الیکشن کمیشن کااصلاحات بلز پر  34 تحفظات کا اظہار، چیئرمین قائمہ کمیٹی پارلیمانی امور کو خط

  الیکشن کمیشن کااصلاحات بلز پر  34 تحفظات کا اظہار، چیئرمین قائمہ کمیٹی ...

  

   اسلام آباد (سٹاف رپورٹر)الیکشن کمیشن نے الیکشن اصلاحات بل پر چیئرمین قائمہ کمیٹی پارلیمانی امور تاج حیدر کو خط لکھ کر الیکشن اصلاحات بلز پر 34 تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق الیکشن کمیشن نے کہاکہ الیکشن اصلاحات بلز میں شامل متعدد شقیں آئین کے خلاف ہیں،الیکشن کمیشن انتخابات میں ٹیکنالوجی کے استعمال کا حامی ہے لیکن جلد بازی میں عام انتخابات میں مشینوں کے استعمال پر تحفظات ہیں۔الیکشن کمیشن نے کہاکہ انتخابات میں ٹیکنالوجی کے استعمال سے قبل تمام فریقین کا اتفاق ضروری ہے،ای وی ایم کے استعمال سے قبل وسیع پیمانے پر ٹیسٹنگ کی ضرورت ہے۔ الیکشن کمیشن نے کہاکہ ای وی ایم کے سافٹ ویئر اور ہارڈ وئیر میں ردوبدل کے خدشات ہیں،انتخابات میں ٹیکنالوجی کے استعمال سے قبل عوامی آگاہی انتہائی ضروری ہے۔الیکشن۔کمیشن نے کہاکہ ای وی ایم کے استعمال سے قبل متعدد قوانین میں ترامیم کی ضرورت ہے،ای وی ایم الیکٹورل فراڈ یا انتظامی بدامنی کو نہیں روک سکتی۔ الیکشن کمیشن نے کہاکہ ای وی ایم میں بائیو میٹرک  شناخت کا کوئی نظام نہیں ہے،ای وی ایم کے استعمال کیلیے 9 لاکھ مشینیں درکار ہوں گی۔ الیکشن کمیشن نے کہاکہ ای وی ایم کے استعمال کے اخراجات 150 ارب روپے ہوں گے،کثیر رقم خرچ کرنے کے باوجود الیکشن کی ساکھ اور شفافیت مشکوک رہے گی۔انہوں نے کہاکہ ای وی ایم کی سیکیورٹی کیلئے وسیع انتظامات کرنے کی ضرورت ہوگی،کوڈ یا چپ کے ذریعے ای وی ایم کے سافٹویئر میں ردوبدل کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ الیکشن میں ای وی ایم کے استعمال سے قبل وسیع پیمانے پر مشاورت کی ضرورت ہے،الیکشن کمیشن میں استعداد نہیں کی دو سال کے اندر ای وی ایم کا استعمال ممکن بنایا جاسکے۔ الیکشن کمیشن نے کہاکہ ای وی ایم کے استعمال سے ایک دن کے اندر پولنگ کرانا ناممکن ہے،امریکہ اور یورپ سمیت دیگر جمہور ممالک نے الیکشن میں ای وی ایم استعمال نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے،تحفظات کے باعث آئندہ انتخابات میں ای وی ایم کا استعمال قابل عمل نہیں ہوگا۔الیکشن کمیشن نے کہاکہ جلد بازی میں کیے گئے فیصلہ سے عوام کا انتخابی نظام پر اعتماد کم ہوگا،ایسے حالات ملک کیلئے خطرناک ہوں گے،ای وی ایم کے استعمال سے قبل فوری طور پر پائلٹ پروجیکٹ شروع کرنے چاہئیں۔

الیکشن کمیشن

مزید :

صفحہ اول -