حکمرانوں کے کاریگر مشیران کرام اور غربت کے مارے عوام 

حکمرانوں کے کاریگر مشیران کرام اور غربت کے مارے عوام 
حکمرانوں کے کاریگر مشیران کرام اور غربت کے مارے عوام 

  

حکمرانوں کے مشیران کی نوکری بھی بڑی سخت ہوتی ہے۔ انہوں نے سفید کو سفید نہیں کہنا ہوتا بلکہ سیاہ کو سفید کرنا ہوتا ہے۔ ایسے چاپلوسوں کے نرغے میں آکر وقت کے حکمران یہ سمجھنے لگتے ہیں وہ مقبولیت کے ساتویں آسمان پر اُڑ رہے ہیں۔ یہ خیالی دنیا انہیں اپنے حصار میں لے لیتی ہے اور ان کے مشیر اس پر پہرہ دیتے ہیں۔ بعض لوگ پوچھتے ہیں یہ حاکموں کے وزیر و مشیر ماورائے حقائق باتیں کیسے کر لیتے ہیں، انہیں یہ باتیں کیسے ہضم ہو جاتی ہیں تو اس کا جواب یہ ہے ”نوکر کی تے نخرہ کی“، جب نوکری ہی اس بات کی کرنی ہے تو پھر نخرہ تو نہیں ہو سکتا۔ اس ضمن میں تازہ ترین پھلجھڑی وزیراعظم کے ترجمان شہباز گل نے چھوڑی ہے۔ فرماتے ہیں وزیراعظم مٹی میں بھی ہاتھ ڈالتے ہیں تو وہ سونا بن جاتی ہے۔ وزیراعظم اگر سونا بنانے والے پیر و مرشد بن گئے ہیں تو پھر انہیں غریبوں کی حالت بدلنے پر بھی کوئی دم درود کرنا چاہیے، جن کی حالت دن بدن پتلی ہوتی جا رہی ہے۔ ابھی کل ہی ایک غریب شخص نے تین بچوں کو زہر دے کر خودکشی کی ہے۔کم از کم ایسے لوگوں کو تو وزیراعظم پھونک مار کر غربت سے نکالیں تاکہ وہ بھوک و ننگ کے ہاتھوں مجبور ہو کر اپنے بچوں کو قتل کر کے خود کشیاں نہ کریں۔ وزیراعظم نے مٹی کو سونا بنایا ہے یا سونے کو مٹی میں تبدیل کر دیا ہے، اس کا فیصلہ تو زمینی حالات دیکھ کر ہی کیا جا سکتا ہے، چونکہ شہباز گل جیسے ترجمان آسمان پر رہتے ہیں، ہر چیز انہیں سرکار کے کھاتے سے مل جاتی ہے۔ اس لئے انہیں ہر طرف سونا ہی سونا نظر آتا ہے۔ وگرنہ حالت تو اس قدر خراب ہے جو پرانے پاکستان میں دو وقت کی روٹی سکھ چین سے کھا لیتے تھے، انہیں نئے پاکستان میں ایک وقت کی روٹی کے بھی لالے پڑے ہوئے ہیں۔

ہر روز کوئی نئی خبر آ جاتی ہے کہ حکومت مزید کسی ٹیکس کے بارے میں سوچ رہی ہے یا بجلی کے نرخ بڑھانے کی تیاری کررہی ہے۔ کوئی مشیر وزیراعظم کو یہ نہیں سمجھاتا حضور عوام کے گھروں میں ڈالروں یا سونے کے پلانٹ نہیں لگے ہوئے کہ وہ نکال نکال کر آپ کی بڑھائی ہوئی قیمتوں کا کفارہ ادا کرتے رہیں گے۔ ان کی تو رہی سہی اشیاء بھی مہنگائی کے ہاتھوں بک چکی ہیں، کوئی مکان کا کرایہ دینے کی سکت نہیں رکھتا اور کسی کے پاس بجلی کا بل دینے کے پیسے نہیں، کوئی آٹا خریدنے کو ترس رہا ہے اور کسی کے پاس بچوں کی فیس دینے کے لئے رقم نہیں۔ یہ کیسے وزیراعظم کو سونا بنانے کی مشین قرار دے رہے ہیں، ان بے حس مشیروں کو یہ کہتے ہوئے ذرہ بھر بھی حجاب محسوس نہیں ہوتا کہ خلقِ خدا کے سینے پر مونگ دل رہے ہیں، ہاں اگر اس کا مطلب یہ ہے وزیراعظم غریبوں کی جیبوں سے آخری پیسہ تک نکلوانے میں مہارت حاصل کر چکے ہیں اور اسی وجہ سے وہ مٹی کو سونا بنانے والے حکمران بن گئے ہیں تو یہ بات درست کہی جا سکتی ہے۔ جن لوگوں کی آمدنی پچھلے دورِ حکومت میں ان کے خرچ سے زیادہ یا کم از کم برابر تھی، آج وہ مقروض ہو چکے ہیں، نچلا تنخواہ دار طبقہ آدھا مہینہ گزرتا ہے تو خالی جیبوں سے دکانداروں کے سامنے ادھار کے لئے منتیں کر رہا ہوتا ہے۔ ان کا تو سونا بھی مٹی بن گیا ہے۔ بجائے اس کے وزیراعظم کو حالات کی اصل شکل دکھائیں، ان سے درخواست کریں کہ مہنگائی پر قابو پانے کے لئے کوئی عملی قدم اٹھائیں، یہ کاریگر مشیر و ترجمان ایسی فضا باندھتے ہیں کہ وزیراعظم ان کے خوشامدی جملوں سے نہال ہو جاتے ہیں۔ تقریبات میں بڑی خوشنما تقریریں کرتے ہیں، ایسی فضا بناتے ہیں کہ ہر طرف خوشحالی بھنگڑے ڈالتی نظر آتی ہے۔ حالانکہ درحقیقت اس وقت ہر طرف بھوک، غربت، افلاس اور بے روزگاری نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔ شہروں کی چکا چوند سے متاثر ہونے والے ذرا اس ستر فیصد آبادی کی طرف دیکھیں جو پسماندگی اور محرومی کے اذیت ناک ماحول میں زندگی گزار رہی ہے۔

چاہیے تو یہ جب کابینہ کا اجلاس ہو یا وزیراعظم اپنے ترجمانوں کا اجلاس بلائیں تو ان کے سامنے سب مل کر یہ حالات رکھیں اور درخواست کریں حضور مہنگائی کا کچھ توڑ کریں، غربت میں کمی لائیں، حالات بہت ناسازگار ہو چکے ہیں، لوگ اب تحریک انصاف کے ارکانِ اسمبلی کو پتھر مارتے ہیں۔ ترجمانوں کو تو دور سے دیکھ کر ہائے ہائے کرتے ہیں، مگر کہاں صاحب خوشامدی کلچر میں کون سچ بولتا ہے اور پھر سچ بول کر کون اپنی خوشنما عہدے والی کرسی سے محروم ہونا چاہتا ہے۔ سو ایسے اجلاسوں میں صرف واہ واہ ہوتی ہے۔ مٹی کو سونا بنانے والے بیانات دیئے جاتے ہیں۔ کوئی یہ نہیں بتاتا وزیراعظم صاحب آج ایک شخص نے غربت اور بھوک سے تنگ آ کر بچوں سمیت خودکشی کر لی، کوئی یہ نہیں کہتا مدینے کی ریاست میں تو کتے کا بھوک سے مرنا بھی قابلِ احتساب ہوتا ہے، یہاں تو انسان مر رہے ہیں، بچوں کو مار رہے ہیں۔ باخبر سے باخبر حکمران بھی مشیروں اور وڈیروں کے نرغے میں آکر حقائق سے دور ہو جاتا ہے۔ یہ معاملہ صرف عمران خان کے ساتھ نہیں، ہر حکمران کے ساتھ رہا ہے۔ آنکھ اس وقت کھلتی ہے جب دریا طوفان بن کر سر پر آ چکا ہوتا ہے۔اپوزیشن کے بارے میں تضحیک آمیز بیان دے کر یہ ترجمان و مشیر اپنی نوکری تو پکی کر لیتے ہیں مگر اپنے حاکمِ وقت کو زمینی حقائق سے نابلد کر دیتے ہیں، وہ سمجھتا ہے ملک میں غربت ہے اور نہ مہنگائی، یہ صرف اپوزیشن کا پھیلایا ہوا پروپیگنڈہ ہے، وگرنہ خلقِ خدا تو جنت میں رہ رہی ہے اور ہر طرف دودھ اور شہد کی  نہریں بہہ رہی ہیں۔

سنا ہے جب عمران خان کرکٹ ٹیم کے کپتان ہوتے تھے تو کسی کی باتوں میں نہیں آتے تھے، کسی خوشامدی کو اپنے نزدیک نہیں آنے دیتے تھے، پرفارمنس اور حالات دیکھ کر فیصلے کرتے تھے، مگر کرکٹ کی کپتانی اور ملک کی حکمرانی میں بہت فرق ہے۔ وہاں گیارہ کھلاڑیوں کو سنبھالنا ہوتا ہے یہاں سو سے زیادہ وزیروں مشیروں کی فوج ظفر موج ساتھ ہوتی ہے۔ ہر کوئی خوشامد میں دوسرے سے آگے نکل جانا چاہتا ہے۔ حاکم وقت کو بھی وہی اچھا لگتا ہے جو اسے تاریخ کا سب سے بڑا اور کامیاب حکمران ثابت کرے۔ سیکیورٹی اور پروٹوکول کے حصار میں بندھے ہوئے حاکم وقت کو یہ معلوم ہی نہیں ہوتا جن پر وہ حکمرانی کر رہا ہے، وہ کس حال میں ہیں۔ کم از کم کپتان سے یہ امید نہیں تھی وہ اس طرح وزیروں، مشیروں اور خوشامدی ترجمانوں کے نرغے میں پھنس جائیں گے جو انہیں حقیقت احوال سے دور کر دیں گے۔ کوئی عقل کا اندھا ہی اس بات کو تسلیم کر سکتا ہے، گزشتہ تین برسوں میں ہر چیز کی قیمت تین گنا بڑھ گئی ہو اور عوام اب بھی مطمئن و سکون سے زندگی گزار رہے ہوں۔ لوگوں کے گھروں میں کوئی خزانے تو دبے ہوئے نہیں تھے، جنہیں وہ نکال کر خرچ کر رہے ہوں، وہ تو اپنی محدود آمدنی میں گزارا کر رہے تھے، جنہیں ان تین برسوں کی مہنگائی نے زندہ درگور کر دیا ہے، مگر مشیران کرام مٹی کو سونا بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -