ائیر پورٹ پر سامان کا وزن کم کر کے کڑوڑوں کمانے کا انکشاف پی آئی اے شفٹ اہلکار تبدیل

ائیر پورٹ پر سامان کا وزن کم کر کے کڑوڑوں کمانے کا انکشاف پی آئی اے شفٹ اہلکار ...

                                           لاہور(حنیف خان سے) علامہ اقبال انٹر نیشنل ائیرپورٹ پر پی آئی اے عملے کی مبینہ ملی بھگت سے سامان کے وزن میں کمی بیشی کرکے قومی ادارے کوکروڑوں روپے نقصان پہنچانے کے مکروہ دھندے کا انکشاف ہوا ہے۔تاہم ابتدائی مرحلے میں مسافروں سے لوٹ مار کرنے اور قومی ادارے کو نقصان پہچانے کے پیش نظر شفٹ اہلکاروں کو تبدیل کردیا گیا ہے پی آئی اے کا عملہ اندرون اور بیرون ملک سفر کرنے والے مسافروں سے مبینہ نذرانے وصول کرکے سامان کے وزن میں کمی وبیشی کرتا تھا۔ ذرائع نے بتایا کہ لاہور علامہ اقبال انٹر نیشنل ائیرپورٹ پر پی آئی اے ای بی ٹی کاﺅنٹرپر چار شفٹوں میں سپروائز ر اپنے فرائض سرانجام دیتے ہیں ۔ گزشتہ چار سال سے زائد عرصے سے سپروائزررانا کاشف ،ذوالفقار ،افضل وڑائچ اور انصر چودھری تعینات تھے ۔یہاں پر ایسے مسافر جو اندرون اور بیرون ملک سفر کرتے تھے ان سے روزانہ لاکھوں روپے بٹورے جاتے ہیں یورپین ممالک سے تعلق رکھنے والے مسافروں سے ڈالروں میں پیسے وصول کئے جاتے تھے ۔ ذرائع نے بتایا کہ جب مسافر لاہور علامہ اقبال انٹر نیشنل ائیر پورٹ کی حدود میں داخل ہوتے تھے تو انہیں پی آئی اے کا عملہ قوانین کے متعلق آگاہ کرکے خوفزدہ کردیتا تھا بعدازاں یہ ہی عملہ مسافروں کو پیشکش کرتا کہ ا ن کے ساما ن کے وزن کے پیش نظر 25ہزار روپے بنتے ہیں لہذا یہ ہی کام ہم 10ہزار روپے میں کروا دیتے ہیں۔جس کے باعث مسافر اپنی رقم بچانے کی خاطر یہ سودا کرلیتے اور پی آئی اے اہلکاروں کو نذرانہ دے کر اپنا سامان کلیئر کروالیتے ۔ مسافر اور پی آئی اے ملازمین کے درمیان مک مکا کے باعث ادارے کو کروڑوں روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔ذرائع نے بتایا کہ ائیر لائن کے بعض کرپٹ ملازمین نے ائیرپورٹ پر پاکستانی مسافروں کے ساتھ سامان کے وزن کے معاملے پر لین دین کے لئے ریٹ مقر ر کرررکھے ہیں جبکہ دوسرے ممالک سے تعلق رکھنے والے مسافروں کوڈالروں کی صورت میں لوٹا جاتا ہے ۔یہاں کرپٹ اور بے رحم لوٹ مارکرنے والوں کو کوئی پوچھنے والا نہیں ذرائع نے بتایا کہ گزشتہ کئی سالوں سے پی آئی اے عملہ سامان کا وزن زیادہ ہونے کی مد میں 50لاکھ سے 80لاکھ روپے تک سرکاری خزانے میں جمع کرواتا رہا جبکہ مسافروں کے زیادہ سامان لے جانے کی شرح کو مدنظر رکھتے ہوئے ماہانہ رقم کم از کم 2کروڑ روپے سرکاری خزانے میں جمع کروائی جانے چاہیے تاہم عملے کی مبینہ ملی بھگت سے صرف لاکھوں روپے سرکاری خزانے میں جمع کروادیئے جاتے اور پی آئی اے افسر سمیت انتظامیہ خاموش تماشائی کا کردار ادا کرتی رہی ۔اور اس معاملے کی انکوائری سے گریزاںرہی۔ذرائع کے مطابق ابھی بھی بعض اوقات سامان زیادہ ہونے کی صورت میں من مانے نذرانے وصول کئے جارہے ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ گزشتہ کئی سالوں سے ای بی ٹی کاﺅنٹر پر تعینات عملے کی تبدیلی سے فروری میں سامان زیادہ لے جانے کی مد میں چار ج کی گئی رقم75لاکھ 55ہزار 1سو 45روپے جبکہ مارچ کے مہینے میں 1کروڑ 21لاکھ 52ہزار 8سو 87روپے ہیں ۔جس میں رواں مہینے مذید اضافے کا امکان ہے ۔مسافروں نے پی آئی اے حکام سے مطالبہ کیا کہ ای بی ٹی کاﺅنٹر پر سامان کے وزن میں کمی و بیشی کرنے والے اہلکاروں کا سخت احتساب کیا جائے

مزید : میٹروپولیٹن 1