افغانستان کی صورتحال پر گہرہ نظر، امن، استحکام کیلئے اپنا کردار اد کر رہے ہیں: پاکستان

  افغانستان کی صورتحال پر گہرہ نظر، امن، استحکام کیلئے اپنا کردار اد کر رہے ...

  

 اسلام آباد(سٹاف رپورٹر) پاکستان نے کہا ہے کہ افغانستان کی صورتحال پر گہری نظر ہے،افغانستان میں عبوری سیٹ اپ سے افغان عوام کی ضرویات پوری ہو سکیں گی،پاکستان، خودمختار، پرامن، ترقی کرتے، خوشحال افغانستان کا حامی ہے،پاکستان سے دو طیارے امداد کے کر کابل اور قندھار پہنچ چکے، مزید ایک طیارہ  آج (ہفتہ کو) جائے گا۔  ان خیالات کا اظہار   ترجمان دفتر خارجہ عاصم افتخار  نے ہفتہ وار پریس بریفنگ  کے دوران کیا۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا  پاکستان، افغانستان میں انسانی المیہ سے تحفظ کے لیے ہر ممکن مدد کرتا رہے گا۔ پاکستان علاقائی اور عالمی سطح پر تمام شراکت داروں کے ساتھ رابطے میں ہے۔وزیراعظم نے ابتک 13 عالمی رہنماؤں سے رابطے کیے۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا نے 25 ہم منصوبوں سے ٹیلیفونک رابطے کیے۔پاکستان کے 6 وزرائے خارجہ نے دورے کیے۔پاکستان، افغانستان کے امن اور استحکام کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کر رہا ہے۔انہوں نے کہا  افغانستان کے ہمسایہ ممالک کے وزرائے خارجہ کا آئندہ اجلاس ایران میں ہو گا۔افغان امن کے دشمن اور سپائلرز اب بھی منفی پروپیگنڈہ کر رہے ہیں۔پاکستان کے خلاف پنج شیر میں مداخلت کی گمراہ کن خبریں پھیلائی گئیں، جنہیں مسترد کرتے ہیں۔  مقبوضہ کشمیر کی صورتحال  پر ترجمان  دفتر خارجہ نے کہا  کشمیری بزرگ ھریت رہنما سید علی گیلانی کے خاندان کو آج بھی ہراساں کیا جا رہا ہے۔انہیں امور پر بھارتی ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کرکے شدید احتجاج کیا گیا۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں عوام، صحافیوں پر ظلم و ستم کا سلسلہ جاری ہے۔پاکستان عالمی برادری کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری مظالم سے آگاہ کرتا رہے گا۔ ایک سوال پر انہوں نے کہ  افغانستان میں صحافیوں، خواتین پر تشدد کی مصدقہ رپورٹس نہیں دیکھیں۔  افغانستان سے متعلق پرانی فوٹیج، تصاویر سے گمراہ کن اطلاعات پھیلائی جا رہی ہیں۔افغانستان میں بہر حال انسانی حقوق کی ہر ممکن پاسداری چاہتے ہیں۔ایک او ر سوال پرعاصم افتخا ر  کا کہناتھا   افغان عبوی سیٹ اپ کی حلف برداری کی تقریب کا علم نہیں، نہ کوئی دعوت نامہ ملا۔عالمی برادری کو طالبان کے ساتھ معنی خیز انداز میں آگے بڑھنا چاہیے۔افغان سیاسی امور میں خواتین اور تمام فریقین کی شمولیت ہونی چاہیے۔ افغانستان کو  دی  جانے والی عالمی امداد کی کوئی شرط نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا سرحد پار سے دہشت گردی پاکستان کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔ افغانستان  کی  سرزمین  کے پاکستان کے خلاف  استعمال پر ہمیں تشویش ہے۔ہم نے افغان حکام کے ساتھ معاملہ اٹھایا ہے۔افغانستان  کی سرزمین پر قائم دہشت گرد گروپوں کا خاتمہ ہونا چاہئیے۔

 دفتر خارجہ

مزید :

صفحہ اول -