عرب حکومتیں بڑی مشکل میں پھنس گئیں، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور کویت کو وہ کام کرنا پڑگیا جو پہلے کبھی خوابوں میں بھی نہ سوچا تھا

عرب حکومتیں بڑی مشکل میں پھنس گئیں، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور ...
عرب حکومتیں بڑی مشکل میں پھنس گئیں، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور کویت کو وہ کام کرنا پڑگیا جو پہلے کبھی خوابوں میں بھی نہ سوچا تھا

  

ریاض(مانیٹرنگ ڈیسک) خلیجی ممالک تیل کی دولت سے مالا مال ہیں اور تیل کی قیمتوں میں مسلسل کمی سے انہی کی معیشتیں دنیا میںسب سے زیادہ متاثر ہوئی ہیں اور انہیں ریکارڈ بجٹ خسارے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔تمام خلیجی ریاستیں اس بجٹ خسارے پر قابو پانے کے لیے ہنگامی اقدامات کر رہی ہیں جن میں نئے ٹیکسز کا نفاذ بھی شامل ہے، مگر پھر بھی حالات قابو سے باہر ہیں اور ان ممالک کو اب اربوں کے قرضے لینے پڑ رہے ہیں، جس کا پہلے کبھی تصور بھی نہ کیا گیا تھا۔ نیوز ویب سائٹ مڈل ایسٹ آئی کی رپورٹ کے مطابق کویت فنانشل سنٹر نے اپنے اعدادوشمار میں توقع ظاہر کی ہے کہ تیل کی دولت سے مالامال یہ خلیجی ریاستیں 2020ءتک 285ارب ڈالر (تقریباً285کھرب روپے)سے 390ارب ڈالر(تقریباً390کھرب روپے) قرض لیں گی۔

مصر پہنچتے ہی سعودی بادشاہ کو ’ڈاکٹر‘بنانے کافیصلہ

کویت فنانشل سنٹر کی رپورٹ کے مطابق2015ءاور 2016ءکے درمیان تیل پر انحصار کرنے والی 6خلیجی ریاستوں بحرین، کویت، عمان، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو مجموعی طور پر 318ارب ڈالر(تقریباً318کھرب روپے)کا ممکنہ بجٹ خسارہ ہو سکتا ہے۔یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب تیل پر انحصار نہ کرنے کی بجائے بینکنگ، سیاحت و دیگر شعبوں سے آمدنی حاصل کرنے پر توجہ مرکوز رکھنے والی امارت دبئی نے دنیا کا بلندترین ٹاور تعمیر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس وقت بھی دبئی کا ٹاور برج الخلیفہ ہی دنیا کی بلندترین عمارت ہے۔ایسے وقت میں جب تیل پر انحصار کرنے والی عرب ریاستوں کو بھاری بجٹ خسارے کا سامنا ہے اور وہ قرض لینے پر مجبور ہیں، دبئی اس نئے ٹاور کی تعمیر پر 1ارب ڈالر(تقریباً1کھرب روپے)خرچ کرنے جا رہا ہے۔

مزید :

عرب دنیا -