حیاتِ قائداعظمؒ کے آخری ایام!

 حیاتِ قائداعظمؒ کے آخری ایام!

  

ڈاکٹر ریاض علی شاہ

قائداعظمؒ کی صحت روز بروز بہتر ہوتی گئی۔ اب انہیں یہ اصرار تھا کہ وہ زیارت میں نہیں رہنا چاہتے۔ خود ڈاکٹروں کی بھی یہ رائے تھی کہ اُن کی صحت کے لیے زیارت کی آب و ہوا اور بلندی بہتر نہیں۔ بلندی کی وجہ سے آب و ہوا خنک اور سرد ہو رہی تھی اور یہ اُن کے لیے بہتر نہ تھا چنانچہ آپ کوئٹہ جانے کے لیے تیار ہو گئے۔ معالج ہونے کی وجہ سے ہم نے رائے دی کہ سفر کے دوران آپ کو کمبل اپنے اردگرد لپیٹ لینا چاہیے اور بڑا کوٹ بھی پہن لینا چاہیے۔ کپڑے تبدیل کرنے کی بھی ضرورت نہیں لیکن آپ نے اصرار کیا۔ 

”شلوار، شیروانی اور پمپ شوز ضرور پہنوں گا۔ حجامت کراؤں گا اور بال بھی ضرور کٹواؤں گا“۔ چنانچہ انہوں نے اپنی ضد کو پورا کیا۔زیارت سے کوئٹہ کے سفر موٹرمیں طے ہوا۔ کرنل الٰہی بخش اور میں دونوں قائداعظمؒ کے ہمرکاب تھے۔ کوئٹہ پہنچنے کے بعد قائداعظمؒ کی طبیعت کسی قدر اور سنبھل گئی۔ مجھے تین روز کے لیے لاہور آنا تھا۔ چنانچہ میں لاہور آگیا اور تیسرے روز واپس کوئٹہ پہنچ گیا۔اب حضرت قائداعظمؒ اکثر ہمیں اندر بلا لیا کرتے اور دیر تک مختلف موضوعات پر ارشاد فرمایا کرتے تھے۔ پاکستان کے کے موضوع پر جب بھی آپ روشی ڈالتے، آپ کے ہونٹوں پر فخر آمیز تبسم کھیلنے لگتا۔ ایک روز آپ کی طبیعت بہت زیادہ بشاش تھی۔ فرمانے لگے۔ ”پاکستان کو خدا نے ہر چیز دے رکھی ہے۔ معدنیات، زراعت کے وسیع وسائل، اقتصادیات کی ترقی کے روشن امکانات، ملک کوصنعتی بنانے کے ذرائع، ہر چیز پاکستان میں موجود ہے۔ قدرت کی فیاضی نے اس ملک کو دولت سے مالامال کر رکھا ہے۔ لیکن ضرورت محنت، خلوص اور دیانت داری کی ہے۔ اگر پاکستانی مسلمانوں میں یہ اوصاف پیدا ہو جائیں۔“کسی قدرتوقف کے بعد۔

”انشاء اللہ میری قوم میں یہ اوصاف پید اہو کر رہیں گے۔ میں مسلمانوں سے کبھی مایوس نہیں ہوا۔ اسلام کی تعلیمات میں مایوسی کا لفظ تک نہیں۔ زندہ قوموں کو انتہائی مصائب اور مشکلات میں بھی مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ مصائب و آلام کی آندھیوں، مشکلوں کے طوفانوں، دشمن کی مخالفتوں اورریشہ دوانیوں سے گھبرانا نہیں چاہیے۔ خدا ہمیشہ اُن قوموں کو آزمائش میں ڈالتا ہے جنہیں وہ زمین کی خلافت سونپا کرتا ہے۔ میں جانتا ہوں مجھے معلوم ہے کہ صدیوں کی غلامی نے مسلمانوں کے دماغوں کو ماؤف کر دیا ہے۔ ابھی انہیں یہ احساس نہیں ہوا کہ وہ اب آزاد ہیں۔ یہ احساس مسلمانوں میں بیدار کرنے کی اشد ضرورت ہے کہ اب وہ ایک آزادقوم ہیں۔ انہیں آزاد قوم کی طرح ملک کی تعمیر میں حصہ لینا چاہیے۔ جب بھی مسلمانوں میں یہ احساس بیدار ہو گیا اور وہ محسوس کرنے لگے کہ وہ آزاد ہو چکے ہیں تو اس کے بعد پاکستان کے عظیم ملک بننے میں کوئی رکاوٹ باقی نہیں رہے گی۔“

٭٭٭٭

سورج پہاڑیوں کی اوٹ سے بلند ہو رہا تھا۔ اُس کی ترمزی شعاعیں درختوں کی ٹہنیوں سے چھن چھن کرخود روسبزہ سے کھیل رہی تھیں۔ سورج بلند ہو رہا تھا اور اس کے ساتھ ہی کسی قدر حدت بھی بڑھتی جار ہی تھی۔ پہاڑی مقام ہونے کی وجہ سے یہ حدت دل خوش کن معلوم ہو رہی تھی، دلنواز موسم تھا۔ قائداعظمؒ اپنی مسہری پر ”گاؤ تکیہ“ کے سہارے بیٹھے تھے۔ قریب ہی محترمہ فاطمہ جناحؒ بیٹھی تھیں۔ ہمیں اند ربلایا گیا۔ ہم بھی پاس ہی بیٹھ گئے۔ کچھ دیر ادھر ادھر کی باتیں کرتے رہے۔ پھر فرمانے لگے۔ ”قیام پاکستان کے بعد مہاجرین کے سلسلہ نے مجھے سخت پریشان کیا۔ میں یہ تو ضرور جانتا تھا کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تبادلہ آبادی ہوگا۔ لیکن مجھے یہ خیال نہیں تھا کہ اس وسیع پیمانہ پر مسلمانوں کو آبائی وطن چھوڑنے پر مجبور کر دیا جائے گا۔ مشرقی پنجاب، دہلی اور مغربی یوپی میں جس وسیع پیمانے پر مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا ہے، مجھے کبھی اس کا وہم بھی نہ تھا۔ یہ سب کچھ طے شدہ اور منظم سازش اور پروگرام کے ماتحت کیا گیا۔ ہم نہتے تھے۔ فوج ہمارے پاس نہیں تھی۔ اسلحہ دشمن کے قبضہ میں تھا۔ خزانہ خالی تھا۔ نظم ونسق کا تجربہ رکھنے والے افراد کی کمی تھی۔ ہم سخت مشکل میں گھبرا گئے تھے لیکن میں مسلمانوں کے عزم اور بلند حوصلگی کو دیکھ کر ششدر رہ گیا۔ اس حادثہئ عظیم نے میرے قلب پر ایک زبرست چوٹ لگائی۔ حقیقت یہ ہے کہ ان تباہ حال مسلمانوں کی واژگوں بختی نے میری صحت پر برا اثر ڈالا ہے۔ اس وقت پاکستان کے لیے سب سے اہم مسئلہ مہاجرین کی آباد کاری ہے۔ مجھے کامل اُمید ہے کہ حکومت پاکستان اس مسئلہ کو جلدی حل کرنے میں کامیاب ہو جائے گی۔ جب تک ایک ایک مہاجر آباد نہیں ہو جاتا‘ مجھے قرار نصیب نہیں ہو سکتا۔“وہ کہتے کہتے رُک گئے۔ اُس وقت اُن کے خوبصورت چہرے کا جلد جلد بدلتا ہوارنگ اُن کے اندرونی رنج و الم کو نمایاں کر رہا تھا اور ہم محسوس کر رہے تھے کہ مہاجرین کی آباد کاری کا مسئلہ بستر علالت پر بھی قائداعظمؒ کی توجہ کا مرکز بنا ہوا تھا۔ تھوڑی دیر خاموش رہنے کے بعد ہاتھ کو اونچا کر کے اور دیوار کی طرف دیکھتے ہوئے قائداعظمؒ نے فرمایا:”گویا میں آپ میں موجود نہیں ہوں گا لیکن آپ دیکھ لیں گے کہ پاکستان چند سال ہی میں دنیا کا عظیم ترین ملک بن جائے گا۔ اُس کی ترقی اور طاقت دنیا کو ورطہئ حیرت میں ڈال دے گی۔ دنیا کا ہر ملک اور قوم اس کی دوستی کا خواہاں ہوگا“۔ آپ نے کہا۔”مہاجرین پاکستان کے لیے بوجھ نہیں۔ یہ پاکستان کی دولت ہیں۔ ان سے پاکستان کی طاقت میں اضافہ ہوا ہے۔حکومت پاکستان ان کے مصائب کو ختم کرنے کے لیے تمام تکالیف و مشکلات کا سامنا کرے گی۔ 

کوئی خوددار انسان خیرات اوربھیک پر زندگی بسر کرنا برداشت نہیں کر سکتا۔پناہ گزینوں کو خود ایک دوسرے کی مدد کرنا چاہیے۔ انہیں جلد اپنے کاروبار پر لگ جانا چاہیے۔ جو کام وہ کر سکتے ہیں۔ انہیں اس کام پر لگ جانا چاہیے۔ وہ اس طرح پاکستان اور اپنی حکومت کی مدد کر سکتے ہیں۔ میں انہیں یقین دلانا چاہتا ہوں کہ پاکستان اُن کیلئے دارالامان ثابت ہوگا۔ پاکستان کو دنیا کی کوئی طاقت فنا نہیں کر سکتی۔ انشاء اللہ پاکستان قائم رہے گا اور خوب پھلے پھولے گا۔ پاکستان کی ترقی ان کی اپنی ترقی ہے۔ پاکستان کی خوشحالی اُن کی خوشحالی ہے۔ آپ نے کہا کہ پاکستان کے ہر ایک صوبہ کے مسلمانوں کو صوبائی تعصب کی لعنت سے آزاد ہو کر انصار مدینہ کی طرح مہاجرین کی مدد کرنا چاہیے۔ انہیں اپنے ہاں بسانے اور آباد کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ کاروبار چلانے میں ان کو مدد دینا چاہیے۔ مہاجرین کا بھی فرض ہے کہ وہ اپنے حوصلوں اور اخلاق کو بلند کریں۔ اپنے نظریاتِ حیات کو ارفع و اعلیٰ بنائیں۔ رزق حلال کمائیں‘دوسروں کے سامنے خیرات کے لیے ہاتھ پھیلانے کی بجائے ان ہاتھوں سے کام کریں۔ محنت کر کے کمائیں اور اپنی حالت کو بہتر بنائیں اور اپنے رویہ اور محنت سے ثابت کر دیں کہ وہ پاکستان کے لیے بوجھ ہی بلکہ زبردست فائدہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔“

٭٭٭٭

قائداعظمؒ نے نصاب تعلیم اور طریقِ تعلیم بدلنے پر بھی زور دیا۔ آپ نے فرمایا”موجودہ نصاب اور طریق تعلیم غلام سازی کے محرک ہیں۔ ملکی اور قومی ضروریات کے مطابق انہیں قطعاً بدل دینا ہوگا اور نوجوانوں اور بچوں کو شروع سے ہی اُن کے ذہنی رجحانات کے مطابق تعلیم وتربیت دینی ہوگی کیونکہ یہی ایک صورت ہے کہ جس سے ملک و ملت کی تعمیر جدید ہو سکتی ہے۔“

وقت گزرتا گیا۔ قائداعظمؒ کی صحت بہتر ہوتی گئی۔ کوئٹہ کی آب و ہوا نے آپ پر کافی اچھا اثر کیا۔ ایک دن ہنستے ہنستے باتوں باتوں میں ڈاکٹر الٰہی بخش نے کہا۔ ”ہماری انتہائی کوشش ہے کہ آپ کی صحت اتنی اچھی ہو جائے جتنی آپ کی صحت آج سے سات آٹھ سال پہلے تھی۔“قائداعظمؒ مسکرا دیئے اور فرمانے لگے۔  چند سال قبل یقیناً میری یہ آرزو تھی کہ میں زندہ رہوں۔ اس لیے زندگی کی خواہش نہیں تھی کہ میں موت سے ڈرتا تھا۔ بلکہ اس لیے زندہ رہنا چاہتا تھا کہ قوم نے جو کام میرے سپرد کیا ہے اور قدرت نے جس کام کے لیے مجھے مقرر کیا ہے، میں اُسے اپنی زندگی میں پایہئ تکمیل تک پہنچا سکوں۔ اب وہ کام پورا ہو چکا ہے۔ میں اپنے فرض کو ادا کر چکا ہوں۔ پاکستان بن گیا ہے۔ اُس کی بنیادیں مضبوط ہیں۔ اب چند ماہ سے مجھے ایسے خیال آتے رہتے ہیں کہ میں اپنا فرض ادا کر چکا ہوں۔ قوم کو جس چیز کی ضرورت تھی وہ قوم کو مل گئی۔ اب یہ قوم کا کام ہے کہ وہ اس کی تعمیر کر کے اسے ناقابل تسخیر اور ترقی یافتہ ملک بنا دے۔ حکومت کا نظم ونسق چلائے۔ میں طویل سفر کے بعد تھک گیا ہوں۔ آٹھ سال تک مجھے قوم کے اعتماد و تعاون پر تنہا ردعیار اور مضبوط دشمنوں سے لڑنا پڑا ہے۔ میں نے خدا کے بھروسے پر انتھک کوشش اور محنت کی ہے اور اپنے جسم کے خون کا آخری قطرہ تک حصول پاکستان کے لیے صرف کر دیا ہے۔ میں تھک گیا ہوں آرام چاہتا ہوں۔ اب مجھے زندگی سے کوئی دلچسپی نہیں۔“

”خدا آپ کو تادیر پاکستان کی رہنمائی کے لیے زندہ رکھے۔ آپ کے بعد کون ہے جو کشتی ملت کو اس بھنور سے نکال کر ساحل فتح و نصرت تک لے جا سکتا ہے۔“ میں نے اور کرنل الٰہی بخش نے کہا۔

قائداعظمؒ نے ……”آسمان کی طرف اُنگلی اُٹھائی“ اور پھر بھرائی ہوئی آواز میں فرمانے لگے۔ 

”قدرت حالات کے مطابق ایسا آدمی پیدا کر دیا کرتی ہے جس کی وقت اور حالات کو ضرورت ہوتی ہے۔“

اس وقت قائداعظمؒ کی چمک دار آنکھوں میں آنسو جھلک رہے تھے اور آواز لرزا گئی تھی، فرمانے لگے۔ 

”گھبراؤ نہیں۔ خدا پر اعتماد رکھو۔ اپنی صفوں میں کج نہ آنے دو اور انتشار پید انہ ہونے دو۔ دیانت اور خلوص کو ہاتھ سے نہ جانے دو۔ ملت کے مفاد پر ذاتی مفاد کو کبھی ترجیح نہ دو۔ انشاء اللہ قدرت تمہیں مجھ سے زیادہ عقیل اور ذہین رہنما عطا کرے گی جو کشتی اُمت کو مشکلات کے بھنور سے نکال کر ساحل مراد تک کامیابی سے پہنچا دے گا۔“

قائداعظمؒ کی ایک آنکھ سے ایک موٹا سا چمکدار آنسو مسہری پر گرپڑا اور انہوں نے کمبل سے منہ ڈھانپ لیا۔ اُن کی آواز بھرائی ہوئی تھی اور وہ آہستہ آہستہ فرما رہے تھے۔ ”اے خدا تو نے ہی مسلمانوں کو آزادی عطا کی اور اب تو ہی اس کی حفاظت کرنے والا ہے۔ میری قوم ابھی ابتدائی مراحل طے کر رہی ہے۔ ابھی اس کی صفوں کا کج بھی دور نہیں ہوا۔ تو ہی مدد کرنے والا ہے اور تو ہی اس کا حامی وناصر ہے…………“

وہ دیر تک منہ ڈھانپے پڑے رہے۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وہ سو گئے ہیں۔ چنانچہ ہم کمرے سے باہر نکل آئے۔ 

ایک روز لاہور کا ذکر آیا تو قائداعظمؒ فرمانے لگے: ”اس دفعہ لاہورجا کر مجھے بڑی مسرت ہوئی۔ لاہور ہمارے ماضی، حال اور مستقبل کی روایات کا مرکز ہے۔ پاکستان اگر جسم ہے تو اس جسم میں لاہور روح کی حیثیت رکھتا ہے۔ مجھے لاہور کا مستقبل شاندار نظر آ رہا ہے۔ لاہور ایک بار پھر اسلامی تہذیب و تمدن اور ثقافت کا مرکز بن جائے گا۔“

شروع شروع میں کوئٹہ کی آب و ہوا نے آپ کی صحت پر اچھا اثر کیا لیکن بعد میں صحت یکدم گرنی شروع ہو گئی۔ اس دوران میں کراچی کے ڈاکٹر مسٹر مستری کو بھی کوئٹہ طلب کر لیا گیا۔ قائداعظمؒ میں برداشت کی قوت بہت زیادہ تھی اور انتہائی تکلیف میں کبھی آپ کی پیشانی پر شکن نہیں آیا تھا۔ ایک روز جب میں نے انجکشن کیا تو آپ کو درد محسوس ہوا اور آپ فرمانے لگے۔ 

”اب میں محسوس کرتا ہوں کہ صحت بہت گر گئی اور مجھے کمزور محسوس ہو رہی ہے…………“

ہم نے عرض کیا کہ آپ کو مکمل آرام کرنا چاہیے۔دماغی تشویش کو ترک کردینا چاہئے اورسیاسی مسائل کی طرف کوئی توجہ نہیں دینی چاہئے۔ آپ نے ہنس کر جواب دیا۔ 

”کوئی ایسا مسئلہ باقی نہیں رہا جس کے متعلق مجھے تشویش ہو۔ کشمیر، فلسطین اور حیدر آباد کے مسائل اقوام متحدہ میں پیش ہو چکے ہیں اور اقوام متحدہ کے زیر بحث ہیں۔ اس لیے مجھے ان کے متعلق قطعاً تشویش نہیں۔ مہاجرین کی آباد کاری کا مسئلہ تھا۔ اُسے وزارت پاکستان نہایت دانشمندی سے سلجھا رہی ہے۔ ملک کے اندرونی اور بیرونی دفاع کا مسئلہ خاص طور پر توجہ طلب ہے۔ پاکستان کا ہر مرد اور عورت اپنے آپ کو قومی سپاہی تصور کرے اور اپنی حکومت سے تعاون کرے۔ حکومت پورے جوش و خروش اور جانفشانی سے اس کام کو سرانجام دے رہی ہے۔ ملکی دفاع کے مسئلہ پر ہر نادار اور سرمایہ دار کو پاکستان کی مدد کرنی چاہیے۔ ہم نے لاکھوں مسلمانوں کی قربانی دے کر جو آزادی حاصل کی ہے اس کی حفاظت کے لیے اپنی ہر چیز قربان کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ بھوکے رہ کر بھی ملک کی دفاعی ضروریات کو پورا کرنا چاہیے۔ مجھے یقین ہے کہ اگر کسی دشمن نے پاکستان کی آزادی پر حملہ کیا تو پاکستان اپنے آخری فرزند تک حملہ آور کے خلاف جنگ جاری رکھے گا۔ حکومت پاکستان اور پاکستانی عوام کو دفاع کے سوال کو تمام دوسری ضروریات پر مقدم رکھنا چاہیے۔“

٭٭٭٭٭

کوئٹہ میں طبیعت سنبھل گئی لیکن بعد میں طبیعت روز برو ز مضمحل ہوتی چلی گئی۔ کمزوری بڑھ گئی اور فرمانے لگے۔ 

”مجھے کراچی لے چلو“

غالباً یہ8-9ستمبر کا ذکر ہے۔ چنانچہ ہم کراچی کی تیاری کرنے لگے اور -11ستمبر کو کوئٹہ سے کراچی روانہ ہو گئے۔ راستہ میں آپ مکمل سکون سے رہے۔ ادھر اُدھر کی باتیں بھی کرتے رہے۔ سفر کے دوران میں کوئی تکلیف محسوس نہ ہوئی۔ کراچی پہنچے پر محترمہ فاطمہ جناحؒ نے ہمیں فرمایا۔ 

”اب آپ جائیے۔ آرام کیجئے۔ قائداعظمؒ کو بھی قدرے آرام ہے۔ اپنے وقت پر تشریف لے آئیے۔“ چنانچہ کرنل الٰہی بخش، ڈاکٹر مستری اور میں ہوٹل چلے گئے۔ نو بجے سے تھوڑی دیر پہلے ٹیلیفون آیا اور محترمہ فاطمہ جناحؒ نے فرمایا۔

”کمزوری بڑھ گئی ہے۔ بے قراری میں اضافہ ہو رہا ہے۔“

”آپ فوراً پہنچئے……“

چنانچہ ہم فوراً گورنمنٹ ہاؤس پہنچے۔ قائداعظمؒ پر بے ہوشی طاری تھی۔ کمزوری انتہا کو پہنچ گئی تھی۔ نبض کی دھڑکنیں بھی غیر مسلسل ہو گئی تھیں۔ آنکھیں پتھرا رہی تھیں۔ باہم مشورے کے بعد کئی ٹیکے کئے گئے۔ حالت کسی قدر سنبھلی۔ آپ کے مصنوعی دانت پہلے ہی نکال دیئے گئے تھے لیکن چند منٹ بعد دل ڈوبنے گا۔ کمزوری بڑھ گئی، نبضیں غیر مسلسل ہو گئیں۔ آنکھیں پتھرانے لگیں اور سانس رُک رُک کر آنے لگی۔ اسی بے ہوشی کے عالم میں آپ نے کچھ کہا۔ 

”اللہ……پاکستان……“

صرف یہ دو لفظ سمجھ میں آسکے۔ پورا فقرہ نہ سمجھا جا سکا۔ دس بج کر پچیس منٹ پر آپ کی حرکت قلب بند ہو گئی اور اسلام کا یہ بطل جلیل ہمیشہ کی نیند سو گیا۔

اِنا لِلّٰہٖ و اِنَّا اِلٰیہ رَاجِعُوْن۔

محترمہ فاطمہ جناحؒ روتی روتی کوچ پر گر پڑیں۔ تمام ڈاکٹر رو رہے تھے۔ آہ قائداعظمؒ!

موت کے بعد بھی آپ کے چہرے پر تدبر، جلال اور فراست کھیل رہی تھی۔ آہ……وہ بطل جلیل جس کی فراست، تدبر اور سیاست نے دو صدی کے ملے ہوئے مسلمانوں کو سربلندی اور ظفر مندی عطا کی تھی جس نے برطانوی اور ہندو شاطران کو شکست دی تھی۔ عزم و استقلال اور یقین محکم کے ساتھ ناممکن کو ممکن بنا دیا تھا۔ وہ ہمیشہ کے لیے رخصت ہو گیا۔ قوم یتیم ہو گئی۔ آج وہ ہمارے درمیان موجود نہیں لیکن ان کی تعلیم، ان کے اصول، ان کے پیغامات اور تقریریں ہمارے لیے ہمیشہ مشعل راہ رہیں گی۔ 

قائداعظمؒ کی وفات حسرت آیات کی خبر جنگل کی آگ کی طرح کراچی کے طول و عرض میں پھیل گئی۔ ہزاروں مسلمان گورنمنٹ ہاؤس کے سامنے حزن و ملال میں ڈوبے ہوئے کھڑے تھے۔ آنکھوں سے آنسو بہا رہے تھے۔ اکثر دیواروں سے سر ٹپک رہے تھے۔ تمام رات ہزاروں مسلمانوں کا جم غفیر بابائے ملتؒ کے ماتم میں سوگوار اور اشک بار رہا۔ سرکاری افسر، وزراء، غیر ملکی سفیر، فوجی جرنیل، بحری اور فضائی بیڑوں کے اعلیٰ اور ادنیٰ افسر سب بچشم پر نم کھڑے تھے۔ صبح ہوتے ہی پاکستان میں ہرتال ہو گئی۔ ہر شہر، ہرقصبہ، ہرگاؤں ماتم کدہ بن گیا۔ دوسرے دن قائداعظمؒ کا جنازہ فوجی اعزاز سے اُٹھایا گیا۔ جنازہ میں چار لاکھ سے زائد مسلمانوں نے شرکت کی اور 12ستمبر کو عید گاہ کے میدان میں اسلام کے اس بطل جلیل کو سپرد خاک کر دیا گیا۔

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے

بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

(اقبالؒ)

زندہ قوموں کو انتہائی مصائب اور مشکلات میں بھی مایوس نہیں ہونا چاہیے،محمد علی جناح

مزید :

ایڈیشن 1 -