سراج حقانی کا نا م بلیک لسٹسے ہٹایا جائے: طالبان 

سراج حقانی کا نا م بلیک لسٹسے ہٹایا جائے: طالبان 

  

 کابل،اسلام آباد(این این آئی)طالبان نے امریکہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ افغانستان کے نئے وزیرداخلہ سراج الدین حقانی کا نام اپنی بلیک لسٹ سے ہٹا دے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک بیان میں امریکا سے یہ مطالبہ کیا۔دوسری جانب افغانستان سے بین الاقوامی افواج کے انخلا کے بعد دارالحکومت کابل سے دیگر غیر ملکی شہریوں کے انخلا کی پہلی پرواز قطر کے دارالحکومت دوحہ پہنچ گئی۔قطر ایئرویز کے طیارے میں ایک سو سے زائد غیر ملکی افراد سوار تھے، جس میں جرمنی، امریکا، کینڈا، برطانیہ، اٹلی، ہالینڈ اور یوکرائن کے شہری شامل ہے۔افغانستان کے لیے قطر کے خصوصی مندوب مطلق القحطانی کے مطابق کابل ایئرپورٹ دوبارہ فعال ہوگیا ہے۔ قطر ترکی کے ساتھ مل کر کابل ایئرپورٹ سے فلائٹ آپریشن جلد از جلد شروع کرنے کے لیے کام کررہا ہے۔ادھر  پاکستان کا ایک اور سی 130 طیارہ آٹا اور ادویات پر مشتمل 36 ٹن امدادی سامان لے کر قندھار پہنچ گیا۔ پاکستان انسانی بنیادوں پر افغانستان کی مدد کیلئے پیش پیش، پاکستان کا ایک اور سی 130 طیارہ امداد لے کر قندھار پہنچ گیا جس میں آٹا اور ادویات شامل ہیں، پرواز امدادی سامان لے کر کراچی سے قندھار پہنچی۔ 

کابل 

نئی دہلی(این این آئی)بھارتی وزیر اعظم کی صدارت میں برکس ممالک کی ورچوئل سربراہی کانفرنس نے شمولیتی بین افغان مذاکرات پر زور دیاہے اور طالبان سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ افغانستان کی سرزمین کا دہشت گردی کے لیے استعمال کی اجازت نہ دیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق دنیا کی پانچ بڑی ابھرتی ہوئی اقتصادی قوتوں کے گروپ برکس کی سربراہی کانفرنس بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں ہوئی۔ اس میں گروپ کے دیگر ممالک روس، چین، برازیل اور جنوبی افریقہ کے صدور نے بھی حصہ لیا۔ ان رہنماوں نے گوکہ طالبان کا نام نہیں لیا اور نہ ہی افغانستان کی موجودہ صورت حال کے لیے ان کو مورد الزام ٹھہرایا تاہم وہاں ہونے والے تازہ ترین پیش رفت پر تشویش کا اظہار کیا اورتشدد کو ترک کرنے اور صورت حال پرپرامن طریقوں سے قابو پانے کی اپیل کی۔روس کے صدر ولادیمیر پوٹن نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں موجودہ بحران ملک پر باہر سے غیر ملکی قدروں کو تھوپنے اور غیر ذمہ دارانہ اقدامات کا براہ راست نتیجہ ہے۔ پوٹن واحد رہنما تھے جنہوں نے برکس کانفرنس میں افغانستان کا براہ راست ذکر کیا۔ روسی خبر رساں ایجنسی تاس کے مطابق پوٹن نے کہا کہ فغانستان کو اپنے پڑوسی ملکوں کے لیے خطرہ، منشیات کی اسمگلنگ اور دہشت گردی کا منبع نہیں بننا چاہئے۔بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی، چین کے صدر شی جن پنگ، جنوبی افریقہ کے صدر سائرل رام فوسا اور برازیل کے صدر جابیر بولسونارو نے برکس کی حصولیابیوں، عالمی سیاست میں اس کے کردار اور اس کے سرگرمیوں کو مزید بہتر بنانے کے سلسلے میں اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔کانفرنس کے بعد جاری نئی دہلی اعلامیہ میں برکس رہنماوں نے افغانستان کی موجودہ صورت حال کے مد نظر وہاں ایک شمولیتی بین افغان مذاکرات پر زور دیا۔اعلامیہ میں کہا گیا کہ ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ کو ترجیح دینے کی اہمیت پر زور دیتے ہیں۔ جس میں افغانستان کی سرزمین کو کسی بھی دہشت گرد تنظیم کی طرف سے استعمال کرنے، دہشت گردوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ فراہم کرنے اور دیگر ملکوں کے خلاف دہشت گردانہ حملوں کوروکنا نیز افغانستان کے اندر منشیات کی تجارت پر پابندی لگانا شامل ہے۔ نئی دہلی اعلامیہ میں مزید کہا گیا کہ ہم ایک شمولیتی بین افغان مذاکرات کو مستحکم کرنے میں تعاون کی ضرورت پر بھی زور دیتے ہیں تاکہ ملک میں استحکام، امن عامہ، قانون اور انتظام کو یقینی بنایا جا سکے۔نئی دہلی اعلامیہ میں افغانستان میں انسانی صورت حال کے حوالے سے کہا گیا کہ ہم وہاں انسانی صورت حال کو حل کرنے کی ضرورت اور انسانی حقوق بشمول خواتین، بچوں اور اقلیتوں کے حقوق کو برقرار رکھنے پر زور دیتے ہیں۔

برکس ممالک 

مزید :

صفحہ اول -