ملکی فلم انڈسٹری کو سنبھالا دینے کے لئے کامیاب فلموں کی ضرورت ہے

ملکی فلم انڈسٹری کو سنبھالا دینے کے لئے کامیاب فلموں کی ضرورت ہے

مو¿رخین کہتے ہیں کہ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے تو حال ہی میں لاہور کے بعض سینماﺅں پر بھارتی فلموں کی رعایتی ٹکٹ پر نمائش سے وہ دور یاد آ گیا جب 1965ءکی پاک بھارت جنگ سے پہلے بھارت کی تمام سپر ہٹ فلمیں پاکستانی سینماﺅں پر رعایتی ٹکٹوں پر نمائش کے لئے پیش کی جاتی تھیں اور فلم بین ان کو بار بار دیکھنے میں خوشی محسوس کرتے تھے۔ ان فلموں میں آن۔ دیدار۔ جوانی کی ہوا۔ سنگدل۔ آوارہ۔ آب حیات۔ بازی۔ ٹیکسی ڈرائیور ،صبح کا تارا۔ داغ اور کتنی ہی ایسی فلمیں شامل ہیں جن کو بار بار ریلیز کر کے ڈسٹری بیوٹرز اچھا خاصہ پیسہ کما لیتے تھے اصل میں ان فلموں کی کہانی، مکالمے اور سکرین پلے کے علاوہ موسیقی بھی اس قدر اعلیٰ و عمدہ تھی کہ ہر طبقہ ان گیتوں پر عش عش کر اُٹھتا تھا اور ان کو بار بار سن کر لطف اُٹھاتا تھا۔

1965ءکی جنگ کے بعد ان بھارتی فلموں کی نمائش پر پابندی لگنے سے لوگ اس سستی تفریح سے محروم ہو گئے تھے، لیکن جذبہ حب الوطنی کے حوالے سے حکومت کا یہ فیصلہ درست تھاکیونکہ جس ملک نے پاکستان کی تخلیق کے بعد اسے سچے دل سے تسلیم نہ کیا ہو بلکہ اسے ختم کرنے کے لئے کوشاں رہا ہو اس کے ساتھ کسی بھی قسم کے مراسم کسی لحاظ سے قدر کی نگاہ سے نہیں دیکھے جا سکتے۔

بھارتی فلموںپر پابندی کے بعد ان ڈسٹری بیوٹرز جن کے پاس پرانی بھارتی فلموں کے پرنٹ موجود تھے، نے بڑی کوشش کی کہ ان فلموں کو دوبارہ ریلیز کی اجازت مل جائے، لیکن ایسا نہ ہو سکا۔ اس طرح تمام پرانی بھارتی فلموں کے پرنٹ کوڑا کرکٹ سمجھ کر ضائع کر دیئے گئے تاہم اس پابندی کا فائدہ ملکی فلمی صنعت کو یہ ہوا کہ یہاں کہ فلم ساز و ہدایت کار پورے اعتماد کے ساتھ فلم سازی کے عمل میں شریک ہوئے جس کے نتیجے میں یہاں کی فلم صنعت کو زبردست عروج حاصل ہوا اور قومی و بین الاقوامی سطح پر اس کی ایک شناخت قائم ہوئی اور بھارتی فلموں کی طرح عوام نے یہاں کی فلموں میں کہانی، مکالموں اور موسیقی کو پسند کیا اور اپنے ملک کے تکنیک کاروں اور فنکاروں کو جی بھر کر داد دی۔ یہاں ایک پرانے ہدایتکار جناب حسن طاق کی ایک بات یاد آ رہی ہے کہ فلم بین طبقہ اس قدر فراخ دل ہے کہ وہ فلم میں موجود ہر خوبی کی دل کھول کر تعریف کرتا ہے اور فلم میں کسی ایک قسم کی خوبی بھی اسے نظر آ جائے تو اسے کامیاب بنانے میں پوری مدد کرتا ہے ۔ آج کا فلم بین حسن طارق سے واقف نہیں ہے یہ وہ ہدایت کار ہے جس نے انجمن، تہذیب، دیدار اور امراﺅ جان جیسی کامیاب ترین فلمیں یکے بعد دیگرے تخلیق کر کے ایک ریکارڈ قائم کیا تھا۔ انہوں نے اداکارہ رانی اور شاہد دونوں سے متعدد فلموں میں بہترین پرفارمنس لے کر ان کو فن ِ اداکاری میں شہرت کی بلندیوں تک پہنچا دیا تھا۔ اداکارہ رانی تو اللہ کو پیاری ہو چکی ہے لیکن اداکار شاہد عمر ڈھلنے کے سبب کریکٹر رولز میں جلوہ گر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے بھی ہمیشہ اپنی فنی زندگی کا تذکرہ کرتے ہوئے ہدایت کار حسن طارق کی صلاحیتوں کا اعتراف کیا ہے ۔ ہدایت حسن طارق کے حوالے سے فلم بین کی کشادہ ظرفی کی بات ہو رہی تھی اور یہ حقیقت بھی ہے کہ فلم بین صرف اس فلم کو فلاپ قرار دیتا ہے جس میں کسی قسم کی کوئی خوبی بھی نہ ہو۔ ہمارے ہاں تو اگر فلم بین کو فلم کا کوئی ایک گیت بھی اچھا لگ جائے تو وہ فلم کو کامیابی کی طرف لے جاتا ہے ۔

اِن سطور کا مقصد یہ ہے کہ فلم بینوں کو دوش دینے کی بجائے فلاپ فلموں کے فلم سازوں اور ہدایت کاروں کو خود اپنے کام کا تنقیدی جائزہ لینے کی طرف توجہ دینی چاہئے کہ وہ کیا بنا کر پیش کر رہے ہیں خصوصاً فلم سازی کے دوران کہانی سے لے کر اس کے تمام دیگر فنی پہلوﺅں کے حوالے سے موجودہ دور کے تقاضوں اور جدید تکنیک کو مدنظر رکھنا ضروری ہے ۔ اس کی ضرورت یوں محسوس ہوتی ہے کہ حال ہی میں ایک فلم جس کی تکمیل میں تقریباً چار پانچ سال صرف ہوئے وہ سینما پر اس قدر بُری طرح فلاپ ہوئی کہ ایک ہفتے بعد اُس کے پرنٹ سینما سے واپس آ گئے، حالانکہ اتنے وقت اور سرمائے کے ساتھ ایک اچھی فلم بھی بنائی جا سکتی تھی ایسا نہ ہونے کی کیا وجوہات ہیں۔ اُن سے قطع نظر یہ بڑی دُکھ بھری داستان ہے کہ فلمی صنعت کے اس بدحالی کے دور میں ایک بار پھر کافی سرمایہ ضائع کر دیا گیا ہے ۔

فلم سازی کے عمل میں اب ماضی کی کوتاہیاں جن کی وجہ سے یہ صنعت آج اس بُری حالت کو پہنچ چکی ہے کو دہرانے کا عمل قطعی طور پر ناقابل برداشت ہے بلکہ اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا کہ اس قسم کی فلموں کی نمائش سے فلمی صنعت کو مزید بحران اور بدنامی کے گڑھے میں گرانے والی بات ہے ۔ آج کوئی بھی فلم شروع کرنے سے پہلے بہت زیادہ سوچ بچار اور غور و فکر کی ضرورت ہے کیونکہ ملکی فلمی صنعت کو اپنے پاﺅں پر کھڑا کرنے کے لئے یکے بعد دیگرے متعدد کامیاب فلموں کی ضرورت ہے ۔

مزید : کلچر