خالی خزانہ اور بجلی کا سنگین بحران

خالی خزانہ اور بجلی کا سنگین بحران

ملک بھر میں بجلی کے بحران نے شدت اختیار کرلی ہے۔ شہروں میں12 گھنٹے سے زائد لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے اور دیہی علاقوں میں اس کا کوئی حساب ہی نہیں۔ متعدد شہروں میں بدترین لوڈ شیڈنگ کے خلاف مظاہرے ہوئے اور توڑ پھوڑ کی گئی، کسانوں نے بھی دھرنے دئیے اور پولیس سے جھڑپوں کے دوران متعدد مقامات پر مظاہرین اور پولیس والے زخمی ہوئے۔ بجلی پیداکرنے والے اداروں کو تیل سپلائی کے لئے ادائیگی کر دی جائے تو بجلی کے بحران کی شدت پر قابو پایاجاسکتا ہے، لیکن سابق حکمران اپنی انتخابی مہم میں روپیہ لگانے کے لئے خزانہ خالی کر گئے ہیں۔ خبروں میں بتایا جا رہا ہے کہ وزیراعظم اور صدر نے بجلی بحران کا فوری نوٹس لے لیا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ معاملہ فوری یا تاخیری نوٹس سے بہت آگے بڑھ چکا ہے۔ بجلی بحران پر قابو پانے کے لئے 30 ارب روپے بجلی پیدا کرنے والے اداروں کو ادا کرنے کے لئے فوری طور پر درکار ہیں، لیکن وزارت خزانہ نے یہ رقم اداکرنے سے معذوری کا اظہار کردیا ہے۔ وزارت خزانہ نے وزیراعظم کو لکھے گئے خط میں بتایا ہے کہ قومی خزانے میں صرف13 ارب روپے موجود ہیں۔ آئندہ قومی بجٹ میں بھی وزارت پانی وبجلی کے ترقیاتی اور غیر ترقیاتی اخراجات کے لئے 103 ارب روپے کی ضرورت ہوگی ]جس کے مختص کرنے کی سفارش تیار کرلی گئی ہے۔[

آئندہ بجٹ کے سلسلے میں ابھی سے اسلام آباد میں وزارت خزانہ اور منصوبہ بندی کمیشن کے اجلاس جاری ہیں او ر مختلف ترجیحات طے کی جارہی ہیں۔ معلوم نہیں وزارت خزانہ کے حکام کن بنیادوں پر بجٹ کی تیاری میں مصروف ہیں اور آئندہ حکومت کی ترجیحات کیا ہوں گی؟تاہم اس کے لئے اپنا کام جاری رکھے بغیر بھی چارہ نہیں ۔ مختلف محکموں اداروں اور شعبوں میں خرچ ہونے والی ر قوم اور آمدنی کے تخمینے ماضی کے اخراجات کو سامنے رکھتے ہوئے لگائے جاتے ہیں ۔ جاری ترقیاتی منصوبوں اور نئے ممکنہ منصوبوں کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاتا۔ تاہم نئی حکومت قائم ہونے کے بعد اس کی ترجیحات کے مطابق مختلف منصوبوں کے لئے مختص رقوم میں کمی بیشی کی جاسکتی ہے۔

بجلی کے بحران میں انتہا ءکی شدت کا پیدا ہوجانا اور قومی خزانے کے تقربیا خالی ہو جانے کی حقیقت قوم کے لئے انتہائی سنگین اور مشکل مستقبل کے خدشات ظاہر کر رہی ہے۔ بجلی کی قلت سے نہ صرف لوگ گرمی اور پانی کی قلت کا سامنا کررہے ہیں، اندھیروں میں ڈوبی ہوئی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں، بلکہ انڈسٹری بند ہوجانے سے بیروزگاری اور ٹیوب ویل بند ہوجانے سے غذائی اجنا س میں بے حد کمی واقع ہونے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔

ان حالات میں ہر پاکستانی اپنا سر تھامے سابق حکمرانوں کے اعمال پر نوحہ خواں ہے۔ ہرکسی کی سمجھ سے یہ چیز بالا تر ہے کہ قوم و ملک کی تقدیر کے مالک بن جانے والے قوم کے ساتھ ایسا ہاتھ بھی کرسکتے ہیں؟ بجلی بحران ہی قوم کے حالات کو بد سے بدتر بنانے کے لئے کافی ہے، لیکن اپنے آخری چند روز میں بھی قومی خزانے سے مختلف بہانوںسے کھربوں روپے اپنے اللوں تللوں کے لئے نکلوا لینے والوں سے کوئی یہ پوچھنے والا نہیں کہ آخر انہوں نے قوم کے ساتھ یہ ہاتھ اس کے کس جرم کی پاداش میں کیا ہے؟ہر جگہ اپنی طاقت کے طور پر مسلح غنڈوں کو پالنے والے،کرپٹ ترین لوگوں کو کلیدی عہدے دے کر ہر شعبے میں کرپشن کرنے والے حاکم خود کو عوام کے نمائندے ، سچے خادم اور عوام کے منتخب شدہ ہونے کی بناءپر اقتدار کے مالک کہتے تھے ۔ لیکن عوام کے ساتھ وہ کیا کرگئے؟ اب انتخابات ہیں تو وہ جنہوں نے اپنے ساتھیوں کو انتخابات کے لئے گزشتہ پانچ سال میں خوب لوٹ مچائے رکھنے کی یہ کہہ کر اجازت دئیے رکھی کہ ” ہم نے آئندہ بھی انتخاب لڑنا ہے اور ہمیں روپے پیسے کی ضرورت ہے“ جنہوں نے آخری مرحلے پر بھی ایک بڑے ہلے میںقومی خزانے کو پوری طرح نچوڑنے کا کام کیا ، کدھر گئے وہ حکمران اور ان کے کارکن؟ کس طرح مُنہ دکھائیں گے وہ عوام کو ؟ یہ درست کہ ان کی ڈھٹائی کا جواب نہیں ، لیکن اب عوام بھی ایسے لوگوں کو مناسب طریقے ہی سے ڈیل کریں گے، جن کی کرپشن کے ثبوت میڈیا عوام کے سامنے لاچکا ہے اور جن کے پاس سپریم کورٹ میں اپنی کرپشن کے سلسلے میں دینے کے لئے کوئی جواب نہیں تھا۔

انتخابات بے حد اہم ہیں۔ عوام کے ووٹ کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔ اس کے صحیح استعمال پر قوم کی خوشحالی اور بدحالی کا انحصار ہے ، لیکن ووٹرز نے اس بار لٹیرے سیاست دانوں سے نجات پانے یا اپنی آئندہ نسلوں کو تاریک مستقبل کے حوالے کرنے کے سلسلے میں فیصلہ کرنا ہے۔ دھوکے باز اور لٹیرے سیاست دانوں کے پاس نعرے اور تنخواہ دار ورکروں کی کمی نہیں ۔ وہ انتخابی مہم کے دوران گلی گلی میں خود کو خریدنے والوں کے گیت گاتے پھر یں گے ۔ بددیانت سیاست دانوں کے پاس اپنی تشہیر کے لئے بھی بہت پیسہ ہے۔ ان کے ورکروں کی ٹولیاں چہروں پر مسکراہٹ پھیلائے اور مجسم اخلاق بنے ،اپنی مجبوریوں اور اپنے سے پہلے حاکموں کی شکایات کی داستانیں لئے عوام تک پہنچیں گی، لیکن اب تک عوام کے ساتھ جو کچھ ہو چکا اور ایک ایک غریب اور بے بس انسان کے جوجذبات و احساسات ان لوگوں کے متعلق ہیں وہ بھی انہیں معلوم ہیں۔ اس لئے ان کا زیادہ زور اور توجہ پولنگ کے دن جعلی ووٹ بھگتانے دھن، دھاندلی اور دھونس سے انتخابات جیتنے پر ہوگی۔ اس کے لئے عوام کو سینہ تان کر ان کے سامنے کھڑے ہونا ہوگا۔ پاکستان بھر میں کروڑوں کے بجٹ رکھنے والی سماجی تنظیموں کو بھی اس موقع پر سامنے آنا اور سول سوسائٹی کو عوام کو دھاندلی اور دھونس کے خلاف متحد و منظم کرنا چاہئے۔اس وقت اگر 18کروڑ عوام نے ایک دو لاکھ گھرانوں کے خلاف اپنی طاقت کا مظاہرہ نہ کیا تو پھر شاید اصلاح اور عوام کے طاقت حاصل کرنے کا وقت بیسیوں سال تک آگے چلا جائے۔ پانچ سال کا مزید وقت مشکوک عناصرکو مل گیا تو پھر عوام میں ان کے سامنے کھڑے ہونے یا ان کے مقابلے کی سوچنے کی سکت بھی باقی نہیں ہو گی۔ اِسی 11 مئی کو فیصلہ کرنا ہوگا اور صحیح لوگوں کے حق میں درست فیصلہ کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ رہنماﺅں کے بھیس میں آنے والے لٹیروں سے ہم جو کچھ بھی جھوٹی توقعا ت وابستہ کرتے رہیں ، وہ ہمارے ساتھ ا س سے بہتر سلوک ہرگز نہیں کرسکتے جو کچھ کہ گذشتہ پانچ برس میں ہم دیکھ چکے ہیں۔

اس وقت پاکستان کے جاگ جانے کی ضرورت ہے۔ مختلف علاقوں ، فرقوں ، نسلوںاور برادریوں میں تقسیم کرکے مختلف دھڑے بندیوں سے فائدہ اُٹھا کر یہ شاطر قسم کے لوگ اقتدار کے کھیل میں اپنی ہی جیت کی امید لئے بیٹھے ہیں، لیکن اس بار ایسا نہیں ہونا چاہئے۔ صرف پاکستان کے خیرخواہ مخلص ، دیانتدار اور قابل افراد کو آگے آنا چاہئے۔

جن لوگوں نے نگران حکمرانوں کے طور پر سوچ سمجھ کر ان چند ماہ کے لئے حکومت سنبھالی ہے ، اس عبوری مدت کے لئے قوم کے تمام سنگین بحرانوں کا حل بھی انہی کی ذمہ داری ہے۔ محض وزارتوں کو حکم کرنے ہی سے کام نہیں بن سکتا ۔ زمینی حقائق کو سامنے رکھنا بھی ضروری ہے۔ سابق حکمرانوں نے تو اربوںروپے قرض لے کر ہماری کمر توڑ دی ہے ، دوسرے الفاظ میں ہمارا مستقبل بھی گروی رکھ دیا گیا ہے۔ آخر نگران حکمرانوں کے پاس خالی خزانے کے ساتھ قوم کے مسائل کا کیا حل ہے؟ اس کا جواب اقتدار کی کرسی پر بیٹھنے والوں ہی نے دینا ہے، خواہ وہ اس کرسی پر دو مہینے کے لئے ہیں یا دو ہفتے کے لئے۔اس کے لئے انہیں اپنی تمام توانائیوں ، تجربے، زیرکی ، حکمت ، اثر و رسوخ اور تعلقات کو کام میں لانا اور مثالی تحرک کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ملک کے موجودہ نازک حالات ان سے اسی بات کا تقاضے کررہے ہیں۔ قوم کی نگاہیں ان کی طرف لگی ہوئی ہیں۔

مزید : اداریہ