تیسری سہ ماہی میں واپڈا پن بجلی کی پیداوار میں 18فیصد اضافہ

تیسری سہ ماہی میں واپڈا پن بجلی کی پیداوار میں 18فیصد اضافہ

لاہور (کامرس رپورٹر)واپڈا پن بجلی گھروں نے سال 2015-16 ء کی تیسری سہ ماہی میں نیشنل گرڈ کو 4 ارب 73 کروڑ یونٹ کم لاگت پن بجلی فراہم کی ، جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 72کروڑ 20لاکھ یونٹ زیادہ ہے۔پن بجلی کی اِس اضافی پیداوار کی وجوہات میں آبی ذخائر میں پانی کی بہتر صورتِ حال اور پن بجلی گھروں کا مؤثر آپریشن اور دیکھ بھال شامل ہیں ۔پن بجلی کی یہ اضافی پیداوار ایسے وقت میں حاصل کی گئی ہے جبکہ ملک کو بجلی کی اشد ضرورت ہے۔ واپڈا ہر سال قومی نظام کو اوسطاً 31 ارب یونٹ سے زائد کم لاگت پن بجلی فراہم کرتا ہے۔ بجلی کی پیداوار کیلئے پانی سستا ترین، آلودگی سے پاک اور ماحول دوست ذریعہ ہے۔ پن بجلی پاکستان میں بجلی کے مجموعی نرخوں کو کم سطح پر رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے)کے فروری 2016ء کے اعداد و شمار کے مطابق پن بجلی کی فی یونٹ پیداواری لاگت محض 1 روپے 83 پیسے فی یونٹ ہے۔

جو باقی تمام ذرائع سے پیدا ہونے والی بجلی کے مقابلے میں کئی گنا کم ہے ۔پن بجلی کی فی یونٹ پیداواری لاگت کے مقابلے میں گیس سے بجلی کی پیداواری لاگت 8 روپے 16پیسے فی یونٹ ، فرنس آئل سے11 روپے 67پیسے فی یونٹ ، ڈیزل سے18 روپے 62پیسے فی یونٹ ،آئی پی پیز سے 9 روپے 1 پیسہ فی یونٹ ، کوئلہ سے12 روپے 16پیسے فی یونٹ، نیوکلیئر سے7 روپے 53پیسے فی یونٹ ، ہواسے 14 روپے 40پیسے فی یونٹ ،بائیو گیس سے11روپے 79پیسے فی یونٹ، شمسی توانائی سے 22 روپے 55 پیسے اور ایران سے درآمد کی جانے والی بجلی کی لاگت 10 روپے 50 پیسے فی یونٹ ہے۔ واپڈا پن بجلی گھروں کی مجموعی پیداواری صلاحیت تقریباً 6 ہزار 9 سو میگاواٹ ہے جو ملک میں تمام ذرائع سے پیدا ہونے والی بجلی کا تقریباً ایک تہائی ہے۔ یہ امرقابل ذکر ہے کہ واپڈا کے بعض پن بجلی گھر 50 سال سے زائد پرانے ہونے کے باوجود بہتر دیکھ بھال اور مؤثر آپریشن کی وجہ سے ابھی بھی اپنی پوری صلاحیت کے مطابق بجلی پیدا کر سکتے ہیں۔

مزید : کامرس