بلال گنج میں مسائل کی بھر مار مکینوں نی عوامی نمائندوں سے امیدیں لگانا چھور دیں

بلال گنج میں مسائل کی بھر مار مکینوں نی عوامی نمائندوں سے امیدیں لگانا چھور ...
بلال گنج میں مسائل کی بھر مار مکینوں نی عوامی نمائندوں سے امیدیں لگانا چھور دیں

  

                         لاہور (ملک خیام رفیق/ نواز سنگرا) بلال گنج کے علاقہ میں لٹکتی تاریں، پانی، بجلی اور گیس کی بندش، ٹوٹی پھوٹی سڑکیں، روزمرہ زندگی کی کوئی سہولت میسر نہ ہونے پر علاقہ کے مکینوں نے علاقہ کے منتخب نمائندوں اور عوامی لیڈروں پر امیدیں لگانا چھوڑ دیں اپنی مدد آپ کے تحت علاقہ کے کام کروانے کا عہد کرلیا۔ تفصیلات کے مطابق گنج کلاں کے علاقہ ناصر پارک، توحید روڈ گلی نمبر 13/5 بلال گنج روڈ کے رہائشی محمد عثمان نے بتایا کہ یہاں پر ان لٹکتی تاروں کی وجہ سے کئی بار آگ لگ چکی ے اور ان کے بارے میں کئی بار واپڈا والوں کو تحریری درخواستیں بھی دیں مگرواپڈا والوں نے ان تاروں کو نہ ٹھیک کیا ان میں آگ لگنے سے کئی بار یہاں بڑے حادثے ہوتے ہوئے بچ گئے ہیں تاروں میں آگ لگنے سے تاریں زمین پر گر جاتی ہیں یہاں سے بچے بڑے بزرگ گزرتے ہیں، لوہے کی کھڑکیوں اور گھروں کی دیواروں کے ساتھ لگی ہوئی تاروں کی وجہ سے گھروں میں کرنٹ آجاتا ہے۔ عمران نے بتایا کہ یہاں پانی نہیں آرہا اور ہم لوگوں نے اپنے طور پر یہاں بور کروا کے موٹر لگوائی مگر بعدازاں پانی والے محکمے سے لوگ آئے جنہوں نے آکر ہم لوگوں کو جرمانہ کیا اور پانی کا سسٹم بند کردیا جبکہ پانی کو سرکاری لیبارٹری میں ٹیسٹ کروایا گیا تو معلوم ہوا کہ یہاں کا پانی زہریلا ہے۔ جس کی وجہ سے یہاں کئی اموات بھی ہوچکی ہیں، نہ تو یہاں صاف پانی کا پلانٹ لگایا گیا ہے نہ ہی ہم لوگوں کو اپنے طور پر بور کروا کے پانی حاصل کرنے کی اجازت دی جارہی ہے۔ جاوید اقبال نے بتایا کہ یہاں سیکیورٹی کا کوئی نظام نہیں، اپنی مدد آپ کے تحت سیکیورٹی کا انتظام کیا ہے یہاں پر چوریاں بہت زیاہ ہوتی ہیںسٹریٹ لائٹ لگوائی جائے تو کچرا اٹھانے والے لڑکے ان کو توڑ دیتے ہیں جورات کو اکثر گلیوں میں گھومتے رہتے ہیں ہمیں یقین ہے کہ وہی رات کو چوری کی وارداتیں کرتے ہیں مگر پولیس ان کو گرفتار بھی نہیں کرتی۔ جس کی وجہ سے یہاں چوری کی وارداتوں میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے شمشاد احمد نے بتایا کہ اگر کسی سرکاری محکمہ میں کوئی درخواست دی جائے تو وہ درخواست وصول کرلیتے ہیں مگر کوئی ڈائری نمبر نہیں دیتے اور اگلے روز درخواست پر کارروائی کے بارے میں پوچھنے جائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ درخواست گم ہوگئی ہے عمیر نے بتایا کہ پچھلی حکومت نے تو کچھ نہیں کیا، آئندہ آنے والی حکومت کو دیکھیں گے کہ کیا گل کھلاتے ہیں۔

مزید : الیکشن ۲۰۱۳