واہگہ بارڈر پر دلکش، روح پرور اور خوبصورت سماں

واہگہ بارڈر پر دلکش، روح پرور اور خوبصورت سماں
واہگہ بارڈر پر دلکش، روح پرور اور خوبصورت سماں

  


السلام علیکم دوستو!سنائیں کیسے ہیں، امید ہے کہ اچھے ہی ہوں گے،ہم بھی یقیناًاچھے ہی ہیں۔دوستو! آج کل مصروفیت کے دن ہیں ۔ اسی لئے تو آجکل آپ سے کم کم ملاقاتیں ہو رہی ہیں، لیکن اتنا ضرور ہے کہ ہم آپ سے بذریعہ یلغار ہم کلام ہو کر اکثر اوقات اپنے دن بھر کی مصروفیات بھی شیئرکرتے رہتے ہیں اور یقیناًآج بھی ہم آپ کو بہت ہی پیاری تقریب، جہاں ہم نے شرکت کی اس کا حال سنانے جا رہے ہیں آج کل مجتبیٰ رفیق لاہور میں موجود اور نوکری کی تلاش میں سر گرم ہیں۔ نوکری کا حصول تو مشکل ہے لیکن آئے روز نت نئی جگہوں کی سیر کرنا تو ناممکن نہیں اسی لئے ہم نے بھی مجتبیٰ رفیق ،جنید اور تسنیم یوسف بٹ جو کہ پیسہ اخبار چلا رہے ہیں یہ بھی بتلاتے چلیں کہ پیسہ اخبار کی بھی اپنی تاریخی اہمیت ہے بہرحال ہم آپ کو بتلا رہے تھے کہ ہم نے ایک تقریب میں شرکت کی جی ہاں وہ تقریب جس میں ہم شریک ہوئے وہ واہگہ بارڈر پر پرچم اتارنے کی تقریب تھی ہر روز ملک بھر میں ہزاروں اہم جگہوں پر صبح صبح پرچم لہرانے جبکہ ہر شام کو قومی پرچم اتارنے کی تقریب منعقد ہوتی ہے لیکن جس زور و شور سے ہماری سرحدوں پر تعینات فوج اپنی جان کی بازیلگارہی ہے باکل اسی طرح جوش و خروش سے پاک رینجرز کے جوان بھی واہگہ بارڈر پر ہر شام پر چم اتارتے نظر آتے ہیں۔

یہاں یہ بھی بتاتے چلیں کہ پرچم اتارتے ہوئے واہگہ بارڈر پر پاکستان اور ہندوستان دونوں طرف سے دروازے کھول دئے جاتے ہیں اور پرچم اتارنے کا یہ منظر اتنا دلکش روح پرور اور خوبصورت ہو تا ہے کہ فرط جذبات و شدت سے واہگہ بارڈر کی فضائیں از خود نعرہ تکبیراور اللہ اکبر کے نعروں سے گونجنا شروع ہو جاتی ہیں۔ جب ہم پرچم کشائی کی تقریب میں پہنچے تو ہمیں جگہ جگہ رینجرز کی بنی ہوئی چوکیوں سے گذرنا پڑا لیکن ہمیں اس لئے کوئی مشکل نہ ہوئی کہ جنید جن کے دوست پاک رینجرز میں ہیں۔ انہوں نے ان سے تقریب میں شرکت کا اجازت نامہ دلوا دیا تھا اور پروٹوکو ل کی لسٹ میں بھی ہمارا نام لکھوا دیا تھا جس وجہ سے ہمیں پنڈال تک پہنچنے میں کوئی دشواری نہیں ہوئی ،،بہرحال سخت حفاظتی انتظامات کے حصار میں ہم واہگہ بارڈر کے گیٹ پر پہنچ گئے جہاں رینجرز کے چاق و چوبند اہلکار اپنے ہاتھوں میں لسٹیں لے کر کھڑے تھے اور آنے والے معزز مہمانوں کے ناموں کی جانچ پڑتال کرنے کے بعد انہیں ان کی نشستوں پر بٹھا ر رہے تھے تاہم پرچم اتارنے کی تقریب میں جہاں ہزاروں کی تعداد میں بچے، بوڑھے جوان ،لڑکے لڑکیاں ،خواتین شامل تھیں بہت بڑی تعداد غیر ملکیوں کی بھی تھی جن میں زیادہ تر افراد کا تعلق دوست ملک چین سے تھا ۔

جب ہم اس جگہ پہنچے جہاں پرچم اتارا جانے والا تھا اور اپنی نشستوں پر بٹھائے جا چکے تھے تو ہمیں بڑے بڑے سپیکروں پر ملی نغموں کی دھن بلند آواز میں سنائی دے رہی تھی جو حاضرین کا جوش بڑھانے کے کام آرہے تھے، پھر اتنی دیر میں پاکستان کے قومی پرچم کے لباس میں ملبوس ناصر پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگاتے پنڈال میں داخل ہوا اور اپنے مخصوص انداز میں حاضرین کو نعرے لگانے پر مائل کرتا رہا ،تاہم ہمیں یہ جان کر حیرت ہوئی کہ ایک ٹانگ سے معذور شخص کس طرح سے وطن کی محبت میں سرشار ہو کر ایک ٹانگ سے قومی ملی نغموں کی دھنوں اور ڈھول کی تھاپ پر نہ صرف خود بھی جھوم رہا تھا، بلکہ پنڈال میں بیٹھے افراد کو بھی جھومنے پر مجبور کر رہا تھا، اسی اثناء میں ہمیشہ کی طرح ڈھول کی تھاپ پر شفیق واہگہ اور عمران پاکستان بھی ا پنے مخصوص انداز میں پنڈال میں داخل ہوتے دکھائی دئیے، جبکہ ان کی آمد سے پہلے امجد پاکستانی پرچم پہنے ڈھول کی خوبصورت و مدھر آواز سنا کر حاضرین کو بھنگڑا ڈالنے پر مجبور کرتا رہا ، اور اسی شور و غوغے میں سپیکروں سے کلام پاک کی تلاوت شروع ہوئی جس کے بعد دونوں طرف سے پرچم اتارنے کے لئے گیٹ کھول دئیے گئے اور پاک فوج کے جوان اور بی ایس ایف کے جوان اپنا اپنا قومی پرچم اتارنے کے لئے تیار نظر آئے ۔۔۔

اتنی دیر میں رینجر اہلکار نے بگل بجانا شروع کیا تو اس کی گونج نے فضاء اور ماحول کو پر کشش بنا دیا اور جب بگل بجا تو رینجرز اور بی ایس ایف کے جوانوں نے قومی پرچم اتارنے شروع کئے اور جیسے جیسے پرچم اترتا گیا تماشائیوں کا جوش بڑھتا گیا پھر قومی پرچم کو سب کے سامنے انتہائی احترام سے اتار گیا اور جیسے ہی قومی پرچم زمین کی طرف آنے لگا رینجر اہلکار نے لپک کر قومی پرچم کو پکڑا واپس گیٹ کی چھت کی طرف بڑھنے لگے پھررینجرز اہلکاروں نے عوام کو سلامی دی اور نگاہوں سے اوجھل ہو گئیاس کے بعد تقریب اختتام پذیر ہوئی اور جیسے ہی تقریب اختتام کو پہنچی بچے رینجرز اہلکاروں کی طرف بڑھے اور انہیں تصویر بنوانے پر مجبور کر نے لگے ہم بھی جنید ، یوسف بٹ اور مجتبیٰ کے ہمراہ تصاویر بنوانے لگے تاکہ یاد گار رہے کہ ہم نے بھی کبھی باب آزادی کا دورہ کیا تھا یہ ہماراپہلا دورہ نہیں تھا لیکن جوش بالکل ویسا ہی تھا جیسے پہلی دفعہ پرچم اترتے دیکھتے ہوئے تھا بہرحال تصاویر اتارنے کے بعد ہم نے بھی واپسی کی راہ لی اور گاڑی کی طرف بڑھنے لگے تاہم یہ بھی بتلاتے چلیں کہ پہلے اتنی سختی نہیں تھی لیکن چند سال قبل قومی پرچم اتارنے کی تقریب میں ناخوشگوار حادثہ پیش آگیا تھا۔ خود کش دھماکہ ہوا تھا جس میں کئی ناحق جانیں ضائع ہوئیں ، اس خوفناک واقعہ کے بعد ہی واہگہ بارڈر پر سختی کر دی گئی تھی اور ارد گرد کی دکانیں اور رہائشی مکانات بھی ختم کر دئیے گئے تھے ،

ہم نے واپسی کا رخ کیا ،لیکن قومی پرچم اتارنے کے مناظر دل میں گویا نقش سے ہو چکے تھے اور ہمارے دل سے قوم کے ان بیٹوں کے لئے دعائے خیر بھی لبوں پر امڈ رہی تھی یہ ہماری پاک فوج کے وہ جوان ہیں جن کے لئے میڈم نور جہاں نے کہا تھا کہ اے پترہٹاں تے نئیں وکدے اسی لئے تو ہمارے وطن کی مٹی آج بھی۔۔۔ اے راہ حق کے شہیدو وفا کی تصویرہ تمہیں وطن کی ہوائیں سلام کہتی ہیں،کی صدائیں بلند کرتی محسوس ہوتی ہے۔اس لئے کیا سب پاکستانی اپنے فوجی بھائیوں کی صحت تندرستی اور لمبی عمر کی بھی دعا کرتے ہیں اور اپنے رب سے یہ دعا بھی کرتے ہیں کہ اللہ کرے ہمارے پاک فوج کے جوان ایسے ہی چاق و چوبند ہمارے ملک کی حفاظت دل و جان سے کرتے رہیں اور ہم پاکستانی سکھ چین کی نیندیں سوتے رہیں۔ دوستو!اپنینیک خواہشات و جذبات کے ساتھ اجازت چاہتے ہیں آپ سے۔۔۔ تو ملتے ہیں جلد ایک بریک کے بعد تو چلتے چلتے اللہ نگہبان، رب راکھا ۔

مزید : کالم