وفاقی وزیر خسرو بختیار کا کے الیکٹرک بن قاسم پاوراسٹیشن کا دورہ

  وفاقی وزیر خسرو بختیار کا کے الیکٹرک بن قاسم پاوراسٹیشن کا دورہ

  

کراچی (سٹاف رپورٹر)وفاقی وزیر صنعت و پیداوار مخدوم خسرو بختیار نے کے الیکٹرک (کے ای) کی سینئر مینجمنٹ سے بن قاسم پاور اسٹیشن میں ملاقات کی اور کے الیکٹرک کے میگا پروجیکٹ بن قاسم پاور اسٹیشن (BQPS-III) پر کام سے متعلق پیش رفت کا جائزہ لیا۔ یہ منصوبہ کے الیکٹرک کی پیداواری صلاحیت میں 900 میگاواٹ اضافہ کرے گا، جو شہر قائد کی ترقی میں اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔ جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ 900میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھنے والے اس پاور پلانٹ کو تقریباً 650 ملین امریکی ڈالرز کی لاگت سے تعمیر کیا جا رہا ہے تاکہ کراچی کے لیے بہتر  اور قابل اعتماد توانائی کی فراہمی کو یقینی بنایا جاسکے۔ تکمیل کے بعد بن قاسم پاور پلانٹ کا شمار ملک کے 5 بہترین پاور پلانٹ میں ہوگا۔450 میگاواٹ کے پہلے یونٹ کا 90 فیصد کام مکمل ہوچکا ہے جب کہ 450 میگاواٹ کے دوسرے یونٹ پر تیزی سے کام جاری ہے۔ وفاقی وزیر صنعت و پیداوار نے کے الیکٹرک کی کراچی کے بہتر مستقبل کے لیے کی جانے والی کوششوں اور سرمایہ کاری کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ کراچی ملک کا صنعتی مرکز ہے اور میرے اس دورے کا مقصد صنعت و پیداوار کے شعبے میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لینا ہے۔کے الیکٹرک کی ترقی پسندانہ سوچ بہت حوصلہ افزا ہے اور یہ پاور پلانٹ کے ای کے اسی سوچ کی عکاس ہے۔ مخدوم خسرو بختیار نے مزید کہا کہ صنعتیں ہماری معیشت کا انجن ہیں اور حکومت اپنی پالیسیوں کے ذریعے معاشی نمو بڑھانے کے لیے پُرعزم ہے۔ پاکستان میں سرمایہ کاری کے بہت مواقع ہیں، جس کے لیے توانائی کی مسلسل فراہمی لازمی ہے۔ 900 میگاواٹ کا اضافہ کراچی کے عوام اور صنعتوں کے لیے ایک تحفہ ہے اور اس پلانٹ کے مکمل ہونے کے بعد  معزز وزیر اعظم اس کا باقاعدہ افتتاح کریں گے۔ کے ای کے سروس ایریا میں بجلی کے طلب میں اضافہ 5فیصد سے زائد رہنے کی توقع ہے جبکہ آئندہ 2 سال میں کے الیکٹرک سے 700 میگاواٹ سے زائد کے نئے کنکشنز کی ڈیمانڈ کی جاسکتی ہے، جن میں آدھے سے زیادہ کی ڈیمانڈ صنعتی شعبے سے ہوگی۔کراچی کی بجلی کی طلب میں اضافے کو دیکھتے ہوئے بن قاسم پاوراسٹیشن III پر تعمیراتی کام دسمبر 2019 میں شروع کیا گیا تھا، جس کی تکمیل کے لیے کام تیزی سے جاری ہے۔ اگست 2021 میں کے الیکٹرک نے وفاقی وزیر توانائی حماد اظہر اور وزیر اعظم کے معاون خصوصی تابش گوہر کی موجودگی میں پاکستان ایل این جی لمیٹڈ (پی ایل ایل) کے ساتھ گیس فراہمی کا معاہدہ کیا تھا۔ اس معاہدے کے تحت کے ای کے بن قاسم پاور پلانٹ کو 150 ایم ایم سی ایف ڈی ری گیسیفائیڈ لکویفائیڈ نیچرل گیس (آر ایل این جی) کی فراہمی کا معاہدہ کیا تھا۔ یہ اپنی نوعیت کا پہلا معاہدہ ہے جس کے تحت ایک سرکاری ادارہ براہ راست نجی ادارے کو گیس فراہم کرے گا جو حکومت کی کراچی کے بہتر مستقل کے عزم کی عکاس ہے۔ 

مزید :

صفحہ اول -