آئین پاکستان

آئین پاکستان
آئین پاکستان

  


پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینٹ کے چیئر مین میاں رضا ربانی نے کہا ہے کہ آئین کی دفعہ 6آئین کا دفاع کرنے میں ناکام رہی ہے اسے ختم کردینا چاہئے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جنرل پرویز مشرف کے ملک سے جانے کے بعد اس دفعہ کو ختم کرنا چاہئے۔ وہ یوم دستور جو دس اپریل کو منایا جاتا ہے، کے حوالے سے کراچی میں ایک تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ آئین کی دفعہ 6 آئین کو ختم کرنے، اس کے ساتھ غیرآئینی طریقہ سے طاقت کے بل پر چھیڑ چھاڑ کرنے کو غداری قرار دیتی ہے ۔ پاکستان کا آئین 1973ء میں تیار کر کے 14 اگست سے نافذ کیا گیا تھا۔ آئین کسی بھی ملک کا بنیادی ڈھانچہ طے کرتا ہے اور ملک کے نظام کو چلانے کی ر ہنمائی کرتا ہے۔ تما م اداروں کو پابند کرتا ہے کہ آئین کی روح کے مطابق مملکت کے معاملات چلائے جائیں۔ مولانا محمد علی رضوی حیدرآباد سے جمیعت علماء پاکستان کے ٹکٹ پر 1970ء کے انتخابات میں قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے ۔ انہوں نے آئین کے دیباچہ پر اس قومی اسمبلی کے اراکین کے دستخط لئے تھے ۔ وہ ایک سو ونیئر بن گیا۔ ہزارہ سے منتخب ہونے والے مولانا عبدالحکیم نے اپنے دست خط کے ساتھ لکھا تھا کہ ’’ یہ آئین مزارعین کے لئے کچھ نہ کر سکا ‘‘ اپنے دست خط کے نیچے انہوں نے 4 جولائی 1973ء درج کی۔ آئین اپریل میں منظور ہوا، 14 اگست سے پاکستان میں نافذ ہوا تھا۔ صوبہ سرحد سے منتخب ہونے والے عبد الخالق خان نے لکھا تھا ’’ میں اس آئین کو محنت کش عوام کے مفاد میں نہیں سمجھتا ‘‘۔ عبدالخالق خان ( اپنے وقت کے سی ایس پی افسر روئیداد خان کے بھائی تھے )پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر مردان سے منتخب ہونے والے ان چار اراکین میں سے ایک تھے جنہوں نے پیپلز پارٹی کی قیادت سے اختلافات کے باعث آئین کی منظوری کے وقت اس پر دست خط نہیں کئے تھے۔ ان لوگوں میں میر علی احمد تالپور، عبدالحمید خان جتوئی اور احمد رضا قصوری شامل تھے۔

حمود الرحمان کمیشن نے اپنی مکمل رپورٹ 23 اکتوبر 1974 ء کو وزیراعظم بھٹو مرحوم کو پیش کی تھی۔ انہوں نے رپورٹ میں دی گئی تجاویز پر عمل کرنے کی بجائے رپورٹ ہی کو کلاسی فائڈ قرار دے دیا تھا ۔ آج تک یہ رپورٹ مکمل طور پر سرکار نے عام نہیں کی ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل گل حسن اور ایئر فورس کے سربراہ ایئر مارشل رحیم خان کو 3 مارچ 1972ء کو جس غیر اخلاقی طریقہ سے ان کے عہدوں سے ہٹایاگیا، اس پر بھی فوج میں شدید غم و غصہ پایا جاتا تھا۔ بھٹو مرحوم کی جنرل ضیاء الحق کے ساتھ مری میں ہونے والی آخری ملاقات میں ہونے والی گفتگو جس انداز میں مختلف حلقوں کے علم میں ہے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ معاملہ گھمبیر ہو گیا تھا۔ پھر وزیراعظم نواز شریف نے 12اکتوبر 1999 ء کو جب جنرل پرویز مشرف کو رسمی طور طریقوں کے بغیر برطرف کر کے لیفٹیننٹ جنرل ضیاء الدین بٹ کو جنرل کے عہدے پر ترقی دے کر فوج کا سربراہ نامزد کیا تھا ، اس پر تو رد عمل آنا ہی تھا۔ جنرل مشرف سری لنکا کے دورے پر گئے ہوئے تھے اور واپس ملک آرہے تھے ۔ فوج نے لیفٹیننٹ جنرل گل حسن کی تذلیل برداشت نہیں کی تو وہ جنرل پرویز مشرف کی تذ لیل کیوں برداشت کرتی ۔ ضیاء الحق کو سپریم کورٹ نے نظریہ ضرورت کے تحت حکومت کرنے کی اجازت دے دی۔ مشرف کو بھی سپریم کورٹ نے آئین میں ترمیم کرنے کی اجازت دی۔

اپنے نفاذ کے بعد یہ آئین دو مرتبہ معطل ہوا ہے ، لیکن اس کی بحالی کے بعد ان وقتوں کی حکومتیں آئین کو معطل کرنے کے معاملے پر کوئی کارروائی نہیں کر سکیں۔ بس آئین بحال ہوگیا۔ جس طرح اس کی تدوین کرنے والوں نے خوشیاں منائی تھیں اسی طرح بحالی کی بھی خوشیاں منا لی گئیں۔حکومت کرنے والے حکومت کرتے رہے، منتخب ہو کر اس آئین کے تحت بنائی گئی پارلیمنٹ میں اراکین پہنچے، بیٹھے اور وقت پورا کر کے چلے گئے۔ کئی دوبارہ بھی آگئے۔ آئین کے تحت حلف اٹھانے والے اراکین کیوں غیر آئینی تبدیلی کے حامی بن جاتے ہیں،اس سوال کا جواب بھی تو تلاش کیا جائے۔ چودھری ظہور الہٰی ، جنرل ضیاء الحق کی حکومت کو حصہ کیوں بن گئے تھے ۔ دیگر کئی اراکین نے بھی جنرل ضیا ء الحق کی حکومت کی نہ صرف حمایت کی ،بلکہ ان کی حکومت کا حصہ بن گئے تھے ۔

سب کی یہ خواہش ہے کہ پاکستان میں آئین پر اس کی روح کے مطابق عمل کیا جائے، لیکن درج ذیل سوالات کے جوابات کون دے گا؟ آئین میں درج بنیادی حقوق کی پاسداری کیوں نہیں کی جاتی، آئین میں درج محنت کشوں، خواتین کے حقوق کا تحفظ کیوں نہیں کیا گیا۔ اٹھارویں ترمیم کے بعد سے بھی آج تک صوبوں کو کئی معاملات میں مکمل اختیارات تفویض نہیں کئے جا سکے ہیں۔ کون ذمہ دار ہے ؟ ۔ صوبے اپنے بااختیار نہ ہونے کا رونا کیوں روتے ہیں؟ اس آئین کے نفاذ کے بعد ہی بلوچستان میں کیا کچھ ہوا تھا؟ خان عبدالولی خان، خیر بخش مری، غوث بخش بزنجو اور دیگر کئی حضرات نے جنہوں نے 1973 ء میں آئین کی منظوری پر دست خط کئے تھے، بھٹو حکومت کے غیر آئینی خاتمے کا خیر مقدم کیا تھا ، ایسا کیوں کیا گیا تھا؟ کن سیاست دانوں نے جنرل پرویز مشرف کی حکومت کی حمایت کی تھی، ان میں سے بہت سارے لوگ دوبارہ نواز شریف کے ساتھ شامل ہو گئے۔ نواز شریف نے انہیں کیوں اپنی جماعت میں شمولیت کی اجازت دی تھی؟ سیاست دانوں اور جنرل ہیڈ کوارٹر کے درمیان ملکی معاملات پر اختلافات کیوں رہتے ہیں؟ آئین میں دفعہ 6 کے علاوہ بھی بہت کچھ لکھا ہوا ہے ، اس پر عمل در آمد کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟ کیا یہ اراکین پارلیمنٹ کی ذمہ داری نہیں ہے ؟ عدلیہ غیر آئینی تبدیلی پر اپنی مہر کیوں ثبت کرتی رہی ہے ؟

خواہشات کے تابع ہو کر سیاست نہیں کی جاسکتی ۔ سیاست کرنے کے لئے جامع بنیادی اصولوں پر عمل در آمد کی تو سخت ضرورت ہوتی ہے ۔ جہاں جہاں اور جب جب ضابطوں اور اصولوں سے انحراف کیا جاتا ہے تو وہ پاکستا نی سیاست کا نمونہ بن جاتا ہے۔ پاکستان میں تو ویسے بھی سیاست اب تجارت بن گئی ہے، انتخابات میں حصہ لینا عین سرمایہ کاری تصور کی جاتی ہے اور سیاسی جماعتیں بھی ایسی نجی کارپوریٹ کمپنیوں کی صورت اختیار کر گئی ہیں جن کے حصص کی تعداد محدود ہے اور وہ حصص قریبی رشتہ داروں میں ہی ’’ فروخت ‘‘ کئے جاتے ہیں، آئین کی پاسداری ، آئین کا تحفظ ایک خواب ہے۔ میاں رضا ربانی کا کہنا ہے کہ عوام ہی آئین کے محافظ ہیں۔ ان کے الفاظ دل لبھانے والی بات ہے، لیکن پاکستان کا آئین اور قوانین صرف اور صرف دولت مند ، سرمایہ دار اور بڑے زمینداروں کو ہی تحفظ فراہم کرتے ہیں ، محروم طبقہ سے تعلق رکھنے والے لوگ سر چھپانے کے لئے اپنی چھت، ضرورت کے مطابق پیٹ بھر روٹی، جسم پرکپڑوں ، پاؤں میں جوتے نہ ہونے کے باوجود ایڑیاں رگڑ کر زندہ رہتے ہیں اسی لئے وہ اس تماش گاہ میں تما شائی بنے کھڑے رہتے ہیں اور آئین کے تحفظ کے لئے اپنا کردار ادا کرنے سے کتراتے ہیں ۔

مزید : کالم