جادوگروں کے لئے ایک سیف۔۔۔!

جادوگروں کے لئے ایک سیف۔۔۔!

بین الاقوامی شہرت کے حامل پامسٹ میر بشیر،ایم اے ملک ، ہندی علمِ نجوم کے ماسٹر سردار علی صابری، سب ہی سے میری ملاقات ہو چکی تھی، جبکہ بظاہر غیر معروف، مگر ’’علمِ جفر‘‘ پرزبردست دسترس رکھنے والے غضنفر علی شاہ صاحب سے بھی فیض حاصل کر چکا تھا۔ پھر ادھر چند برس میں عبداللہ بھٹی سے ایک سے زائد بار موبائل فون پر گفتگو ہو چکی ہے، چنانچہ اس کے بعد مجھے کسی پُر اسرار علم کے ماہر اور مستقبل میں جھانکنے والے شخص سے ملنے کی ضرورت نہیں رہی تھی۔ جو علم پانا تھا،ماہرینِ فن کو دیکھنا تھا۔ مَیں دیکھ چکا تھا، لیکن مقدر کے لکھے کو کون ٹال سکتا تھا۔ میری ملاقات سید سیف اللہ شاہ صاحب سے ہونا تھی، سو ہوئی۔ وہ ایک خوبصورت شخص، ایک سید، پھر پٹھان، حسن و وجاہت کا مرقع، ایک ہیرو۔ مجھے اپنے دور کے کنگ، معروف اداکار شاہ زمان سدھیر یاد آگئے۔ کیا مرد تھے؟

سیف اللہ شاہ پر بات کالم سے نہیں ہو سکتی، وہ ایک ناول مانگتے ہیں اوروہ بھی ممتاز مفتی کا ’’علی پور کا ایلی‘‘۔۔۔ میرے ایک دوست، بدترین جان لیوا جادو، ہلاکت خیز جادو کا شکار ہو گئے۔ جو لوگ جادو کی اقسام جانتے ہیں، وہ یہ جانتے ہیں کہ ان میں جہاں میاں بیوی کو جدا کر دینے والے، دکان اور کاروبار بند کرنے والے ، کسی شخص کو مصائب والم میں مبتلا کرنے والے جادو ہوتے ہیں اور بھی ہوتے ہیں۔ وہیں کسی کو بدترین جادو کے ذریعے ہلاک کر دینے والے جادو بھی ہوتے ہیں اور یہ محض کہانیاں نہیں ہیں۔ واقعتاً ایسے جادو ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام میں جادو ایک گناہ عظیم ہے اور اس کا کرنے والا کافر۔ چاروں آئمہ کا فتویٰ ہے ۔ جادوگر کی سزا موت ہے۔ جہاں مل جائے(اسے حکومت) زمین میں زندہ گاڑ دے اور پتھر مار مار کر ہلاک کر دیا جائے۔ یہ فتویٰ ہی ثبوت ہے کہ جادو سے لوگ مار دیئے جاتے ہیں۔ ظاہر ہے اس سے بڑی کیا بات ہو سکتی ہے۔ سو میرے دوست پر ایسا ہی عمل کیا گیا تھا۔ وہ ہر ہر لمحہ مرتا تھا، نہ جیتا تھا، نہ مرتا تھا۔زندگی کیا تھی، عذاب تھی۔ سانسیں زمین و آسمان کے مابین معلق رہتی تھیں۔ جب اس سے مابعد پوچھا جاتا کہ کیا محسوس ہوتا تھا، یعنی ہمیں تو تم نارمل لگتے تھے۔ وہ سر ہلا کر، غمناک آنکھوں سے کہتا۔ مَیں کیا بیان کروں۔کسی ماں سے پوچھو،جس کا ایک ہی جگر گوشہ ہو۔ چار چھ برس کا بچہ، وہ اسے بازار لے کر جائے اور بچے کا ہاتھ اس کے ہاتھ سے نکل جائے، وہ جئے گی کہ مرے گی!!

اللہ جسے رکھے اسے کون چکھے۔ بے شمار دعاؤں، آہوں، اذکار کے بعد ایک دن اور یہ دن کوئی دو ماہ بعد آتا ہے، جسم کی ہڈی ہڈی اور بوٹی بوٹی الگ کرنے کے بعد، وہ سید سیف اللہ شاہ سے ملتے ہیں۔ شاہ صاحب ملیر سٹی، گلشن قادری میں ہوتے ہیں۔ وہ بنیادی طور پر ایک طبیب ہیں۔ باقاعدہ دواخانہ کرتے ہیں۔ انہوں نے دوست کو چار تعویز دیئے اور مسکراتے ہوئے کہا۔۔۔ انشاء اللہ آپ پانچ ایام میں ٹھیک ٹھاک ہو جائیں گے۔ البتہ علاج پورے 21دن تک کا ہے۔ بقول خود میرے دوست کے میں جوہر ہر لمحہ مرتا تھا۔ دکھ سے میرا بُرا حال ہو چکا تھا۔ پانچویں دن ٹھیک ہو رہا اور سجدے میں پڑ گیا۔ یہ اس کا بیان تھا۔ اس کے بعد خود اپنے گھر میں مختلف مسائل ہوئے۔ سو معلوم ہوا شاہ صاحب واقعی شاہ صاحب ہیں۔ وہ دن بھر میں نہ جانے کتنے ستم رسیدہ، جادو ٹونے کے ڈسوں کو ان کی راہ دکھاتے ہیں۔ سب ہی نے کہا: ’’ سیف اللہ، واقعی سیف اللہ۔ جادوگروں پر ان کی تلوار برستی ہے اور گردن اتار کر رکھ دیتی ہے۔

ہر شخص کی محبت ہوتی ہے۔ مسلمان زیادہ تر اولیاء اللہ سے پیار کرتے ہیں۔ اولیاء کیا کرتے ہیں، کفر کی نفی، خلق خدا کو اسلام کی تعلیمات دینا، اشفاق احمد کے بقول، خدمت کرنا۔ اس تناطر میں دیکھئے سیف اللہ شاہ کتنے بڑے شخص ہیں۔ جادو ایک فتنہ، ہزارہا گھر برباد ہو گئے۔ لوگوں کے کاروبار تباہ، لاتعداد عورتوں کو طلاقیں، ہزارہا بہن بیٹیوں کی شادیاں نہ ہونا، اب اگر ایک شخص ان میں سے ہر ایک کا علاج کرتا ہے۔ جادوگروں کا بحیرہ عرب میں غرقاب : ’’اس سے بڑا کون شخص ہے۔ کم از کم مجھے سید سیف اللہ شاہ سے بڑھ کر اپنے فن میں یکتا کوئی نہیں مل سکا۔ باتیں ہوئیں معلوم ہوا، وہ مشہور و معروف ’’گھمکول شریف کوہاٹ، کے ہاتھ پر بیعت ہیں‘‘ ۔۔۔ ابا جی ایک آستانے پر جایا کرتے تھے اور میں 25سال تک ان کے ہمراہ جاتا رہا۔ وہاں کام چراغ جلانا تھا اور فرض نماز اور تہجد کی عادت وہیں پڑی۔ جمالی اور جلالی ہر طرح کے وظائف کئے۔ مثلاً یااللہ یا رحمن یا رحیم اور یاقہار یا جبار۔ البتہ بندہ، ولی کثرتِ درود شریف سے بنتا ہے۔ دعائیں قبول ہونے لگتی ہیں۔

معاشرے میں مغالطہ پایا جاتا ہے کہ شائد شاہ صاحب ایسے لوگ، عوام کو مزاروں سے طلب کرنے والا بنا دیتے ہیں۔ انہوں نے اس کی نفی کی اور کہا: ’’وہ تو کافر شخص ہوتا ہے جو اللہ کے سوا کسی اور سے مانگتا ہے۔ مرشد تو رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اگر آپ کو سائیکل بھی چلانی ہو۔ استاد چاہیے ہوتا ہے۔ وہ بتاتا ہے کیسے بیٹھو، پکڑو، پش بھی وہی کرتا ہے۔مَیں وہاں شاہ صاحب کے ہاں کئی ایک بار گیا۔ دیکھا کوئی عورت آئی۔ دردِ سر سے بُرا حال۔ آپ نے دم کیا۔ گویا درد تھا ہی نہیں۔ کسی کو دندان کا مسئلہ ہوا۔ یہ لیجئے پھوک ماری۔ وہ ٹھیک!‘‘۔۔۔’’آخر یہ دانت ایسا سخت درد کیسے ٹھیک ہو جاتا ہے‘‘۔ ’’کہا: مجھے خواب میں ایک تسبیح سید غوثِ اعظم نے عطا کی تھی ‘‘! بس وہ پڑھتا ہوں‘‘۔

کمالِ علم یہ ہے کہ مسلمان ہی نہیں ہندو، سکھ، عیسائی، کوئی بھی ہو۔ وہ کچھ پڑھتے ہیں۔ چھو کرتے ہیں اور مسئلہ حل ہو جاتا ہے۔ ایک دن دیکھا۔ دبئی سے کسی سکھ کا موبائل پر فون آیا۔ آپ نے کچھ پڑھا اور کچھ دیر بعد معلوم ہوا۔ سکھ شکریہ ادا کر رہا ہے۔ کہہ رہا ہے: ’’شاہ صاحب! کمال اِی کیتا جے!‘‘ معاشرہ بہرحال ہر طرح کے اچھے بُرے لوگوں سے عبارت ہے۔ شاہ صاحب بہرحال ہر کام سے پہلے استخارہ کرتے ہیں، مگر کبھی غلط کام نہیں کرتے۔ ایک بار ایک شخص آیا۔ اسے کسی عورت سے عشق ہو گیا تھا۔ کہنے لگا: ’’ایسا تعویز دے دیں کہ بس وہ مجھ پر فریفتہ ہو جائے!‘‘ آپ نے غصہ کرتے کہا۔ میں ایسے فضول کام نہیں کرتا۔ آؤٹ!‘‘۔۔۔سید سیف اللہ شاہ بہت سے امراض کا علاج کرتے ہیں۔ بعض میں بیان نہیں کرنا چاہتا۔ مبادا انہیں ہجوم کا سامنا کرنا پڑے!! لیکن ہر نوع کے جادو ٹونے کے علاج میں ان کا کوئی ثانی نہیں۔ ان کی جنات سے بھی دوستی ہے۔ قبیلہ احمد کے جنات کو انتہائی سخت بتایا اور فیقطوش کو بھی سخت بتایا، مگر احمر سے قدرے کم!

موقع اچھا تھا۔ پوچھا کہ مسلمانوں کو حفظِ ماتقدم کے طور پر کیا کرنا چاہیے کہ وہ جادو، جنات اور اَرواحِ خبیثہ کے شر سے محفوظ رہیں۔ کالم کا مقصد بھی یہی کہ عامتہ الناس کو اس نوع کے دکھوں، آزار اور اذیت ناک واقعات سے ،جہاں تک ہو سکے۔ بچایا جائے۔ شاہ صاحب نے کہا: ’’فجر بعد نماز اور مغرب کے بعد آیت الکرسی، سورۃ الفلق اور سورۂ الناس، تینوں پڑھ کر ہاتھوں پر دم کیا جائے ، پھر ہاتھوں کو پورے جسم پر پھیرا جائے اور ہر روز ایسا کیا جائے، جبکہ نوجوان لڑکیوں اور عورتوں کو ہر طرح کی خوشبویات سے پرہیز کرنا چاہیے ، خصوصاً گھروں کی کھلی چھتوں پر ، ننگے سَر، کھلے بال نہیں رہنا چاہیے اور یہ محض کہانیاں نہیں ہیں کہ جنات، اکثر نوجوان حسین لڑکیوں اور عورتوں پر پوری جان سے فدا ہو جایا کرتے ہیں اور ان میں سے بعض کبھی جان نہیں چھوڑتے ہیں، جن لڑکیوں کی شادیاں نہیں ہو پاتیں، اکثر ایک وجہ یہ جن بھی ہوتے ہیں۔ انہوں نے اشارہ دے دیا۔ 0331-2472509 شاہ صاحب کا نمبر ہے، جس کا جی چاہے بات کر سکتا ہے اور جنات کے ہر قبیلے کا پتا کر سکتا ہے۔

مزید : کالم