تصوراتی وزیر اعظم پاکستان عمران خان

تصوراتی وزیر اعظم پاکستان عمران خان
 تصوراتی وزیر اعظم پاکستان عمران خان

  

جب بچے ہوش سنبھالتے ہیں تو وہ دنیا کے تمام کرداروں کو کتابوں میں کہانیوں میں سنتے اور دیکھتے ہیں ان کہانیوں کے زیر اثر آ کر کچھ بچے ڈاکٹر، انجینئر ، فوجی، ڈپٹی کمشنر ، بادشاہ ، اداکار، کرکٹر وغیرہ بننے کا ایک تصور اپنے ذہن میں بنا لیتے ہیں اور اس کا اظہار وہ ڈاکٹر، فوجی، بادشاہ، ملکہ و کرکٹر کے کپڑے پہن کر اپنی خواہش کا عملی جامہ پہنانے کا اظہار کرتے ہیں ہمارے بہت سے سیاسی لیڈر اپنے جلسوں میں وزیر اعظم پاکستان کے نعرے لگواتے ہیں جن میں پرویز الٰہی ، عمران خان، مولانا فضل الرحمن وغیرہ شامل ہیں وزیر اعظم پاکستان بننے کی دلی خواہش کا اظہار سب سے زیادہ عمران خان نے اپنے جلسوں میں نعرے لگوا کر کیا جب ان کی یہ خواہش پوری ہوتی نظر نہ آئی تو انہوں نے اپنے تصوراتی وزیر اعظم بننے کی خواہش کا اظہار 10اپریل کو تصوراتی وزیر اعظم بن کر قوم سے خطاب بھی کر ڈالا، صرف قومی ترانہ نہ بجایا گیا لیکن پاکستان کا جھنڈا لگا کر اپنی خواہش پوری کرنے کی کوشش کر ڈالی۔

تصوراتی وزیر اعظم نے اپنے خطاب میں وہی گھسی پٹی باتیں کیں جو ایک ہفتہ سے پریس کانفرنس اور اسمبلی میں کر رہے ہیں یا پھر تین سال سے جلسوں میں دہرا رہے ہیں ۔ مسئلہ نواز شریف کے بچوں کے کاروبار اور پیسوں کا ہے اس طرح کی کمپنیوں میں دنیا کے چالیس سے زیادہ سربراہان کے علاوہ ہزاروں بزنس مین و دیگر افراد شامل ہیں نوازشریف اور ان کی فیملی نے جلا وطنی کے دس سال گزارے اور اپنے کاروبارِ زندگی کو چلانے کے لئے کاروبار بھی کئے ان کاروباروں میں اگر ان کی فیملی نے قومی خزانے سے ایک پیسہ بھی ناجائز طور پر استعمال کیا ہو تو ان کا سخت احتساب ہونا چاہئے لیکن تحقیق کے لئے مروجہ قانون کو استعمال کرنا چاہئے نہ کہ ملک میں انارکی پھیلانی چاہئے دھرنوں کی سیاست نے ملک کو شدید نقصان پہنچایا تبدیلی ووٹ اور قانون کے ذریعے لانی چاہئے نہ کہ عوام کا سکون برباد کر کے، نواز شریف کی فیملی نے جلا وطنی میں کاروبار کیا۔

لیکن عمران خان نے کبھی یہ سوچا کہ ان کے بچے برٹش نیشنل ہیں اور وہ بھی اپنا کاروبار لندن میں ہی کریں گے اگر کبھی عمران خان وزیر اعظم بن گئے تو وہ اپنے بچوں کو پاکستان لانے کی طاقت رکھتے ہیں اور جو دولت ان کی فیملی کی لندن میں موجود ہے کیا اسے پاکستان لا سکتے ہیں آصف زرداری، شوکت عزیز و دیگر وزیر اعظم اور صدور اربوں ڈالر پاکستان سے لے گئے جو ان کے علم میں ہیں اس کی جدوجہد کیوں نہیں کرتے، اپنے صوبے میں احتساب کے چیئرمین کو اس لئے انہوں نے ہٹا دیا کہ انہوں نے عمران خان کی پارٹی کا احتساب شروع کر دیا تھا حکومت کو بھی چاہئے کہ حساس معاملے کی شفاف تحقیق کرائے اور جو لوگ غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث پائے جائیں ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ عمران خان کو بھی چاہئے کہ وزیر اعظم بننے کی خواہش کی تکمیل اور نئے دھرنے کے پروگرام سے پہلے تمبو، باجے کناتوں والوں کے بقایا جات ادا کریں اور پارٹی کو شاہ محمود قریشی و دیگر لیڈران کی بغاوت سے بچائیں۔

مزید :

کالم -