سابق فوجی صدر پرویز مشرف نے ڈرون حملوں پر امریکہ کیساتھ خفیہ معاہدے کااعتراف کرلیا

سابق فوجی صدر پرویز مشرف نے ڈرون حملوں پر امریکہ کیساتھ خفیہ معاہدے کااعتراف ...
سابق فوجی صدر پرویز مشرف نے ڈرون حملوں پر امریکہ کیساتھ خفیہ معاہدے کااعتراف کرلیا

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) سابق فوجی صدر پرویز مشرف نے ڈرون حملوں پرامریکہ کیساتھ خفیہ معاہدے کا اعتراف کرلیااور کہاکہ ڈرون کے ذریعے ایسے ٹارگٹ کو نشانہ بنانے کی اجازت دی تھی جن میں اجتماعی نقصان نہ ہو۔ امریکی ٹی وی چینل ”سی این این “کو انٹرویو میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف کا کہنا تھا کہ کچھ مواقعوں پر ڈرون حملوں کی اجازت دے دی گئی تھی تاہم یہ اجازت محدود پیمانے پر تھی، ایسی صورت میں اجازت تھی جب ہدف تنہا ہو اور حملے کی صورت میں کسی بڑی تباہی کا امکان نہ ہو، امریکہ کو ہر وقت اور ہر جگہ پر حملے کااختیار نہیں تھا۔ان کا کہنا تھا کہ شدت پسند پہاڑوں کے ان علاقوں میں رہتے تھے جہاں پہنچنا ممکن نہیں ہوتا تھا،فوج اور انٹیلی جنس یونٹس سے بات چیت کے بعد پاکستانی رہنماﺅں کو ڈرون حملوں کی منظوری دینا تھی اور ان حملوں کی اجازت صرف ایسی صورت میں تھی جب خود پاکستانی فوج کے پاس اس کارروائی کیلئے وقت نہ ہو،بعض اوقات دشمن کو فوری طور پر نشانہ بنانا ضروری ہوتاتھا۔ پرویز مشرف نے اعتراف کیا کہ 2004ءمیں طالبان کمانڈر نیک محمد کو ڈرون حملے میں ہی ہلاک کیا گیا تھا اور اُنہیں معلوم تھاتاہم اس حوالے سے کوئی معاہدہ نہیں ہواتھا۔واضح رہے کہ اس سے قبل سابق جنرل مشرف اور دیگر پاکستانی حکام امریکہ کے ساتھ ڈرون حملوں کے متعلق کسی معاہدے سے انکار کرتے رہے اور احتجاج کا واویلا بھی کرتے آرہے ہیں اور اب ایک امریکی ٹی وی کوہی دیئے گئے انٹرویو میں اعتراف کیاگیا ہے ۔

مزید : قومی /Headlines