کیا کسی کا.... دھرا کسی کا

کیا کسی کا.... دھرا کسی کا
 کیا کسی کا.... دھرا کسی کا
کیپشن: malik

  

جب سے ہمارے چیف ایڈیٹر جناب مجیب الرحمن شامی نے اپنے ایک کالم میں ”کیا دھرا“ کے محاورہ کو الگ الگ استعمال کیا ہے یار لوگ بھی اُردو ادب کی اس صنف کو اپنی اپنی طرز اور ضرورتوں کے مطابق استعمال کرنے میں جُڑ گئے ہیں۔1975ءسے قبل تک سپریم کورٹ آف پاکستان کے تمام دفاتر اور عدالتیں لاہور میں تھیں۔ البتہ کراچی میں ایک رجسٹری آفس تھا، لیکن پھر جب نیشنل عوامی پارٹی (نیپ) پر بھٹو دور میں پابندی لگانے کے لئے سپریم کورٹ میں ریفرنس دائرکیا گیا، تو اس کے دفاتر پشاور روڈ راولپنڈی میں منتقل کر دیئے گئے، وہاں جسٹس حمود الرحمن کی سربراہی میں فل کورٹ میں اس ریفرنس کی سماعت شروع ہوئی، تو عدالتی کارروائی کے سلسلے میں ایک بحران پیدا ہو گیا۔

 لاہور میں تو سالہا سال سے عدالتی رپورٹر سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے مقدمات کی رپورٹنگ کے لئے موجود رہتے تھے اور نواب کالا باغ کیس ہو یا احمدی جماعت پر پابندی کا کیس ہو، بہت سے مشہور مقدمات کی سماعت روزانہ کی بنیاد پرا یسے ہوتی تھی کہ اخبارات کے پورے کے پورے صفحات بھر جاتے۔ راولپنڈی میں چونکہ اعلیٰ عدالتیں نہیں تھیں، لہٰذا عدالتی کارروائی کی رپورٹنگ کے لئے بھی تجریہ کار صحافی موجود نہیں تھے۔ اس صورت حال پر قابو پانے کے لئے اے پی پی سے فاروق نثار (مرحوم) ، ”پاکستان ٹائمز“ سے مقبول شریف (مرحوم) اور ”نوائے وقت“ کی طرف سے اُس زمانے میں میری ڈیوٹی لاہور سے عارضی طور پر راولپنڈی تبدیل کر دی گئی تاکہ نیپ ریفرنس کی روزانہ سماعت کی لفظ بہ لفظ رپورٹنگ کی جا سکے۔ اے پی پی کی طرف سے الیکٹرانک میڈیا۔ بی بی سی، وی او اے اور ریڈیو کو خبریں ارسال کی جاتی تھیں، جبکہ ”پاکستان ٹائمز“ اور ”امروز “کو مقبول شریف کوریج بھیجتے اور ”نوائے وقت“ کی رپورٹنگ میرے ذمہ تھی۔ اس ریفرنس کی سماعت غالباً 55،56پیشیوں میں مکمل ہوئی اور پھر فیصلہ سنا دیا گیا۔ یوں ہم بھی اپنا کام مکمل کر کے واپس لاہور آ گئے۔

آج جب اس1975ءوالی صورت حال کی جانب نگاہ دوڑاتے ہیں، تو اس وقت بھی سپریم کورٹ اسلام آباد۔ ہائی کورٹ اسلام آباد اور دوسری قائم ہونے والی خصوصی عدالتوں کی پوزیشن ویسی کی ویسی ہے۔ کوریج کے معیار کو کسی طرح بھی تسلی بخش قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ان دنوں جنرل پرویز مشرف پر قائم کئے گئے مقدمہ کی جو درگت بنائی جا رہی ہے، اس کی حالت سب کے سامنے ہے۔ ان پر آئین توڑنے اور ججوں کو نظر بند کرنے سے متعلق آئین کی شق6 کے تحت جو مقدمہ قائم کیا گیا ہے اس کی سماعت تین ججوں پر مشتمل ایک خصوصی عدالت کر رہی ہے۔

 وفاقی حکومت نے اس ضمن میں عدالی اختیارات اور حدود متعین کرنے سے متعلق جو حکم نامہ یا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے اسے ہمارے عدالتی رپورٹروں نے صحیح طور پر اور سیاق و سباق کے ساتھ پڑھنے کی بھی ضرورت نہیں سمجھی، لہٰذا ہر چینل کا خبر نگار اپنی اپنی راگنی الاپتا دکھائی دیتا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ یہ جونیئر رپورٹر جب تبصرہ کرنے کے لئے بیرسٹر اعتزاز احسن کو ٹیلی فون لائن پر لاتے ہیں، تو اُن سے سوالات کرتے وقت یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ اعتزاز احسن وہ قابل ترین وکیل ہے، جو1965ءسے یونیورسٹی لاءکالج لاہور جو کہ پنجاب کا ہی نہیں، سرحد، بلوچستان کا بھی اکلوتا لاءکالج تھا۔ اس میں وہ وکالت کی اس وقت تعلیم دیتے تھے۔ یہ وہ زمانہ تھا، جبکہ بہت سے موجودہ رپورٹر نوجوان شاید ابھی پیدا بھی نہیں ہوئے تھے، لیکن یہ لوگ بیرسٹر اعتزاز کو الٹ پلٹ سوالوں سے اس قدر زچ کرنے کی کوششیں کر رہے ہوتے ہیں کہ وہ ان رپورٹروں کو صحیح قانونی پوزیشن سمجھا سمجھا کر بے بس سا ہو جاتا ہے۔

آخری بار تو بیرسٹر اعتزاز انہیں یہ کہتے سنائی دیئے کہ بھائی پہلے جا کر اس خصوصی عدالت کے اختیارات کی تفصیل جانیں۔ پھر مجھ سے سوال کریں۔ اس کے باوجود ایک چینل کے رپورٹر شور مچا کر یہ کہہ رہے تھے کہ ”آج خصوصی عدالت نے اپنے فیصلے میں کہہ دیا ہے کہ اس عدالت کے سرے سے اختیار میں ہی نہیں آتا، نہ ہی ان پراس عدالت نے کوئی پابندی لگائی تھی اور نہ ہی اب ایسی کسی پابندی کو اٹھانے کے سلسلے میں دی گئی درخواست کی سماعت کا حق اس عدالت کے پاس ہے“۔ اب آپ خود ہی فیصلہ کریں کہ عدالت نے تو اپنی حدود کے بارے میں بتا دیا، لیکن رپورٹر پھر بھی بضد تھا کہ جناب عدالت کو کوئی اعتراض نہیں۔ مشرف باہر جا سکتے ہیں۔ بہت سے رپورٹروں نے تو یہاں تک بھی کہہ دیا کہ جہاز انہیں لینے بھی آ گیا اور وہ رات کی تاریکی میں کسی بھی وقت پاکستان سے چلے جائیں گے۔ بہت سے چینلوں نے اگلی منزل ترکی بتائی۔ کئی ایک نے دبئی بتایا اور کچھ نے کہا کہ سعودی شہزادہ چونکہ ڈیڑھ ارب ڈالر پاکستان کو دے گئے ہیں لہٰذا پرویز مشرف کی اگلی منزل جدہ کا وہ محل ہے، جس میں سات سال تک میاں محمد نواز شریف اور اُن کا خاندان سعودی عرب کا مہمان رہا ہے۔ غرض اس طرح سے اس مقدمہ کی کھچڑی پکائی گئی کہ صورت حال ابھی تک جوں کی توں ہے۔

اصول کے مطابق ہونا تو یہ چاہئے کہ اس مقدمہ کی سماعت مروجہ قوانین، پہلے سے طے شدہ طریق کار اور عدالت کو سونپے گئے قانونی اور عدالتی اختیارات کے مطابق ہو۔ حکومت کے بھی قابل وکلاءموجود ہیں اور دوسری طرف سے پرویز مشرف کے وکلاءصفائی کی ٹیم بھی موجود ہے، لہٰذا وہ اپنے بہترین دماغ اس ضمن میں استعمال کر سکتے ہیں، وہ بخوبی یہ بتا سکتے ہیں کہ نومبر 2007ءمیں آئین معطل کر کے جو ایمرجنسی نافذ کی گئی اس کا فیصلہ شوکت عزیز کابینہ نے کیا تھا۔ کابینہ کے اس فیصلے کو جب صدر کے پاس بھیجا گیا تو بحیثیت صدرِ پاکستان پرویز مشرف اس پر عمل درآمد کرنے کے پابند تھے اور وہی انہوں نے کیا۔ اب یہ الگ بات ہے کہ بطورِ صدر انہوں نے اس فیصلے پر عمل درآمد کرانے کے لئے جو مشینری استعمال کی وہ چیف آف آرمی سٹاف کی تھی۔ یوں صدر نے آرمی چیف کو حکم دیا۔ اب چونکہ تکنیکی لحاظ سے صدر پاکستان اور آرمی چیف دونوں کے عہدے تو الگ تھے، لیکن آدمی ایک ہی تھا، لہٰذا یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ ”کیا دھرا“ ایک ہی شخص کا نہیں تھا، بلکہ حکم صدرِ پاکستان نے جاری کیا تھا اور اس پر من و عن عمل چیف آف آرمی سٹاف نے کیا۔ یوں یہ کیا کسی اور کا تھا اور دھرا کسی اور کا۔

 اِس ”کیا دھرا“ نے یہ کیسے کیسے گل کھلائے ہیں کہ2014ءتک تو بہ مشکل یہ خصوصی عدالت اپنا فیصلہ سنائے گی اور پھر اگر مشرف کے خلاف ہوا تو اس کے خلاف اپیلیں سپریم کورٹ تک جائیں گی۔ یوں 2018ءکے الیکشنوں کی تیاری کے قریب کہیں جا کر یہ ”کیا دھرا“ اپنے اس انجام کو پہنچے گا جس کے بارے میں زبان زدِ خاص و عام ہے کہ تاریخ اپنے آپ کو دہرائے گی۔ سزا بھی ہو گی۔ معافی بھی ہو گی اور جلاوطنی بھی ہو گی جو آپ ”بو“ چکے ہیں اس کی فصل بھی آپ کو کاٹنا ہو گی۔ تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ اس قانونی معاملے کو قانون دانوں تک ہی رہنے دیا جائے۔ خاص طور پر ایسے میڈیا والے کم ہی تبصرہ کریں، تو زیادہ بہتر ہو گا، جو قانون کی ایک کتاب بھی نہیں پڑھے اور نہ ہی قانون جاننے کی کوشش کرتے ہیں اور حد یہ کہ ملک کے تجربہ کار اور سینئر بیرسٹروں سے رہنمائی حاصل کرنے کی بجائے الٹا انہیں قانون سکھانے، سمجھانے اور پڑھانے کی کوشش کرتے ہیں۔  ٭

مزید :

ادارتی صفحہ 1 -