ڈی پی اوز اور آر پی او کی طرح اےس اےچ اوز کو بھی ضلع بدر کیوں نہےں کےا گےا

ڈی پی اوز اور آر پی او کی طرح اےس اےچ اوز کو بھی ضلع بدر کیوں نہےں کےا گےا

 فیصل آبا د(منیر عمران سے) آئی جی پنجاب پولیس آفتاب سلطان نے انتخابات میں پولیس کے عملی کردار کو غیر جانبدار رکھنے کی غرض سے صوبہ بھر کے آر پی اوز ‘ سی پی اوز اور ڈی ایس پیز ایک ضلع سے دوسرے ضلع میں ٹرانسفر کر دئیے اور انہیں فوری طور پر پرانی تعیناتیاں چھوڑ کر نئی تعیناتیوں پر پہنچنے کی ہدایات بھی جاری کر دیں، غالباً آئی جی پنجاب کے ذہن میں یہ تصور تھا کہ جب وہ ایک ضلع سے دوسرے ضلع میں جائینگے تو وہ الیکشن میں کسی بھی فیورٹ امیدوار کی کوئی حمایت نہیں کر سکیں گے۔ شفاف الیکشن کے لئے یہ پالیسی کسی نہ کسی حد تک موزوں بھی محسوس ہوتی ہے۔ آر پی او ‘ سی پی اوڈی پی او اور ڈی ایس پی اگر کسی فیورٹ امیدوار یا اپنے کسی ”تارگٹڈ“ امیدوار کو کوئی فائدہ پہنچانا بھی چاہے تو وہ ایس ایچ او کے ذریعے ہی کر سکتے ہیں۔ براہ راست ممکن ہے وہ کوئی خاص مدد فراہم نہ کر سکیں۔ اس طرح جانبداری یا غیر جانبداری کےلئے ایک ایس ایچ او کا رول ہی بنیادی رول ٹھہرتا ہے۔ اصولی طور پر ایسی کسی حکمت عملی یا طریقہ کار کا اطلاق ایس ایچ او کی سطح پر بھی ہونا چاہےے۔ اسی اصول کے تحت فیصل آباد میں گزشتہ روز ضلع بھر کے 39ایس ایچ او تبدیل کرکے الیکشن کو غیر جانبدارانہ بنانے کی کوش کی گئی۔ تبدیل ہونے والے تقریباً سبھی ایس ایچ او گزشتہ کئی سال سے ضلع فیصل آباد میں ہی تعینات چلے آرہے ہیں۔ایک تھانہ سے دوسرے تھانہ میں آتے جاتے رہے۔ گزشتہ پانچ سال کے عرصہ میں ن لیگ کی پنجاب میں حکومت رہی، کتنی ہی بار وہ محکمانہ مسائل ومشکلات کے شکار رہے۔ ان مسائل ومشکلات میں سے نکلنے کے لئے کتنی ہی بار انہیں ن لیگی بااختیار وزیروں، مشیروں، ارکان قومی وصوبائی اسمبلی اور اثرورسوخ رکھنے والے دیگر جماعتیں عہدیداروں کا سہارا لینا پڑا۔ جو یقینا وجہ¿ ممونیت بھی بنا۔ وہی ایس ایچ اوز ایک تھانہ سے نکل کر اسی ضلع کے کسی دوسرے تھانہ میں ایس ایچ او لگ جائیں تو وہ سیاسی سرپرستی اور ذاتی ممونیت کے اثر سے نکلنے میں یقینا دقت محسوس کریں گے۔ کسی دوسرے ضلع سے فیصل آباد میں آنے والے بڑے پولیس افسران اگر غیر جانبدارانہ کردار بھی ادا کریں یا کرنا چاہیں تو ممکن ہے وہ اندر کھاتے کسی من پسند یا سرپرست سیاسی رہنما کی غیر محسوسانہ طور پر مدد کرنے والے کسی ایس ایچ او پر شائد مو¿ثر چیک اینڈ بیلنس نہ رکھ سکیں۔ شفاف انتخابات کو یقینی بنانے کےلئے اتنے سے رسک کی بھی گنجائش نہیں رکھنی چاہےے تھی۔ اس طرح ایک طرف تو ن لیگ اپنے اوپر بظاہر کسی بھی جانبدارانہ حمایت کے الزام سے بچ گئی اور دوسری طرف ن لیگ کے مقامی امیدواروں کو کوئی خصوصی سپورٹ ملے نہ ملے جانبدارانہ حوصلہ اور ہمدردی ضرور مل سکے گی۔ اس سے یہ اندازہ کیا جارہا ہے کہ ن لیگ اپنی اس خاموش حکمت عملی میں کامیاب ہو گئی۔

تبادلے

مزید : صفحہ آخر