افغانستان میں اپنی ناکامی کے بعد بھارت اب پاکستان میں ۔۔۔علامہ طاہر اشرفی نے بڑا دعویٰ کردیا 

افغانستان میں اپنی ناکامی کے بعد بھارت اب پاکستان میں ۔۔۔علامہ طاہر اشرفی نے ...
افغانستان میں اپنی ناکامی کے بعد بھارت اب پاکستان میں ۔۔۔علامہ طاہر اشرفی نے بڑا دعویٰ کردیا 

  

لاہور( ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیر اعظم کے نمائندہ خصوصی برائے مذہبی ہم آہنگی علامہ طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ 2001ء سے کہتے رہےہیں کہ جنگ سے نہیں ڈائیلاگ سے مسئلے حل ہوتے ہیں، بھارت نے افغانستان میں دہشت گردی کے کیمپس کھولے ہوئے تھے،افغانستان سے نیٹو افواج نکلنے کے بعد بھارت میں صف ماتم بچھا ہوا ہے، بھارت اپنی ناکامی کے بعد اب پاکستان میں  فرقہ ورانہ فسادات اور تخریب کاری پر اتر آیا ہے تاکہ الزام افغانستان پر جائے لیکن ایسا نہیں ہونے دیں گے، طالبان نے کہا ہے کہ افغانستان کی سر زمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے، پاکستان کو اس راستے پر لانے کی ضرورت ہے جو قائداعظمؒ محمد علی جناح نےہمیں دکھایا، قائداعظمؒ نے اپنی زندگی میں واضح کر دیا تھا کہ ہمارا آئین چودہ سو سال پہلے آ چکا ہے، پاکستان کی اساس کلمہ طیبہ ہے ،ضرورت اس بات کی ہے کہ ملک میں قانون و انصاف کی مکمل عملداری ہو۔

 قائد اعظم محمد علی جناح کی برسی کے موقع پر نظریہ پاکستان ٹرسٹ میں میڈیا سے گفتگو کر تے ہوئے علامہ طاہرمحمود  اشرفی نے کہا کہ فوجی جوانوں،مساجد ،امام بارگاہوں، چرچز ،پارکس اور بچوں سمیت 80 ہزار شہدا کا خون رنگ لے آیا ہے، افغانستان سے نکلنے کے بعد بھارت میں صف ماتم بچھا ہوا ہے، کبھی الزام لگاتے ہیں پنج شیر میں پاک فوج نے فتح کیا لیکن دنیا اندھی نہیں ہے سب دیکھ رہی ہے، افغانستان میں امن و استحکام پر واضح کرتے ہیں امن ہی بہترین راستہ ہے، ہم چاہتے ہیں دنیا افغانستان کی مدد کرے،دنیا کو پاکستان اور افغانستان کی عورت کی بہت فکر ہے، عافیہ صدیقی کی دنیا کو کیوں فکر نہیں ہے؟ اگر عافیہ نے امریکی فوجی پر گن اٹھائی تو ان سے صلح کر لی لیکن سچ وہ تب بولیں گے جب عافیہ صدیقی کی رہائی ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ ادوار میں کوئی ایک الیکشن ایسا نہیں تھا جس میں غریب کو حق ملا ہو اور وہ ایوان تک پہنچاہو،قائد اعظم کا پاکستان وڈیروں یا جاگیر داروں کیلئے نہیں بنایا گیا،اسلامی نظام کی بنیاد پر پاکستان بنایاگیا لیکن بدقسمتی ہے ملک میں پچیس نظام تعلیم ہیں،پاکستان کو قائد اعظم کے افکار پر چلانے کیلئے یکساں نظام تعلیم دینا ہوگا ،جس پر حکومت عملدرآمد کر رہی ہے، اسلام و آئین پاکستان میں عورتوں کو اتنا تحفظ دیا گیا ہے جو کسی اور مذہب نے نہیں دیا، جو عورتوں کا استحصال کرے گا اس کا ہاتھ روکیں گے، بچیوں کا وراثت میں حق نہیں دیاجاتا، اگر قائداعظم کا پاکستان بن جائے تو لڑکیوں کااستحصال نہ ہو، پانچویں کلاس تک طلبا کو یکساں نظام تعلیم میں اسلام ،پاکستان کی اساس اور نظریہ کا درس ملےگا، نظریہ پاکستان کے خلاف کوئی مواد نہیں پڑھانے دیاجائیگا ،جہاں کوئی کمی ہوگی تو اسے پوراکریں گے،نظام عدل میں تبدیلیاں لانے کی ضرورت ہے، ہم چاہتے ہیں ملک میں کوئی بھوکا نہ سوئے۔

علامہ طاہر اشرفی نے کہا کہ حکومتی وزراء اور ادارے پاکستان کے ہیں، مل بیٹھ کر متنازعہ امور نمٹا لیں گے تاہم ہمارے اداروں کو ادارہ رہنا چاہئے پارٹیاں نہیں بننا چاہئے، مذاکرات کیلئے دروازے کھلے رہنے چاہئیں، الیکشن کمیشن ہمارا ادارہ ہے ، بطور حکومتی عہدیدار خواہش ہے کہ ایسا الیکشن ہو جس پر کوئی انگلی نہ اٹھا سکے۔

مزید :

علاقائی -پنجاب -لاہور -