اِک عذاب ختم ہوا

اِک عذاب ختم ہوا
اِک عذاب ختم ہوا

  

پنڈت ہری چند اختر فرماتے ہیں :

شباب آیا، کسی بت پر فدا ہونے کا وقت آیا

مری دنیا میں بندے کے خدا ہونے کا وقت آیا

بے شک شباب کا آغاز ایسا ہی طوفانی ہوتا ہے اور انسان کا اکثر ظالم سماج (جو عموما ً والدین ہوتے ہیں) کے ساتھ کبڈی میچ شروع ہوجاتا ہے۔ کبھی ہار اور کبھی جیت.... یہ الگ بات ہے کہ عشق میں کامیابی ہو یا ناکامی، دونوں کا حاصل ”خانہ خرابی“ ہوتا ہے۔ ”عمر دراز“ یعنی زندگی اگر طبعی اور لمبی ہو تو اسے چار دن کی کہا گیا ہے ۔ چار دن کی زندگی میں ایک دن بچپن اور ایک دن بڑھاپا اور دو دن جوانی کے ، جیسا کہ ریاض خیر آبادی فرماتے ہیں ۔

کیوں جوانی آئی  دو دن کے لئے

 دن گنے جاتے تھے اس سن کے لئے

 وقت بڑا ستم گر ہے ، حسین ترین پری چہرہ لوگوں کا حشر نشر کردیتا ہے.... ” وقت نے کیا، کیا حسین ستم ۔ تم رہے نہ تم، ہم رہے نہ ہم “....ہمارے ملنے والے ایک صاحب کو ایک پری چہرہ سے عشق ہوگیا۔ پہلے ان کے گھر والے نہیں مانتے تھے، لیکن خودکشی کی دھمکی کے آگے سرنڈر ہوکر لڑکی والوں کے گھر رشتہ لینے چلے گئے، لیکن دُنیا میں ہر کام ہماری یا آپ کی مرضی سے ہوناضروری تو نہیں سو لڑکی والوں نے، بلکہ خود لڑکی نے کورا جواب دے دیا، جس دن لڑکی کی شادی تھی، اس دن عاشق نامراد نے بیس منزلہ عمارت سے نیچے سڑک پر چھلانگ لگا دی۔ نیچے مولٹی فوم والوں کا ٹرک گزر رہا تھا، خوش قسمت تھے، جان بچ گئی ۔ گھر والوں نے فوری بندوبست کرکے لندن بھیج دیا،جہاں وہ پہلے ”اپ سیٹ“ رہے، لیکن بعدازاں ”سیٹ“ ہوگئے ۔بیس سال بعد عارضی طور پر ملنے ملانے وطن آئے۔ شادی کی ایک تقریب میں بڑی بہن نے آواز دے کر بلایا اور دور کھڑی ایک عورت کی طرف اشارہ کرکے کہا کہ پہچانو، کون ہے؟.... کھچڑی بال، سامنے کے دو دانت غا ئب، جھریاں اور موٹاپااس عورت کی نمایاں خوبیاں ،خامیاں یا خرابیاں تھیں۔ بڑا غور کر کے بولے کہ مَیں اس بڑھیا کو نہیں جانتا۔ بہن بولی، یہ بڑھیا تمہاری وہ ”گڑیا“ ہے، جس کے لئے تم بیس منزلہ عمارت سے خودکشی کے لئے کودے تھے ۔شوگر اور موٹاپے نے اس کایہ حال کردیا ہے ۔ سابق عاشق بولے، خدا کا لاکھ شکر ہے میری اس سے شادی نہیں ہوئی۔

بہرحال جوانی کے دن بھی ختم اور بڑھاپا شروع۔ ہر عمر کا اپنا حسن ہوتا ہے، اس حقیقت کے باوجود بڑھاپے سے لوگ عموماً خوف زدہ رہتے ہیں ۔ عملی طور پر اسے روکنے کی بھرپور کوشش کی جاتی ہے ۔ خواتین کے دم سے دُنیا میں ”سنگھار انڈسٹری“ کا حجم اربوں ڈالر ہے، جبکہ مردوں کا زیادہ زور دیسی گھی سے بنی چیزوں، ثقیل خوراکوں اور کشتوںپر ہوتا ہے، لیکن جیسا کہ عالم لوہار کا گیت ہے.... ” گئی جوانی فیر نئیں آﺅندی لکھ خوراکاں کھائیے“.... جوانی تو واپس نہیں آتی، ایسی خوراکوں سے باباجی کا پیٹ تین ہفتے ضرور ”اپ سیٹ“ رہتا ہے۔ بڑھاپے کو تسلیم کرنا بھی دل گردے کا کام ہے ، اکثر بزرگ یہی فرماتے اور گاتے ہیں ”ابھی تو مَیں جوان ہوں“.... اس تناظر میں جناب منیر نیازی کی صاف گوئی کی داد دینا ہو گی ،جو فرماتے ہیں :

کتاب  عمر کا  اک اور  باب ختم   ہوا

 شباب  ختم   ہوا ،  اک  عذاب   ختم   ہوا

اس شعر سے ملتا جلتا ہمارا بھی حال ہے ۔ تاریخ پاکستان کا ایک اور باب ختم ہوا ۔ جمہوریت ،عوام اور خدمت کے نام پر لوٹ مار کا دور ختم ہوا ....”اک عذاب ختم ہوا “ .... ہمیں بلاول بھٹوزرداری کے اس قول زریں کی بڑی اچھی طرح سمجھ آگئی ہے، بلکہ ضرورت سے زیادہ ہی آگئی ہے کہ ”جمہوریت سب سے اچھا انتقام ہے“....جن سے آپ نے انتقام لینا تھا،ان کو تو ”گارڈ آف آنر“ دے کر رخصت کردیااور ان کے حصے کے انتقام کا رخ آپ نے ”جمہور“ یعنی عوام کی طرف موڑ دیا۔ فرض کوئی ادا نہ کیا، لیکن حق کوئی نہ چھوڑا،بلکہ وہ حقوق جو آئین کے مطابق بنتے تھے ان پر اکتفا نہ کیا، بلکہ من مانے بل منظور کراکے لمبی چوڑی مراعات تاحیات حاصل کرلیں ۔ ہمیں اپنی انتہائی قابل احترام سپیکر صاحبہ سے گلہ ہے کہ وطن نے آپ کو کتنی عزت دی۔ آپ نے بھی جواب میںوطن کو کچھ دینا تھا،مگر آپ نے بھی جاتے جاتے لمبے چوڑے کروڑوں کے بل وطن عزیز سے علاج کے نام پر وصول کرلئے اور لمبی چوڑی مراعات کی تاحیات وصولی کا بل منظور کرالیا۔آپ کو اﷲتعالی نے بہت نوازا ہے ، آپ کو اس کی ضرورت تو نہیں تھی۔ آپ ہزاروں سال جئیں، مگر ایک دن تو اس دنیا سے جانا ہی ہے۔ آپ کے جانے سے وطن عزیز پر یہ خرچہ، جو آپ نے ڈالا ہے، بند نہیں ہوگا،بلکہ آپ کے اس ”خرچہ جاریہ“ کی وجہ سے بعدمیں بھی جو سپیکر آئیں گے اور آتے جائیں گے، وہ سب بھی آپ کے اس بل کی وجہ سے تاحیات وطن عزیز پر بوجھ بنے رہیں گے ۔ کاش یہ سب غلط ہو، لیکن یہ سب کچھ اخبارات میں آیا ہے اور آپ کی طرف سے تردید نہیں آئی ۔ ڈپٹی سپیکر صاحب نے بھی کم نہیں کیا۔ اربوں کا پلازہ کروڑوں میں لے لیا ہے اور وہ بھی اقساط میں ۔ یہ سب بھی اخبارات میں آیا ہے ۔

جمہوریت کے نام سے ” بہترین انتقام“ جمہور سے لینے وا لوں کی ایک گردان” کلین سویپ“بھی ہے۔ ہم سمجھ رہے تھے کہ یہ لوگ الیکشن میں کامیابی حاصل کرنے کو ”کلین سویپ“ کہتے ہیں ۔ پتہ چلا کہ خزانے کی صفائی کو ”کلین “ تو پانچ سال ہوتی رہی، لیکن یہ وہم رہ گیا کہ شاید صفائیسویپ“ کہا جاتا ہے ۔ خزانے کی ”سویپنگ“ تو پانچ سال ہوتی رہی، لیکن یہ وہم رہ گیا کہ شاید صفائی اچھی طرح، یعنی ”کلین“ نہیںہوئی، سو ”کلین سویپنگ“ کے لئے ہماری سابقہ حکومت نے ہفتہ کی تعطیل کو سپیشل نوٹیفکیشن جاری کرکے معمول کے دن میں تبدیل کیاتاکہ خزانے کی اچھی طرح جھاڑپونچھ ہو جائے ۔ قوم کے غم میں اپنی چھٹی بھی قربان کردی، اب اور کتنی قربانیوں سے قوم کی تسلی ہوگی ۔

” نام نہاد جمہوریت کا اک دور ختم ہوا ، اک عذاب ختم ہوا “.... لیکن ہم وثوق اور یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ واقعی یہ عذاب ختم ہوا ہے یا ”شارٹ بریک“ آئی ہے؟ ....گزشتہ حکومت کے کرتا دھرتاﺅں کو تو یقین ہے کہ قوم اب انہیں منتخب نہیں کرے گی، اسی لئے تو خزانے کی ”کلین سویپنگ“ کی گئی ہے کہ اب ایسا سنہری موقع پھر نہیں ملے گا۔ جب کشتی یا جہاز ڈوبنے لگتا ہے تو سب سے پہلے چوہے چھلانگیں مارنا شروع کر دیتے ہیں ۔ سابقہ حکومت کی”کشتی“ سے بھی چوہوں نے چھلانگیں مارنا شروع کی ہیں، لیکن افسوس ! جو ”چوہے مار گولیوں“کے حق دار تھے، دوسری پارٹیوں خصوصاً مسلم لیگ(ن) نے ان کو”پنیر کی گولیاں“ دی ہیں سو اس کا بھی سو فیصد امکان موجود ہے کہ ” عذاب کا دور“ ختم نہ ہو بلکہ ”شارٹ بریک“ کے بعد اس کا سلسلہ پھر سے شروع ہو جائے ۔

ہم یہ سطور پڑھنے والوں سے یہ گزارش کریں گے کہ کم از کم آپ ضرور اپنا فرض ادا کریں ۔ ان پیشہ ور بازی گروں کو جو بار بار پارٹی بدل کر اقتدار میں آجاتے ہیں ، ان کو ووٹ نہ دیں ۔ اگر آپ کی پسندیدہ پارٹی نے ان کو ٹکٹ دیا ہے تو بھی بطور احتجاج ان کو ووٹ نہ دیں تاکہ آئندہ پارٹی بھی ایسے ضمیر فروشوں کو ٹکٹ نہ دے ۔ یاد رکھیں ، آپ بھی اﷲکے حضور جواب دہ ہیں ۔ ان لوگوں کو طاقت آپ کے ووٹ سے ملتی ہے ۔ آپ کی مہیا کردہ طاقت سے اگر یہ اغوابرائے تاوان، ڈکیتی یا دیگر جرائم کی سرپرستی کریں گے، کرپشن کریں گے تو ان کے گناہوںکا کچھ فیصد آپ کے نامہ اعمال میں بھی جائے گا ۔ مہربانی کرکے اس بارے میںذرا سوچئے۔    ٭

مزید : کالم