جعلی ڈگری کیس میں سزا معطلی خوش آئند، برا فیصلہ ہے، عوامی ردعمل

جعلی ڈگری کیس میں سزا معطلی خوش آئند، برا فیصلہ ہے، عوامی ردعمل
جعلی ڈگری کیس میں سزا معطلی خوش آئند، برا فیصلہ ہے، عوامی ردعمل

  

لاہور(چوہدری حسنین ) جعلی ڈگری کیس میں قانونی ماہرین نے عوامی نمائندوں کی سزا کے خاتمے پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ روزنامہ پاکستان سے بات کرتے ہوئے ایڈووکیٹ عقیل حیدر کا کہنا ہے کہ اچھا اقدام ہے سزا معطل کرنے کے بعد جعلی ڈگری والوں کا کیس سنا جائے گا اور اس کے بعدفائل میں لگے ہوئے کاغذات کی جانچ پڑتال کرنے کے بعد جو فیصلہ آئے گا وہ مکمل فیصلہ ہو گا ۔ایڈووکیٹ چوہدری رشید نے کہا کہ ہائیکورٹ کے کسی فیصلے پر کوئی بحث نہیں کی جا سکتی مگر افسوس اس بات کا ہے کہ ایم پی اے ، ایم این اے جعلی ڈگریاں لے کر الیکشن لڑتے ہیں اور ایم پی اے اور ایم این اے ہر سال ترقیاتی کاموں پر پانچ پانچ کروڑ روپے ہر سال لیتے ہیں جن کو کچھ عوام پر خرچ کرتے ہیں اور باقی کے ادھر ادھر کر جاتے ہیں ۔سرفراز دانیال نے کہا کہ سزا کو معطل کرنا برا فیصلہ نہیں ہے ناصر علی واسطی طالب نقوی نے بتایا کہ سزا معطل اس لئے کی گئی کہ زیادہ سے زیادہ لوگ الیکشن میں حصہ لیں سید ظفر عباس نقوی نے کہا کہ لوئر کورٹ نے سزا دی تھی اور ہائیکورٹ کو حق حاصل ہے کہ وہ اس کو معطل کر دے ۔

مزید : الیکشن ۲۰۱۳