میڈیا کے بنائے گئے ایشو ز کاہی نوٹس کیوں لیا جاتاہے

میڈیا کے بنائے گئے ایشو ز کاہی نوٹس کیوں لیا جاتاہے
میڈیا کے بنائے گئے ایشو ز کاہی نوٹس کیوں لیا جاتاہے

  

نگران وزیر داخلہ ملک حبیب خان کی طرف سے میاں محمد نواز شریف کو قومی لیڈر کہنے پر مختلف سیاسی جماعتوں کی طرف سے ایسا شور مچایا گیا کہ الیکشن کمشن پاکستان کو اس کا نوٹس لینا پڑا اور اس نے نگران وزیراعظم کے نام ایک خط میں ملک حبیب خان کے بیان پر اظہار ناپسندیدگی بھی کردیا ۔ملک حبیب خان نے کہا تھا کہ میاں محمد نواز شریف ایک قومی رہنما ہیں اگر ان پر حملہ ہوتا ہے تو اس کے انتخابی عمل پر منفی اثرات مرتب ہوں گے ،انہیں فول پروف سیکیورٹی فراہم کی جائے گی۔ملک حبیب خان نے سوتے سے اچانک اٹھ کر یہ بیان جاری نہیں کیا تھا بلکہ ایک پریس کانفرنس کے دوران میڈیا کے نمائندوں کے سوال کا جواب دیا تھا۔الیکٹرانک میڈیا پر اس معاملہ کو اس طرح سے اچھالا گیا جیسے وزیر موصوف میاں نواز شریف کی انتخابی مہم چلا رہے ہوں ۔پیپلز پارٹی ،ایم کیو ایم، مسلم لیگ (ق) اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنماﺅں کی طرف سے ان کی برطرفی کا مطالبہ کیا گیا ۔ملک حبیب خان نے اس موقع پر یہ بھی تو کہا تھا کہ ہم قومی سطح کی ایک رہنماءبے نظیر بھٹو کو پہلے ہی کھو چکے ہیں اب دوسرے لیڈر کو کھونے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ ملک حبیب خان نے حقیقت حال بیان کی تاہم نگران حکمرانوں کو اس حوالے سے محتاط رہنا چاہیے اور ان کے کسی بیان سے کسی کی حمایت یا ہمدردی کا تاثر نہیں ملنا چاہیے ۔

حیرت اس بات پر ہے کہ ملک حبیب خان کے خلاف بیان بازی میں تو نواز مخالف جماعتوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا لیکن سندھ حکومت کی مکمل جانبداری انہیں نظر نہیں آئی جب سندھ کی نگران حکومت نے 4اپریل کو ذوالفقار علی بھٹو کی برسی کے موقع پر عام تعطیل کا اعلان کیا ۔ذوالفقار علی بھٹو ایک بڑے رہنماضرور تھے جو اپنے چاہنے والوں کے دلوں میں آج بھی زندہ ہیں ۔ان کے چاہنے والے ایک بڑی تعداد میں موجود ہیں لیکن وہ غیر متنازع رہنما ہرگز نہیں۔ان کی شخصیت اور نظریات سے اختلاف رکھنے والوں کی تعداد بھی کم نہیں ہے ۔ہماری معاشرتی اقدار میں یہ بھی شامل ہے کہ مرنے والوں کو ہمیشہ اچھے الفاظ میں یاد کیا جاتا ہے اور اس کی برائیوں کے ذکر سے اجتناب برتا جاتا ہے ۔اس معاشرتی قدر کا فائدہ یقینا ذوالفقار علی بھٹو اور انکی جماعت پیپلز پارٹی کوبھی پہنچتا ہے ۔پیپلز پارٹی پر اس کے سابقین الزام لگاتے ہیں کہ یہ ذوالفقار علی بھٹو کی جماعت ہے اور نہ ہی ان کے سیاسی نظریات کی وارث ہے ۔دوسری طرف پیپلز پارٹی انتخابات میں ہمیشہ ذوالفقار علی بھٹو کا نام استعمال کرتی ہے اور ان کے نظریات کی بنیاد پر ووٹ مانگتی ہے۔ "زندہ ہے بھٹو زندہ ہے "ایک ایسا نعرہ بن چکا ہے جس کے بغیر پیپلز پارٹی کا کوئی جلسہ مکمل نہیں ہوتا ۔اس نعرہ اور پیپلز پارٹی کی حال ہی میں ختم ہونے والی حکومت کی بد انتظامیوں کے حوالے سے تولطیفے بھی مشہور ہیں جیسا کہ ایک باپ اپنے بیٹے کو بتاتا ہے کہ ایتھوپیا میں بجلی ہے نہ پینے کے لیے پانی اور نہ ہی کھانے کے لیے خوراک دستیاب ہے وہاں بھوک سے مرنے والوں کی شرح دنیا میں سب سے زیادہ ہے ۔جس پر بیٹا بے ساختہ کہتا ہے کہ کیا وہاں بھی بھٹو زندہ ہے ؟ذوالفقار علی بھٹو کی شخصیت کا کرشمہ اپنی جگہ، ان کی شخصیت سے محبت کرنے والے پیپلز پارٹی کے کارکنوں کی کسی دوسری جماعت میں مثال نہیں ملتی لیکن اس سے برعکس جذبات رکھنے والوں کو تعدادکوبھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں سندھ کی حد تک ان کی برسی کی موقع پر تعطیل کی روایت موجود رہی ہے لیکن مخالفین کے دور حکومت میں اس موقع پر کبھی تعطیل نہیں کی گئی ۔ اب نگران حکومت نے 4اپریل کو سندھ میں عام تعطیل کا اعلان کر کے پیپلز پارٹی کی روایت کو زندہ رکھا ہے جس سے یقینی طور پر یہ تاثر ملتا ہے کہ سندھ کی نگران حکومت پیپلز پارٹی کے اقتدار کا تسلسل ہے ۔نگران حکومت نے ایک ایسی شخصیت کو سرکاری سطح پر قومی رہنما کا درجہ دیا ہے جس کے نام پر پیپلز پارٹی ووٹوں کی خیرات مانگتی ہے ۔کیا نگران حکومت کے اس اقدام کو جانب داری کے زمرہ میں نہیں لایا جاسکتا ؟اس معاملہ پر میڈیا نے بھی خاموشی اختیار کئے رکھی ۔الیکشن کمشن نے بھی اس معاملہ کا نوٹس نہیں لیا ۔اس کامطلب تو یہ ہے کہ اس ملک میں عدلیہ ،الیکشن کمشن ،انتظامیہ اور دیگر ادارے صرف اسی معاملہ کا نوٹس لیتے ہیں جسے میڈیا اچھالتا ہے ۔دوسرے لفظوں میں ان کے نزدیک صرف وہی مسائل حل طلب ہیں جنہیں میڈیا ایشو کے طور پر پیش کرتا ہے۔

مزید : تجزیہ