آدھا گھنٹہ انتظار کے بعد پرویز مشرف کو عبوری ضمانت میں توسیع مل گئی ، شامل تفتیش ہونے کا حکم

آدھا گھنٹہ انتظار کے بعد پرویز مشرف کو عبوری ضمانت میں توسیع مل گئی ، شامل ...
آدھا گھنٹہ انتظار کے بعد پرویز مشرف کو عبوری ضمانت میں توسیع مل گئی ، شامل تفتیش ہونے کا حکم

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)آدھا گھنٹہ کھڑا رکھنے کے بعد اسلام آباد ہائیکورٹ نے جج نظربندی کیس میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف کی عبوری ضمانت میں چھ روز کی توسیع کرتے ہوئے اُنہیں تفتیش میں شامل ہونے کی ہدایت کردی ۔سابق فوجی صدر ججوں کو نظر بند کرنے کیخلاف کیس میں عبوری ضمانت میں توسیع کیلئے سخت سیکیورٹی حصار میں اسلام آباد ہائیکورٹ میں جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی عدالت میں پیش ہوئے ۔دوران سماعت عدالت نے استفسار کیاکہ سابق صد رنے پہلے سیشن کورٹ سے رجوع کیوں نہیں کیا جس پر وکیل کاکہناتھاکہ سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے فاضل عدالت سے رجوع کیاگیااور اُنہوں نے عبوری ضمانت میں دوہفتوں کیلئے توسیع کی استدعا کی جسے عدالت نے مسترد کرتے ہوئے چھ دن کیلئے عبوری ضمانت منظورکرلی اور ملزم کو پانچ لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے تھانہ سیکرٹریٹ میں تحقیقات کیلئے پیش ہونے کا بھی حکم دیدیا۔ ان کی رہائش گاہ چک شہزاد سے ہائی کورٹ کی عمارت تک اسلام آباد پولیس اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کے اہلکار تعینات تھے،وکلاءکو بھی نکال دیاگیاجس پر وکلاءنے احتجاج کیا۔وکلاءرہنماﺅں کاکہناتھاکہ پرویز مشرف کو جس طرح پروٹوکول دیاگیا، وہ اُس کے مستحق نہیں تھے۔اس سے قبل پرویز مشرف جب ہائی کورٹ کی عمارت میں پہنچے تو عدالت میں چائے کا وقفہ ہو گیا جس پر سابق صدر تقریباً پچیس منٹ تک گاڑی میں ہی بیٹھے رہے۔وقفہ ختم ہونے پر مشرف عدالت میں پیش ہوئے۔ پرویز مشرف کی آمد سے قبل جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے سیکیورٹی اہلکاروں کی تعیناتی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں کمرہ عدالت سے باہر نکال دیا۔ انہوں نے تنبیہ کی کہ عدالت کا تقدس ملحوظ خاطر رکھا جائے،قانون کی نظر میں سب برابر ہیں ۔قبل ازیں جسٹس شوکت عزیز صدیقی کاکہناتھاکہ صبح سے تین مرتبہ پرویز مشرف کو بلاچکے ہیں لیکن وہ حاضر نہیں ہوئے ، مزید انتظار نہیں کرسکتے ۔ پرویز مشرف کے وکیل قمر افضل کاکہناتھاکہ سیکیورٹی کی وجہ سے اُن کے موکل کی آمد میں تاخیر ہوئی ہے ، آدھے گھنٹے میں پہنچ آئیں گے جس کے تھوڑی دیر بعد ہی جسٹس شوکت عزیز صدیقی اپنی عدالت سے اُٹھ کر چلے گئے اور ساتھ ہی پولیس اور رینجرز کمانڈوز کے حصار میں پرویز مشرف ہائیکورٹ پہنچ گئے لیکن فاضل جج کے اُٹھ کر چلے جانے کی وجہ سے احاطہ عدالت میں پرویز مشرف پچیس منٹ تک اپنی گاڑی میں موجودرہے ۔ پیشی کے موقع پر عدالت کے باہر” کمانڈو“ کے حمایتیوں اور مخالفین کی بڑی تعداد موجود تھی اور سابق صدر کی آمد اور روانگی کے موقع پر ان کی حمایت اور مخالفت میں نعرے بازی کی تاہم سندھ ہائیکورٹ میں پیش آنیوالے ”واقعہ“ کی طرز کا کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔

مزید : قومی