ڈی جی اوگراکیخلاف کارروائی موخر، سپریم کورٹ نے ایف آئی اے کو سی این جی لائسنسوں کا ریکارڈ قبضے میں لینے کا حکم دیدیا

ڈی جی اوگراکیخلاف کارروائی موخر، سپریم کورٹ نے ایف آئی اے کو سی این جی ...
ڈی جی اوگراکیخلاف کارروائی موخر، سپریم کورٹ نے ایف آئی اے کو سی این جی لائسنسوں کا ریکارڈ قبضے میں لینے کا حکم دیدیا

  

اسلام آ باد(مانیٹرنگ ڈیسک) سپریم کورٹ نے سی این جی لائسنس کیس میں ڈی جی ایف آئی اے کو 2008 ءکے بعد سے جاری سی این جی لائسنسوں کا ریکارڈ قبضے میں لے کر عدالت میںرپورٹ پیش کرنے کا حکم دیدیاتاہم ڈی جی اوگرا کیخلاف کارروائی موخر کردی۔چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میںسپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے میگاپراجیکٹس ردوبدل کیس کی سماعت کی ۔دوران سماعت عدالت نے ڈی جی ایف آئی اے کو سیکریٹری پٹرولیم سے سی این جی سلنڈر کی درآمد سے متعلق رپورٹ کل عدالت میں جمع کرانے اور 2008 ءسے اب تک جاری سی این جی لائسنسوں کا ریکارڈ قبضے میں لینے کا حکم دیدیا ۔عدالت کا کہنا تھا کہ احکامات پر عمل نہ کرنے پر ڈی جی اوگرا کے خلاف کارروائی مناسب وقت پر کی جائے گی، سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز اشرف کی طرف سے سی این جی لائسنسوں کے حوالے سے بھجوائی گئی سمریوں ، لائسنسوں اور دوسری دستاویزات کی نقول بھی طلب کرلی ہیں۔دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے ہیں کہ بادی النظر میں سی این جی لائسنسوں کے اجرا میں قواعد کی خلاف ورزیاں ہوئیں اور اوگرا کو حکم عدولی کی جرات کیسے ہوئی ؟کیوں نہ ڈی جی اوگرا کو جیل بھجوا دیا جائے؟ انہوں نے کہا کہ ڈی جی اوگرا کو اس کے نتائج بھگتنا پڑیں گے اوروہ زیادہ ہوشیاری نہ دکھائیں،خرابی کے باعث ہی چیزیں چھپائی جاتی ہے۔عدالت نے کہا کہ ہر کوئی ملک لوٹنا چاہتا ہے جبکہ عدالت قومی خزانے کی مخافظ ہے۔ انہوں نے کہا کہ خان پور کا لائسنس لے کر اسے بلیو ایریا اسلام آباد منتقل کیا جاتا ہے اور کیس کی مزید سماعت 15 اپریل تک ملتوی کردی گئی۔

مزید : اسلام آباد /اہم خبریں