اپنا بچہ حکومت کو دے کر خواتین کیلئے 4 لاکھ روپے نقد حاصل کرنے کی سہولت

اپنا بچہ حکومت کو دے کر خواتین کیلئے 4 لاکھ روپے نقد حاصل کرنے کی سہولت
اپنا بچہ حکومت کو دے کر خواتین کیلئے 4 لاکھ روپے نقد حاصل کرنے کی سہولت

  


ماسکو (نیوز ڈیسک) روسی حکومت نے خواتین کو اسقاط حمل سے باز رکھنے کے لئے انہیں سزا یا جرمانے کی دھمکی دینے کی بجائے ان کے بچے خریدنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

ویب سائٹ RT.COMکی رپورٹ کے مطابق رکن پارلیمنٹ الیکسانڈر شیرین کی طرف سے نئی قانون سازی کے لئے تجویز بھیجی گئی جس میں کہا گیا کہ جو خواتین اسقاط حمل کا فیصلہ تبدیل کرنے کے لئے تیار ہوں حکومت انہیں 3700ڈالر (تقریباً پونے چار لاکھ روپے) ادا کرکے ان کا بچہ خرید لے۔ روسی میڈیا کے مطابق حکام نے اس تجویز کو قابل عمل قرار دیا ہے اور اسے قانون کی شکل دینے کی تیاریاں شروع ہوچکی ہیں۔

تاریخ کا انوکھا واقعہ، دو الگ الگ خواتین نے جڑواں بچوں کو جنم دے دیا، ایسا کیسے ممکن ہے؟ آپ بھی جانئے

روسی قانون کے مطابق حمل کے 12 ہفتے مکمل ہونے سے پہلے اسقاط حمل کروایا جاسکتا ہے جبکہ جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والی خواتین 22 ہفتوں کے حمل کا اسقاط کرواسکتی ہیں۔ دوسری جانب حکومت شرح پیدائش میں اضافے کی خواہاں ہے اور اسقاط حمل کی قانونی اجازت ہونے کے باوجود اس کی شرح میں کمی کی خواہشمند ہے۔

رکن پارلیمنٹ الیکسانڈر شیرین کا کہنا تھا کہ اس قانون کی وجہ سے بہت سے ایسے بچے زندہ رہ سکیں گے کہ جنہیں بصورت دیگر پیدا ہونے سے قبل ہی مار دیا جاتا ہے۔ حکومت کا یہ بھی کہنا ہے کہ مستقبل میں افراط زر کے پیش نظر خواتین کو ادا کی جانے والی رقم میں اضافہ بھی کیا جائے گا۔

مزید : ڈیلی بائیٹس