انتخابات اور تنازعات

انتخابات اور تنازعات
انتخابات اور تنازعات

  

نگران وفاقی وزیر داخلہ کے ٹیلی ویژن انٹرویو کی بنیاد پر ایک تنازعہ پیدا ہو گیا۔ حتیٰ کہ الیکشن کمیشن نے بھی وزیراعظم کو خط لکھ کر وزیر موصوف کی رخصتی کے لئے اپیل کر دی۔ ایسے میں پاکستان مسلم لیگ(ق) کے مرکزی صدر اور سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین کہتے ہیں کہ نگران حکومتیں تجاوز کر رہی ہیں، ان نگران حکومتوں کا کردار واضح ہونا چاہئے۔

چودھری شجاعت حسین نے الیکشن کمیشن آف پاکستان سے بھی کہا ہے کہ وہ نگران وزراءکے عمل پر نگاہ رکھے۔ یہ اور ایسے کئی سوال اُٹھائے جا رہے ہیں۔ سندھ کی بعض سیاسی جماعتوں اور مسلم لیگ(ن) کی طرف سے سندھ اور خیبر پختونخوا کے گورنروں پر بھی اعتراض ہے۔ اس طرح انتخابی فضا ابھی بن نہیں پا رہی کہ الزام تراشی شروع ہو گئی ہے۔ ہمیں یاد ہے کہ پاکستان میں جب جب بھی انتخابات ہوئے، اعتراضات اور الزام ساتھ چلتے رہے۔ 1970ءمیں ہونے والے انتخابات کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ آزادانہ تھے اور ان کے نتیجے میں ملک دو ٹکڑے ہو کر دو ملک بن گئے۔

موجودہ پاکستان کا اقتدار جب ذوالفقار علی بھٹو کو ملا تو میاں محمود علی قصوری اُن کے وزیر قانون تھے، اُن کی رخصتی کے بعد حفیظ پیرزادہ بھی رہے ،تاہم ہمیں ذکر مقصود ہے اپنے شہر دار ملک اختر (مرحوم) کا۔ وہ1970ءمیں قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہونے سے قبل پنجاب اسمبلی کے رکن بھی رہے ۔وہ س کو ش بولتے تھے۔ پیپلزپارٹی کے مرکزی وزیر قانون کی حیثیت سے وہ بہت متحرک بھی رہتے تھے۔لاہور ان کا اپنا آبائی شہر تھا، چنانچہ جب بھی وہ یہاں آتے تو خصوصی پروٹوکول لیتے، اُن کی کار کے آگے سائرن والی گاڑی سائرن ضرور بجاتی کہ یہ خود اُن کی اپنی خواہش ہوتی تھی۔

ہماری ملک اختر سے یاد اللہ لاہور میونسپل کارپوریشن سے تھی، جب وہ کونسلر ہوا کرتے تھے۔ ویسے اُن کی رہائش اور ہمارا محلہ بھی قریب قریب تھے اور یہ اُن کا حلقہ انتخاب بھی تھا۔ یہ 1976ءکے آخری مہینوں کا ذکر ہے، ہم اُن دنوں بلدیات کی بیٹ بھی کیا کرتے تھے۔ ایک روز لاہور میونسپل کارپوریشن کے ایڈمنسٹریٹر سعید احمد (مرحوم) کے دفتر میں اُن کے پاس بیٹھے تھے کہ ملک اختر آ گئے، ہماری بھی سلام دعا ہوئی۔ جب وہ سعید احمد صاحب کو اپنا کام بتا چکے تو ہم نے پوچھا: ملک صاحب! انتخابات کب کروا رہے ہیں۔ تو ان کا برجستہ جواب تھا:” ہم پاگل ہیں کہ جلد الیکشن کرا دیں“۔ 1970ءمیں انتخابات ہوئے تو ملک ٹوٹ گیا تھا، لیکن ذوالفقار علی بھٹو نے اس کے برعکس فیصلہ کیا اور عام انتخابات کا اعلان کر دیا۔1977ءمیں یہ انتخابات ہوئے، ملک تو نہ ٹوٹا، حکومت ٹوٹ گئی اور پھر ذوالفقار علی بھٹو بھی پھانسی چڑھا دیئے گئے۔

یہ تو دو انتخابات کا ذکر ہے۔ ایک پروفیشنل صحافی ہونے کی حیثیت سے ہم نے1985ءسے1997ءتک ہونے والے انتخابات کی کوریج بھی کی اور اس کے لئے مرکزی قائدین کے ساتھ دوسرے شہروں کے دورے بھی کئے۔1997ءکے انتخابات کی انتخابی مہم میں مقابلہ براہ راست پاکستان مسلم ....( اس وقت چودھری برادران سمیت بہت سے لیڈر میاں نواز شریف کی مسلم لیگ میں تھے۔ ن کا لاحقہ تو اس کے ساتھ پرویز مشرف دور میں لگا، جب ان کی سرپرستی میں مسلم لیگ(ق) بن گئی).... اور پاکستان پیپلزپارٹی میں ہوا۔ پیپلزپارٹی کی انتخابی مہم کی قیادت محترمہ بے نظیر بھٹو اور مسلم لیگ کی میاں محمد نواز شریف نے کی تھی۔انتخابی سرگرمیوں کے دوران رمضان المبارک کے روزے بھی آئے۔ انتخابی مہم کے لئے دونوں پارٹیوں کے سربراہوں نے ہیلی کاپٹر بھی کرائے پر لئے، بے نظیر بھٹو نے روسی ہیلی کاپٹر کرائے پرلیا۔ یہ ایک بڑا ہیلی کاپٹر تھا اور اس میں اُن کے آرام کے لئے بھی گنجائش پیدا کی گئی تھی۔ اسی طرح قائد مسلم لیگ میاں محمد نواز شریف بھی ہیلی کاپٹر سے مستفید ہوئے۔ یہ اِس لئے یاد آیا کہ اب مسلم لیگ (ن) نے ہیلی کاپٹر کرائے پر لے لیا ہے اور اس کی انتخابی مہم بھی شروع ہو گئی ہے۔ پیپلزپارٹی ابھی تک ٹکٹوں کی تقسیم کے چکر میں الجھی ہوئی ہے۔

الیکشن مہم شروع تو ہونی ہے، تعطل سکروٹنی کے عمل کی وجہ سے نظر آیا، ورنہ امیدوار اپنے اپنے طور پر کنویسنگ میں مصروف ہیں اور الزام تراشیوں کا سلسلہ بھی شروع ہے۔ ایسے میں اب گفتنی نا گفتنی شروع ہو گئی ہیں اور ذاتی حملے بھی ہونے لگے ہیں، حالانکہ الیکشن کمیشن نے انتخابی ضابطہ¿ اخلاق بھی جاری کیا ہوا ہے، جو تمام سیاسی جماعتوں کی مشاورت سے بنایا گیا۔

ہمارے مشاہدے کے مطابق ابھی تک کوئی ایسا الیکشن یاد نہیں جو پُرسکون انداز سے ہوا ہو، ہر انتخاب میں الزام لگتے اور مخالفین کے خلاف پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے، لیکن جو صورت حال اس وقت ہے، وہ پہلے کبھی نہیں تھی۔ آج تو نہ صرف ایک دوسرے کے خلاف شدید نوعیت کی الزام تراشی ہو رہی ہے، بلکہ نگرانوں کو جانبدار قرار دیا جا رہا اور الیکشن کمیشن کو بھی مورد الزام ٹھہرایا جا رہا ہے، حالانکہ ہر کوئی یہ کہہ رہا ہے کہ یہ انتخابات بہت زیادہ اہمیت رکھتے ہیں اور ملک میں جمہوریت کا مستقبل ان سے وابستہ ہے۔ اگر یہی بات ہے اور الیکشن کمیشن کا ضابطہ ¿ اخلاق بھی مشاورت کے ذریعے بنا اور طے شدہ ہے تو پھر اس پر عمل کیوں نہیں ہوتا؟جہاں تک چودھری شجاعت حسین کا یہ کہنا ہے کہ نگران حکومت کے اختیارات اور حد ود واضح ہونا چاہئیں، تو حضور یہ آپ حضرات کے کرنے کے کام تھے۔ جب20ویں آئینی ترمیم کے ذریعے نگران حکومت کا سلسلہ شروع کیا جا رہا تھا تو اس وقت حدود کا تعین کیوں نہ کر دیا گیا؟ بہرحال ہمارے نزدیک تو نگران حکومت کا فرض یہ ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ پُرامن ماحول میں آزادانہ، منصفانہ اور شفاف تر الیکشن کرائے۔ اب ان مقاصد کے لئے نگران حکومت بنی تو پھر اس کے لئے ان کو انتظامات بھی کرنا ہیں اور وہ کریں گے، لہٰذا اعتراض بجا نہیں۔ بہتر ہو گا کہ آنے والی اسمبلی اس میں ترمیم پر بھی غور کر لے۔    ٭

مزید : کالم