن خطاب ہوتے“۔ ”تم سے پہلی اُمّتوں میں محدّث ہوا کرتے تھے۔ اگر میری اُمّت میں کوئی محدّث ہوتا تو عمرؓ ہوتا“۔ایک موقع پر حضرت علیؓ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا،”تمہیں مجھ سے وہ نسبت ہے جو ہارون ؑکی موسیٰ   ؑسے تھی۔اتنا فرق ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں،رسالت اور نبوّت تو ختم ہو چکی، میرے بعد نہ کوئی رسول آئے گا،نہ ہی نبی“۔

پھر فرمایا:”میری اُمّت میں تیس جھوٹے پیدا ہوں گے۔ان میں سے ہر ایک یہ گمان کرے گا کہ وہ نبی ہے،حالانکہ میں سب نبیوں کے اخیر میں آیا ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں“۔”مجھے تمام مخلوقات کے لئے نبی بنا کر بھیجاگیا،اور میرے اوپر نبیوں کا یہ سلسلہ اختتام پذیر ہوا“۔”میں آخری نبی ہوں اور تم آخری اُمت“۔اسی طرح اگر قرآن و حدیث سے ختم ِ نبوّت پرمزید رہنمائی لی جائے تو معلوم ہو گاکہ کم و بیش 100آیاتِ قرآن اور 200احادیث ِ نبویؐ مُہر تصدیق ثبت کرنے کے لئے موجود ہیں۔

آپؐ کے رِحلت فرما جانے کے بعد خلیفہئ اوّل حضرت ابو بکر صدیق   ؓ اور صحابہ کرام ؓ کے سامنے پہلا بڑا چیلنج جھوٹے نبیوں کی سَرکوبی تھا،جس کے لئے(حُرُوب اَلرَّدَۃ)کا آغاز کیا گیا۔اس سلسلہ کی پہلی کڑی مسیلمہ کذّاب سے جنگ تھی،جو دسمبر632ء کو یمامہ کے مقام پر لڑی گئی۔تیرہ ہزار صحابہ کرامؓ  کو مسیلمہ کذّاب کے اسلحہ سے لیس چالیس ہزار جنگجوؤں کا سامنا تھا،اس کے اتّحادیوں میں دو جھوٹے نبی اَسود بن صنعا اور سجاہ بنت الحارث(جو اس کی بیوی بن چکی تھی)بھی تھے۔ اس جنگ سے قبل جُملہ جنگوں میں کل 259 صحابہ کرامؓ شہید ہوئے تھے۔مگرجنگ ِ یمامہ میں 1200 صحابہ ختم نبوّت کے تحفّظ میں شہید ہوئے۔

رسولِ پاکؐ کی حدیث کی روشنی میں جھوٹے نبیوں کے وارد ہونے کا سلسلہ چلتا رہا ہے۔کبھی غلام احمد قادیانی کی صورت میں،کبھی کوئی برازیل میں،اور کبھی کہیں اور رونما ہوا۔ اگر جنگِ یمامہ میں صحابہ کرام ؓ  ختم ِ نبوّت کے تحفّظ میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش نہ کرچکے ہوتے تو عین ممکن ہے کہ جھوٹے نبیوں کا سلسلہ ایک تسلسل سے یکے بعد دیگرے جاری رہتا۔

7ستمبر کا دن جب بھی آتا ہے ہمارے ہاں اس کی یاد دو طرح سے منائی جاتی ہے۔ ایک 1965ء کی جنگ کے حوالے سے پاکستان ائیر فورس کے پائلٹوں کی شجاعت اور بہادری کے طور پر اوردوسرامرزائیوں کو بذریعہ آئینی ترمیم سرکاری طور پر کافر قرار دینے کی صورت میں!

 غریب اور اَن پڑھ علاقوں میں، قادیانی رضاکاروں کی آزاد انہ تبلیغ سے کم علم اور غریب مسلمانوں کے بہکنے کے اندیشہ کے پیش نظر، علماء اور صاحب ِ علم حضرات میں ایک بے چینی سی پائی جانے لگی۔مختلف مکاتب فکر کے اَکابرین، فروعی اختلافات کے باوجود اس بات پر متفق نظر آئے کہ قادیانیوں کی اسلام کے نام پر آزاد اور بلا روک ٹوک کاروائیوں کو روکا جا سکے۔ کئی جگہوں پر فسادات پھوٹ پڑے۔جیسے 1953ء کے فسادات، جن کے نتیجے میں تین علما کرام کو سزائے موت سنائی گئی۔معاملات مسلسل تشویش کا باعث رہے۔ بالآخر 1974ء میں اتفاق رائے سے قومی اسمبلی میں مولانا شاہ احمد نورانی ؒ کی  سربراہی میں کامیابی کے ساتھ قرار داد  پیش کی گئی،جس کے نتیجے میں قادیانی کافر ٹھہرے۔

آج شہروں کے مضافات میں قائم ہونے والی نئی کالونیوں اور آبادیوں میں مرزائیوں کی آبادکاری زور و شور سے جاری ہے، جہاں عدم جانکاری کے باعث مکینوں، بالخصوص بچوں کا میل ملاپ آزاد ہے۔ بجائے اس کے کہ قادیانیوں کے خلاف تشدد آمیز کاروائیوں یا دیگر شدت پسندانہ اقدام کا سوچا جائے،گھروں اور مساجد کے اندر ختم نبوّت سے متعلق تعلیم و تربیّت کا باقاعدہ اہتمام کیا جائے اور بچوں کوقادیانی تبلیغی مواد میں چُھپے اس مواد کی نشاندہی اور جانکاری دی جائے، جس سے سادہ لوح افراد کے دامِ فریب میں آنے کا خطرہ زیادہ ہے۔عین ممکن ہے کہ ہماری یہ کوشش ہمیں اسلام کے معانی کو سمجھنے اور تحفّظ ختم ِ نبوّت کا داعی بنانے میں کارگر ثابت ہو۔

مزید :

رائے -کالم -