روسی پارلیمنٹ نے مذہبی جذبات مجروح کرنے کی سزا کے قانون کو مزید سخت کرنے کی منظوری دیدی

روسی پارلیمنٹ نے مذہبی جذبات مجروح کرنے کی سزا کے قانون کو مزید سخت کرنے کی ...

ماسکو (اے پی پی) روسی پارلیمنٹ کے ایوان زیرین ڈوما نے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے والے شخص کو مزید سخت سزا دینے کے قانون کی منظوری دیدی ۔ روسی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق نئے قانون کے مطابق مذہب کی توہین کرنے والے کو تین برس قید تک کی سزا یا پھر تقریباً ساڑھے نو ہزار ڈالر تک کا جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا جا سکے گا۔اس بل میں ان مذاہب کی بات کہی گئی ہے جو روسی تاریخ کی وراثت کا اہم حصہ ہیں۔اس میں عیسائیت، اسلام، یہودیت اور بدھ ازم جیسے مذاہب شامل ہیں۔انسانی حقوق کے علمبر دا روں کا کہنا ہے کہ اس بل کی زبان بہت مبہم ہے اوراس سے غیر قصورواروں وں کو بھی پھنسایا جا سکتا ہے۔گزشتہ برس روس کے معروف بینڈ ”پسی رائٹ “ نے ماسکو کے ایک مرکزی چرچ میں روسی صدر ولاد یمیر پیوٹن کے خلاف اپنے نغموں سے احتجاجی مظاہرہ کیا تھا جس کے بعد ہی اس بل کے مسودہ کو تیار کیا گیا تھا۔

چرچ کے اندر اس پرفارمنس کے بعد سے پسی رائٹ کے بعض ارکان اب بھی جیل میں قید ہیں۔

مزید : عالمی منظر