سندھ کے ” سیاسی پرندے“

سندھ کے ” سیاسی پرندے“
سندھ کے ” سیاسی پرندے“

  

سائبیریاکے پرندے کب لمبی اُڑان بھر کر سندھ میں آتے ہیں اور جھیلوں پر بسیرا کرتے ہیں؟ کوئٹہ اور قندھار سے آنے والی ہواو¿ں کا رُخ کب سندھ کے موسم میں تبدیلی لاتا ہے؟ ....اور سندھ کے سیاسی خاندان اور عملی سیاست دان سائبیریا کے پرندوں کی طرح اور کوئٹہ قندھاری ہواو¿ں کی مانند کب اپنا رُخ تبدیل کرتے ہیں؟.... یہ سندھ کے سماج اور سندھ کی سیاست کے اہم اور بنیادی سوالات ہیں اور جسے ان کا جواب معلوم ہے، اسے ان خبروں پر زیادہ حیرت کے اظہار کی ضرورت پیش نہیں آتی کہ پیپلز پارٹی کے ساتھ بار بار ناتہ توڑنے والے ایک بار پھر کس طرح ناتہ جوڑ لیتے اور قابل قبول ہوجاتے ہیں.... پھر کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ناتہ جوڑنے والی سیاسی میجک ٹیوب کا محلول ابھی پوری طرح خشک بھی نہیں ہونے پاتا کہ انتخابی سیاست کے یہ سیاسی ملھ (سندھی دنگل کے پہلوان) پھر ناتہ توڑنے کا اعلان کرکے سب کو حیرت زدہ کردیتے ہیں۔ ٹھٹھہ کے شیرازی برادران اور پیپلز پارٹی کا معاملہ بھی اسی طرح کا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ان کا رشتہ کسی نکاح کی بنیاد پر قائم نہیں ہوا تھا، بلکہ چار ہفتوں کا متعہ تھا جو ختم ہو گیا۔

9اپریل کو شیرازی برادران کا پریس کانفرنس میں پیپلزپارٹی کو ایک بار پھر چھوڑنے کا اعلان اخبار نویسوں اور ٹی وی چینلوں کے تجزیہ کاروں کے ساتھ ساتھ شاید بعض سیاسی کارکنوں کے لئے بھی قدرے حیرت کا باعث ہوگا، مگر سندھ کا وہ عام آدمی، جس کی نظر وڈیروں اور خاندانی وراثت کے انداز کی ” سیاسی وراثت“کو قائم رکھنے والے ماہر کھلاڑیوں اور ہر دور کے عملی سیاست دانوں یا اقتدار پرست لوگوں کی تاریخ پر رہی ہے، ان کے لئے اس میں حیرت کا کوئی عنصر نہیں ہے، کیونکہ عام آدمی یہ بات جانتا ہے کہ پرندوں کی طرح وڈیروں کی اُڑان کب تبدیل ہوتی ہے اور رُخ کب بدلتا ہے؟یقینا اُس وقت، جب اقتدار کا مرکز مشرق سے مغرب یا شمال سے جنوب کی طرف جارہا ہوتا ہے ۔ شیرازی برادران کا انتخابات سے قبل پیپلز پارٹی چھوڑنے اور ایک بار پھر آزاد حیثیت سے انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ یہ بتانے کے لئے کافی ہے کہ اقتدار کاہما چاہے جس کے سر پر بیٹھے، مگر وہ پیپلز پارٹی کے سر پر نہیں بیٹھنے جارہا ۔

جس طرح سائبیریا سے پرندوں کی سندھ کی جانب اُڑان سے موسم بدلنے کا پیغام ملتا ہے اور کوئٹہ قندھار کی یخ بستہ ہواﺅں سے سندھ کے صحرا کی گرمی اچانک سردی میں بدل جاتی ہے، اسی طرح سے وڈیروں کی اُڑان بھی قبل از وقت بتا دیتی ہے کہ اقتدار کا مرکز ثقل تبدیل ہوسکتا ہے یاہونے جارہا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ شیرازی برداران کی اڑان بھرنے کا کتنا اثر دوسرے ”پکھی پرندے“ لیتے ہیں اور پیپلز پارٹی کے لئے مزید مشکلات پیدا کرتے ہیں، کیونکہ بہت سے دوسرے لوگوں کے بارے میں اطلاع یہ ہے کہ وہ بھی کنارے پر بیٹھے ہوئے ہیں اور شیرازی برادران جیسے کئی حیران کن فیصلے سامنے آسکتے ہیں۔

شفقت شاہ شیرازی، اعجاز شاہ شیرازی ، ریاض شاہ شیرازی، ایاز شاہ شیرازی اور حسین شاہ شیرازی و دیگر پر مشتمل ٹھٹھہ کا شیرازی گروپ اپنے ساتھ ضلع ٹھٹھہ میں پیپلز پارٹی کے دو دیگر اہم افراد غلام قادر ملکانی اور عثمان ملکانی کو بھی لے کر گیا ہے، حالانکہ ملکانی ہمیشہ شیرازیوں کے مخالف رہے ہیں اور پیپلز پارٹی نے غلام قادر ملکانی کو کوسٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کا چیئرمین بنا کروزیر کا درجہ بھی دیا تھا، لیکن شیرازی گروپ کا ملکانی گروپ کو اپنے ساتھ ملا لینا سندھی اخبارات کے مطابق پیپلز پارٹی کے لئے ٹھٹھہ میں ”بڑا دھچکا“ہے۔

کہا جاتا ہے کہ ضلع ٹھٹھہ سے قومی اسمبلی کی 2اور صوبائی اسمبلی کی 5نشستوں پر پیپلز پارٹی کی بے سرو سامانی نے اس کی قیادت کے لئے ماتم کا سماں پیدا کردیا ہے، اب پیپلز پارٹی کو ٹھٹھہ میں میمن، سومرو اور پلیجو برادریوں پر انحصار کرنا ہوگا۔

شیرازی برادران کی جانب سے پیپلز پارٹی میں شمولیت کے وقت کیا مطالبات رکھے گئے تھے جو پورے نہیں ہوسکے اور ان کی جانب سے ایک ماہ کے اندر ہی ناتہ توڑنے کے فیصلے کی ٹھوس وجوہ کیا ہیں؟ ....یہ تفصیل پوری طرح آگے چل کر سامنے آئے گی، تاہم اس ”بغاوت“ کے نتیجے میں نہ صرف ”ذوالفقار آباد“ کے نام سے نیا ساحلی شہر آباد کرنے کا آصف علی زرداری کا منصوبہ کھٹائی میں پڑتا نظر آرہا ہے، بلکہ اس بات کا امکان بھی ہے کہ شیرازی، ملکانی”بغاوت“ آصف علی زرداری کے منہ بولے بھائی اویس مظفر ٹپی کے علاوہ سسی پلیجو کی شکست کا پیغام بھی لائے۔ پیپلزپارٹی نے ٹھٹھہ سے تعلق نہ رکھنے کے باوجود اویس مظفر ٹپی کو ٹھٹھہ کی صوبائی نشست سے جتوانے کا اپنے تئیں محفوظ بندوبست کرلیا تھا، لیکن شیرازی برادران کے لئے شاید یہی بات سب سے زیادہ ناگواررہی، کیونکہ وہ اپنی سلطنت میں کسی ”غیر“ کو عملداری کی اجازت نہیں دے سکتے تھے.... اسی طرح پیپلزپارٹی نے شرجیل انعام میمن کو ضلع حیدرآباد کی دیہی صوبائی نشست سے ٹکٹ دے کر ٹنڈوجام اور اِردگرد سے پیپلزپارٹی کے بہت سے قابل بھروسہ اور پرانے لوگوں کو ناراض کرلیا ہے۔

 شرجیل کے والد انعام میمن حیدرآباد میں بس اونرز ایسوسی ایشن کے عہدیدار تھے، جبکہ تایا سراج میمن پہلے انکم ٹیکس افسر تھے، پھر پیپلز پارٹی کے ترجمان اخبار ”ہلال پاکستان“ کے ایڈیٹر ہوئے اور زندگی کے آخری ایام میں انکم ٹیکس وکیل رہے۔ عمر کوٹ سے پیپلز پارٹی نے اگر چہ نواب یوسف تالپور اور ان کے بیٹے کو ٹکٹ دے دیئے ہیں، مگر وہاں پیپلز پارٹی کے گروپ میں ان کی شدید مخالفت ختم نہیں ہوسکی ۔ جامشورو سے نواب یوسف تالپور کے بھائی عبدالغنی تالپور کو ٹکٹ نہیں دیا گیا، تاہم ان کے برادر نسبتی اور جامشورو کے ”بے تاج بادشاہ“ ملک اسد سکندر کو قومی اسمبلی کی نشست کا ٹکٹ دے دیا گیا ہے۔ عملی سیاست د انوں کی یہ حشر سامانیاں کیا رنگ لائیں گی، اس کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ جی ایم سید نے راقم سے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ مَیں ایک آئیڈلسٹ ہوں ، اس لئے ناکام رہا، بھٹو عملی سیاست دان تھا، اس لئے کامیاب ہوا۔ جی ایم سید عام طور پر عملی سیاست دان کی اصطلاح ناپسندیدہ معنوں میں استعمال کرتے تھے۔ آج کے سندھ میں ذوالفقار علی بھٹو اور ان کی پارٹی نے ہر ضلع میں درجنوں عملی سیاست دان پیدا کر دیئے ہیں جو کسی بھی لمحے اقتدار کے لئے پیپلز پارٹی چھوڑ دیتے ہیں اور پھر اقتدار کے لئے ہی پیپلزپارٹی میں شامل ہوجاتے ہیں۔ ٭

مزید : کالم