انوکھا لاڈلا، کھیلن کو مانگے چاند رے

انوکھا لاڈلا، کھیلن کو مانگے چاند رے
انوکھا لاڈلا، کھیلن کو مانگے چاند رے

  

پاکستان میں انتخابی عمل اپنی مقررہ رفتار سے آگے بڑھ رہا ہے۔ عمل کی رفتار وہی ہے جو مقرر کی گئی ہے ،لیکن لوگ ہیں کہ ابھی تک پُر اعتماد نہیں کہ انتخابات ہونے جارہے ہیں۔ ان لوگوں کو یہ کیوں نہیں معلوم کہ دوسرا راستہ کوئی اور نہیں ہے۔ انتخابات ہوں گے، اپنے وقت پر ہی ہوں گے۔ شکوک وشہبات کا اظہار لوگوں کی اس کوشش پر قدغن لگانے کے برابر ہے، جس کے تحت عوام آئندہ پانچ سال کے لئے اپنے نمائندے منتخب کریں گے۔ یہ ایک سادہ سی تجویز تمام تعلیم یافتہ لوگ پیش کرتے ہیں اور اپنے تئیں سادہ لوح ، بے اثر عوام کو یہ نصیحت کرتے ہیں کہ اگر اپنی تقدیرکو تبدیل کرنا ہے تو ووٹ اپنے ضمیر کی آواز پر دیں۔ پاکستان میں کئی ایسی سیاسی ، سماجی رسومات ہیں، جن پر لوگ بادل نخواستہ بھی عمل کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ ہر سماج میں معاملات در معاملات ایسے ہوتے ہیں کہ آپ ان سے جان چھڑانے چاہتے ہیں، سنجیدہ ہوتے ہیں، لیکن ان پر اپنی نفسیات کے دباﺅ کے پیش نظر عمل کرتے ہیں۔ اسی طرح پاکستان میں ووٹ ڈالنے کا مسئلہ بن گیا ہے۔ محقق ڈاکٹر در محمد پٹھان کا تعلق لاڑکانہ سے ہے۔ آپ اپنی ذاتی کوششوں سے اپنے والدین کے نام پر قائم کئے گئے گل حیات انسٹی ٹیوٹ میں تحقیقی کام کرتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کے اس ادارے میں سندھ کے بارے میں جو مواد موجود ہے، وہ کسی اور سرکاری ادارے کے پاس بھی موجود نہیں اور کمال یہ ہے کہ جو بھی معلومات حاصل کرنا ہوں، صرف ایک ایس ایم ایس کے ذریعے ڈاکٹر صاحب سے حاصل کی جاسکتی ہیں۔

ڈاکٹر صاحب کا ایک ایس ایم ایس آیا جس میں کہا گیا ہے کہ ” اس وقت حالات نے ہمیں اپنا مقدر بدلنے کا موقع دیا ہے۔ اگر تدبر، بصیرت، دانشمندی اور ہوش سے کام نہ لیا تو خون کے آنسو بہانے پڑیں گے“۔ ولی رام ولپ ایک ممتاز دانش ور ہیں۔ سندھی زبان کے ایسے کہانی نویس ہیں، جنہیں پڑھنے والوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ ایک اخبار میں ” ووٹ دینے سے قبل سوچئے گا ضرور “ کے عنوان سے ایک سلسلہ جاری ہے۔ اس میں ولی رام ولپ ووٹروں سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ ” آپ وڈیروں اور پیروں کے کہنے پر غیر مناسب اثر و ر سوخ کے نتیجے میں ووٹ دیتے رہے ہیں، نتیجے میں جو کچھ ہوا سو ہوا، اب کھلے ذہن سے سوچ سمجھ کر ووٹ دینا چاہئے “ ۔

مَیں نے ڈاکٹر در محمد پٹھان اور ولی رام ولپ کی مثالیں اس لئے دی ہیں کہ دونوں حضرات کا بنیادی تعلق ایسے علاقوں سے ہے، جن کا پس منظر دیہی ہے ۔ کاشت کاری ذریعہ معاش کا بنیادی جز وہے ۔ زمین زمیندار کی اور محنت ہاری کی۔ نقصان میں دونوں برابر کے شریک۔ یہ ہے معیشت کاوہ ڈھانچہ جس نے کاشت کاری کرنے والوں اور ہل چلانے والوں کو زمیندار کا محتاج بنایا ہوا ہے۔ اپنی اپنی حیثیت میں یہ زمیندار ایس ایس پی سے لے کر سپاہی تک اپنی مرضی سے مقرر کراتے ہیں اور علاقے پر راج کرتے ہیں۔ ان کے اس راج کو جو چیلنج کرتا ہے، اس کے لئے علاقے کی زمین تنگ ہو جاتی ہے۔ ڈاکٹر پٹھان اور ولی رام کو تو اچھی طرح علم ہے کہ اگر آپ کے علاقے کا زمیندار، بااثر شخص کسی بھی بات پر آپ سے ناراض ہو جائے تو علاقے میں رہنا اور جینا دو بھر کردیا جاتا ہے۔

علاقے کے بد معاش، زمیندار کے اشارے پر کسی نہ کسی حیلے، بہانے تنگ کرتے ہیں، پولیس گھر کے چکر لگاتی ہے، جھوٹا مقدمہ درج کرا دیا جاتا ہے، سڑک پر چلتے ہوئے کوئی الجھ پڑتا ہے، گھر کی خواتین باہر نہیں نکل سکتیں ، بچہ سکول نہیں جا سکتا ۔ سکول میں استاد، جسے زمیندار نے ہی رکھوایا ہوتا ہے ، بچے کو تنگ کرتا ہے یا پھر اسے زد و کوب کرنے کے بہانے تلاش کرتا ہے۔ کوئی مدد کے لئے پیش قدمی نہیں کرتا۔ پولیس ، تھانہ ، عدالت کام نہیں آتی اور متاثرہ شخص کو زمیندار کے دروازے پر ہی عافیت تلاش کرنا پڑتی ہے۔ ان حالات میں کوئی کرے تو کیا کرے۔ ان علاقوں میں تو کوئی ایسا بھی نہیں ملتا، جس کے کندھے پر سر ہی رکھ کر رویا جاسکے، اس لئے کہ زمیندار سے عداوت لینا کوئی بھی نہیں چاہتا ۔ گنتی کے بڑے شہروں کو چھوڑ کر دیگر شہروں، قصبوں میں حالات یکساں ہیں اور دیہاتوں میں عام آدمی کی کوئی حیثیت ہی نہیں ۔ جسے ذرہ برابر شک ہو وہ بھیس بدل کر پنجاب، سندھ، بلوچستان یا خیبر پختونخوا کے کسی بھی علاقے میں چلا جائے، اسے اندازہ ہوجائے گا کہ معمولات زندگی اس کے دائر اختیار میں نہیں ہیں۔

ٹنڈو محمد خان سے پیپلز پارٹی کی صوبائی اسمبلی کی امیدوار وحیدہ شاہ کا واقعہ ہمارے سامنے ہے کہ خواتین پولنگ سٹاف کو انہوں نے پولنگ سٹیشن میں سرکاری فرائض کی ادائیگی کے دوران چانٹے مارے ، بعد میں خواتین کو مجبور کیا گیا کہ انہیں تحریری طور پر معافی نامہ لکھ کر دیں۔ ان خواتین نے نہ صرف معانی نامے لکھے.... بلکہ حکام کے سامنے بیان بھی دیا کہ انہیں کوئی شکایت نہیں ہے۔ ان خواتین کے بیان ہر گز رضاکارانہ نہیں تھے، خاندان کے دباﺅ نے انہیں مجبور کیا کہ وحیدہ شاہ کو معاف کر دیں ۔ سپریم کورٹ سے لے کر الیکشن کمیشن تک اور صوبائی حکومت کے تمام کل پرزے اس صورت حال میں بھی ان خواتین پولنگ اسٹاف کی داد رسی کے لئے کھڑے نہیں ہوئے۔ بے عزتی بھی ان کی ہوئی اور معافی نامہ بھی جبری طور پر حاصل کیا گیا۔ کاش انگریز کا زمانہ ہوتا تو دیکھتے کہ سرکار کی ملازم خواتین کی کس نے بے عزتی کی ہوتی۔

ہندوستان میں کسی علاقے میں ہاتھا پائی کے دوران ایک ڈاکیا کی پگڑی گر گئی تھی تو انگریز حکومت کے اہل کاروں نے علاقے کا دانہ پانی اس وقت تک بند کردیا تھا، جب تک ملزم پیش نہیں کیا گیا تھا ۔ سرکار کا موقف تھا کہ ڈاکیا کی پگڑی نہیں، بلکہ ملکہ برطانیہ کا تاج اچھالا گیا، جسے نظر انداز کرنے یا در گزر کرنے کی گنجائش نہیں ہے۔ یہ ہوتا ہے اپنا اپنا رویہ اور طرز حکومت ، اسی لئے تو کہتے ہیں کہ چہرے نہیں، بلکہ طرز حکمرانی بدلو۔ جب طرز حکمرانی بدل جائے گی ، تب ہی لوگ اپنا ووٹ بھی اپنے ضمیر کی آواز پر دے سکیں گے۔

الیکشن کمیشن نے امیدواروں کے بارے میں جو تفصیلات جاری کی ہیں، ان کے مطابق کروڑوں اور اربوں روپے رکھنے والوں کی طرف سے انکم ٹیکس ادائیگی کی تفصیل دیکھ کر ہی اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ جس قوم کے منتخب نمائندے ٹیکس چوری کریں گے، اس قوم کا انجام کیا ہوگا۔ کس کس کا نام لکھا جائے، چند ہی ایسے ہوں گے جونمائندگی کے حق دار ہوں گے، باقی تو اپنے لئے اثر و رسوخ حاصل کرنے، مال بنانے کا راستہ ہی تلاش کرتے ہیں ۔ جس ملک میں سیاست بھی مورثی بنیادوں پر کی جائے، وہاں اسمبلی کی نشست بھی ذاتی جائیداد تصور کی جاتی ہے۔ اس تصور کو ختم کرانے کے لئے شہروں میں رہائش رکھنے والے تعلیم یافتہ، روشن خیال، انسانی حقوق اور ضروریات سے آگاہ ، قانون سے واقف لوگوں کو دیہی علاقوں کا رخ کرنا پڑے گا ، اپنی اپنی ذمہ داری پوری کرنا ہوگی تاکہ پاکستان کو مورثی سیاست کی وبا سے نجات دلائی جائے۔ ذرائع ابلاغ کے ذریعے نصیحت کا م نہیں کرے گی۔

یہ مورثی سیاست ہی تو ہے کہ صدر آصف علی زرداری کی دو بہنیں، بہنوئی، بہنوئی کے بھائی، صدر کے دودھ شریک بھائی ، مختلف حلقوں سے امیدوار ہیں۔ صرف صدر پاکستان ہی نہیں، بلکہ پیپلز پارٹی ، مسلم لیگ (ن)، شیرازی براردان، ریگستانی تھرپارکر کے ارباب، اور دیگر درجنوں خاندانوں سے وابستہ افراد انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔ ضلع ٹھٹھہ ہو یا کوئی اور علاقہ، کئی اضلاع اور حلقوں میں تو ایسا ہونے جارہا ہے کہ والد، بھائی، بیٹے، داماد، بہنوئی، بھتیجے، بھانجے غرض تمام قریبی رشتہ دار امیدوار ہیں۔ شیرازی برادران ، دادو ، مورو اور شکار پور کے جتوئی حضرات، گھوٹکی اورشکارپور کے مہر حضرات یا کوئی اور ، سب کا رویہ ایک جیسا ہے۔ سیاسی جماعت آئے روز تبدیل کرنا معمول ہے۔ عوامی نمائندگی تو برائے نام ہے، یہ نقشہ تو کسی لمیٹڈ کمپنی کا ہے۔ کمپنی کے کثیر حصص زیادہ سرمایہ کاری کرنے والوں کے اختیار میں ہوں گے اور عوام کے پاس تو کوئی بھی حصص نہیں ہوگا، بلکہ ایک ووٹ ہوگا، وہ بھی انہیں شہری علاقے ہوں یا دیہی، اپنے اپنے وڈیروں کے اشارے پر دینا ہوگا۔ اس تماش گاہ میں سارے ہی ” انوکھا لاڈلا، کھیلن کو مانگے چاند رے “ کا قصہ ہے۔ ہر خاندان میں ہر شخص کو ، خواہ اہل ہو یا نااہل، نمائندگی کا تمغہ اپنے سینے پر سجانا ہے۔  ٭

مزید : کالم