چھُپ کے بیٹھیں ، ایک کلومیٹر دور سے فوٹوبن جائے گی

چھُپ کے بیٹھیں ، ایک کلومیٹر دور سے فوٹوبن جائے گی
چھُپ کے بیٹھیں ، ایک کلومیٹر دور سے فوٹوبن جائے گی

  

لندن (بیورورپورٹ)سکاٹ لینڈ میں ماہرین کی ایک ٹیم نے ایک کلومیٹر کے فاصلے پر موجود اشیا کی سہ رخی یا تھری ڈی اشکال ریکارڈ کرنے والا کیمرہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ ایڈنبرا کی ہیریئٹ واٹ یونیورسٹی کے ماہرین کا تیار کردہ یہ کیمرہ لیزر شعاعوں کی مدد سے کسی بھی چیز کو سکین کر سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مزید تحقیق کے بعد اس کیمرے کی رینج دس کلومیٹر تک بڑھائی جا سکتی ہے۔ یہ کیمرہ ابتدائی طور پر گاڑیوں کی سکیننگ کے لیے استعمال کیا جائے گا لیکن یہ ابھی تک انسانی کھال کی نشاندہی کرنے میں ناکام ہے۔ اس کی وجہ انسانی کھال کا لیزر شعاعوں کو اس طریقے سے منعکس نہ کرنا ہے جیسے کہ دیگر اشیا کرتی ہیں، فاصلے سے تصاویر اتارنے کے علاوہ اس ٹیکنالوجی کو چٹانوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے، کیمرہ بنانے والی ٹیم کے رکن اینگس میکارتھی کا کہنا ہے کہ یہ بات واضح ہے کہ اس کا حجم کم کرنے کی ضرورت ہے اور ہمارا ماننا ہے کہ ایک کم وزن سکیننگ کیمرہ بنانا ممکن ہے اور یہ آنےوالے پانچ برس میں تیار کیا جا سکتا ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس