جاگےر داروں کے مفادات کے لئے غرےب کی قربانی ،کب تک؟

جاگےر داروں کے مفادات کے لئے غرےب کی قربانی ،کب تک؟
 جاگےر داروں کے مفادات کے لئے غرےب کی قربانی ،کب تک؟

  

غرےب کی جورو سب کی بھاوج “ ....کبھی اس محاورے کو سمجھنا اور اس سلسلے مےں مثال تلاش کرنا اےک مشکل کام ہوتا تھا ، اب اس سے زےادہ آسان کام اور کوئی نہےں، اِس لئے کہ پاکستان کی سر زمےن پر غرےب کو جو چاہے اپنی بھاوج بنا لےتا ہے ۔ غرےب کا صرف اتنا قصور ہی کافی ہے کہ وہ غرےب ہے ۔ غرےب قومی اسمبلی کا رکن ہو کر بھی ” غرےب “ ہی رہتا ہے، اگر وہ کسی عہدے کے زعم مےں پاکستان کے جاگےردارانہ سسٹم کو آنکھےں دکھانے کی حماقت کر بےٹھے تو اسے اس کی ”اوقات“ ےاد کروانے کے لئے قانون حرکت مےں آجاتا ہے اور جائز ےا ناجائز کی پروا کئے بغےر اس کا انجام وہی ہوتا ہے، جو جمشےد دستی کا ہوا۔ اےک مزدور اور پہلوان کے بےٹے سے ےہ کس نے کہا تھا کہ نواب زادوں ، سرداروں اور کھروں کے درےا مےں رہ کر ان ”مگر مچھوں“ کو آنکھےں دکھائے، وہ بھی ”زرداری کی چھتری “ سے نکل کر....!

2010ءمےں جمشےد دستی کے خلاف سپریم کورٹ آف پاکستان مےں جعلی ڈگری کا مقدمہ زےر سماعت آےا ۔ سپرےم کورٹ کے چےف جسٹس افتخار چودھری کی سربراہی مےں چھ رکنی بنچ نے اس کی سماعت کی ۔ سماعت کے دوران معزز بےنچ کے رکن جسٹس طارق پروےز نے اپنے رےمارکس مےں جمشےد دستی کو کہا کہ اگر ان کے خلاف فےصلہ دے دےا گےا، تو وہ ضمنی انتخاب مےں بھی حصہ نہےں لے سکےں گے، اِس لئے وہ قومی اسمبلی کی رکنےت سے مستعفی ہو جائےں ۔ سپرےم کورٹ نے انسانی ہمدردی کے پےش نظر جمشےد دستی کو سوچنے کے لئے کچھ وقت بھی دےا ۔ اس وقت کے دوران جمشےد دستی نے سپرےم کورٹ کو آگاہ کےا کہ وہ قومی اسمبلی کی رکنےت سے مستعفی ہونے کو تےار ہےں ۔ اس کے بعد انہوں نے قومی اسمبلی کی رکنےت سے مستعفی ہو کر ضمنی انتخاب مےں حصہ لےنے کی تےارےاں شروع کر دےں۔ سپریم کورٹ نے انہیں باقاعدہ نااہل قرار نہیں دیا۔

ضمنی انتخابات مےں اس وقت کی وزےر خارجہ حنا ربانی کھر نے اپنے طبقاتی تضاد کو پےش نظر رکھتے ہوئے ےہ برداشت نہ کےا کہ اےک مزدور کا بےٹا اپنے طبقے کی آواز بن سکے ۔ اِسی بنےاد پر انہوں نے جمشےد دستی کی مخالفت کی ۔ نوابوں، کھروں اور سرداروں کے درمےان گھرے ”مزدور کے بےٹے کے ہمدرد مزدوروں نے بھی آپس مےں اتفاق کر لےا ۔ اس طرح نواب زادے، سردار اور کھر عوام کا مقابلہ نہ کر سکے اور نتےجہ جمشےد دستی کی کامےابی کی صورت سامنے آےا“ .... مزوور کےونکہ بنےادی طور پر ” غرےب “ ہوتا ہے، اس لئے دُنےا بھر کی خامےاں اس مےں تلاش کی جا سکتی ہےں، لےکن اس سچ سے انحراف ممکن نہےں کہ جب ےہی ” غرےب “ حضرت امام حسےن ؓ کا پرچم تھام لےتا ہے، تو پھر منافقت اس کے قرےب سے بھی نہےں گزرتی ۔ ےقےنا اس انتخابی مہم کے دوران ہی جمشےد دستی نے بھی ےہ فےصلہ کر لےا تھا کہ وہ اب حق کا پرچم تھام کر سےاست کرےں گے ، کےونکہ اےک فوجی آمر کے قانون کو شکست دےنے کے لئے جعلی ڈگری استعمال کرنے کی سزا وہ ”شرمندگی “ کی صورت بھگت چکا تھا ۔ ”شرمندگی “ واحد سزا ہے جو بعض اوقات انسان کو خود کشی تک بھی لے جاتی ہے ۔ےہ سزا جمشےد دستی سپرےم کورٹ مےں بھگت چکا تھا ۔ اس کے بعد ہر ٹاک شو مےں جعلی ڈگری کا طعنہ اس کے ضمےر پر کس طرح تازےانے برساتا ہو گا؟ ےہ تو وہی بتا سکتا ہے ۔ ہمارے سامنے تو ےہ حقےقت ہے کہ اس کے بعد جمشےد دستی اور حنا ربانی کھر مےں سرد جنگ کا آغاز ہوا۔ حکومت اس جنگ سے مکمل طور پر آگاہ تھی، لےکن اس وقت بھی بات طبقاتی تضاد کی تھی۔

 صدر آصف علی زرداری غرےبوں ، مزدوروں، کسانوں ، ہارےوں ، محنت کشوں اور جھگی نشےنوں کی باتیں تو بہت بلند آہنگ میں کرتے ہیں ، لےکن ہیں تو وہ اےک بلوچ سردار .... وہ اےک مزدور کا ساتھ کےسے دے سکتے تھے؟ دوسری طرف اس وقت کے وزےراعظم جو اپنی گدی پر غرےبوں اور مزدوروں سے نذرانے وصول کرنا تو اپنا حق سمجھتے ہےں، لےکن اپنے طبقے کو چھوڑ کر غرےب کے کندھے سے کندھا ملانے کو اپنی توہےن جانتے ہےں ، وہ بھی اپنے طبقے کے ساتھ نظر آئے تو جمشےد دستی نے بھی ان پتوں پر تکےہ کرنے کی بجائے اپنے طبقے پر اعتماد کرتے ہوئے حنا ربانی کھر کے مقابلے مےں انتخاب لڑنے کا اعلان کر دےا ۔ نوابوں ، سرداروں اور جاگےر داروں کی نمائندہ حکومت نے دباﺅ ڈالا، تو اس نے حکومتی پارٹی کو خےر با دکہتے ہوئے انتخابات مےں آزاد امےدوار کی حےثےت سے حصہ لےنے کا اعلان کر دیا۔ اس کی والدہ سکےنہ بی بی نے اپنے بےٹے کو لاکھ سمجھانے کی کوشش کی کہ جاگےر دارانہ نظام کے خلاف جدوجہد اور حنا ربانی کھر کی مخالفت سے باز آ جائے، کےونکہ اس مخالفت کا نتےجہ اس کے حق مےں بہتر نہےں ہو گا، لےکن جمشےد دستی جو فےصلہ کر چکا تھا، وہ اس پر ڈٹا رہا اور نتےجہ جعلی ڈگری کےس کے الزام مےں سزا ، جرمانے اور انتخابات مےں کاغذات کی نامنظوری اس کا مقدر ٹھہری ۔

جمشید دستی کی سزا ، جرمانے اور نااہلی کی سزا سے جو سوال پےدا ہوتا ہے ، اب اس کی طرف آتے ہےں ....کےا رےٹرننگ آفےسر کے اختےارات ، سپرےم کورٹ کے چھ رکنی بنچ سے زےادہ ہےں ؟ جب سپرےم کورٹ کے بنچ نے جعلی ڈگری کےس کی سماعت کے دوران انہیں ناہل قرار دےنے کی بجائے ےہ رعایت دی کہ وہ اسمبلی رکنےت سے مستعفی ہو کر ضمنی انتخاب مےں جا سکتے ہےں، تو پھر رےٹرننگ آفےسر کو ےا الےکشن کمیشن کو ےہ اختےار کس نے دےا کہ وہ اس کےس کے الزام مےں، جس کی سماعت کے دوران سپرےم کورٹ ان سے استعفا لے چکی ہے، ان کو الےکشن سے نا اہل قرار دے۔ نا اہلی کا دوسرا طرےقہ ےہ تھا کہ ان کی ڈگری ہائےر اےجوکےشن کمیشن کو تصدےق کے لئے بھےجی جاتی اور اےچ۔ ای۔ سی اسے جعلی قرار دے کر پاکستان الےکشن کمیشن کو بھجواتا، تو اس بنےاد پر اسے نا اہل قرار دےا جا سکتا تھا ۔ اس جعلی ڈگری کےس کی سماعت پاکستان سپرےم کورٹ کر چکا تھا، اِس لئے اس ڈگری کو اےچ ۔ ای ۔ سی کو بھیجنے کی ضرورت بھی محسوس نہےں کی گئی ۔ اس حقےقت سے آج اس وقت پردہ اٹھا، جب ہائےر اےجوکےشن کمیشن کے چےئر مےن جاوےد لغاری نے اےک نجی ٹی وی چےنل پر ےہ بتاےا: ”جمشےد دستی کی ڈگری کو جعلی قرار دےنا تودور کی بات ، ہم نے تو اس کی ڈگری دےکھی بھی نہےں “ ۔

قارئین! سپرےم کورٹ جمشےد دستی کو نا اہل قرار دےنے کی بجائے انسانی بنےادوں پر ےہ سہولت دے رہی ہے کہ وہ اپنی نشست سے مستعفی ہو کر دوبارہ عوام کی عدالت مےں جا کر عوام سے اپنے مقدمے کا فےصلہ کروائےں اور عوام انہیں دوبارہ منتخب کر کے ان پر اپنے اعتماد کا اظہار کر دےتے ہیں ۔ ہائےر اےجوکےشن کمیشن نے ان کی وہ جعلی ڈگری دےکھی بھی نہےں ، تو پھر ان کو سزا دے کر انتخابات کی دوڑ سے نکالنے کا فےصلہ کہاں سے رےٹرننگ آفےسر اور متعلقہ جج تک پہنچا ۔ پاکستانی قوم کی طرح مجھے بھی چےف الےکشن کمشنر کی دےانت پر تو مکمل اعتماد ہے، لےکن الےکشن کمیشن کے دےگر ممبران کی سےاسی تقررےوں پر شک بھی ہے ۔ کےا جمشےد دستی کی سزا اور نااہلی الےکشن کمیشن کی غےر جانبداری پر اےک اور سوالےہ نشان نہےں؟ کےا پاکستان سپرےم کورٹ اپنی ماتحت عدلےہ کو اس قدر بے لگام کر چکی ہے کہ وہ سپرےم کورٹ کی دی ہوئی رعایت کو بہ ےک جنبش قلم مسترد کرتے ہوئے اپنا فےصلہ نافذ کر سکتی ہے ۔ پاکستان کا مزدور اس سوال کا حق رکھتا ہے کہ آخر کب تک نوابزادوں ، کھروں ، گدی نشےنوں اور سرداروں کے مفادات پر غرےب کو قربان کےا جاتا رہے گا ۔ کسی شاعر نے اےسے حکمرانوں کے لئے بڑے خوبصورت انداز مےں تنبیہ کی ہے :

ےہی زرد زرد چہرے ، ےہی لوگ جاں بلب سے

کبھی انتقام لےں گے ، تےری زر نگار شب سے

مزید : کالم