عمران خان اور پانامہ پیپرز(1)

عمران خان اور پانامہ پیپرز(1)
عمران خان اور پانامہ پیپرز(1)

  


ایک کالم نگار نے عمران خان کو ایک ایسے کپتان سے تشبیہ دی ہے جو کہ پاکستان کے ڈوبتے ہوئے جہاز کو طوفانوں سے نکال کر کنارے پر پہنچا سکتا ہے اور شریف براران کے خلاف زہر اگلتے ہوئے عمران خان کو انکا متبادل ثابت کرنے کی بے سود کوشش کی ہے میں کہوں گا کہ مجھے اس بات سے اختلاف ہے میں 9جون 2007کو برطانوی وکلا کی ایک ٹیم کے ہمراہ عمران خان سے ان کی برطانیہ رجمنڈسرے میں واقع رہائشگاہ میں اس وقت ملا جب وہ 12مئی کے قتل عام کی بنیاد پر ایم کیو ایم کے رہنما الطاف حسین کے خلاف برطانیہ میں مقدمہ دائر کرنے کی تیاری کر رہے تھے اس دوران میں نے انہیں اپنا نقطہ نظر بیان کیا جو وقت کے ساتھ ساتھ درست ثابت ہوا کالم نگار نے شریف برادران کا عمران خان کے ساتھ موازنہ کر کے تعصب کا مظاہرہ کیا ہے، کیونکہ عمران خان اور میاں صاحبان کا موازنہ ہو ہی نہیں سکتا، عمران خان کی وجہ شہرت کرکٹ کا کھیل، گلیمر سے بھر پور زندگی اور نوجوانوں میں مقبولیت ہے ،جبکہ ودسری طرف ایک ممتاز کاروباری شخصیت، جہاندیدہ سیاستدان، بین الاقوامی مقبولیت کا مالک، رہنما اور جان نچھاور کرنیوالے لوگوں پر مشمل ایک بڑا ووٹ بینک، ایک طرف دو دفعہ پاکستان کا وزیر اعظم، امور مملکت سمجھنے اور چلانے کا بے بہا تجربہ، اور دوسرے کو ابھی حکومت کے بے لگام گھوڑے کی سواری کا ذائقہ چکھنا ہے، یہ موازنہ ہو ہی نہیں سکتا، بلا امتیاز احتساب، آزاد عدلیہ، متحرک میڈیا، آزاد الیکشن کمیشن، ٹیکس کا وسیع دائرہ کار، اور ایک خود مختار، اور باعزت پارلیمنٹ کا قیام جو کہ امور مملکت کو خوش اسلوبی سے چلانے کی صلاحیت رکھتی ہے مجھ اور میاں برادران سمیت ہر پاکستانی کاخواب ہے اور عمران بھی قوم کو یہی خواب دکھا رہے ،ہیں لیکن دیکھنا یہ ہے کہ ان خوابوں کو عملی جامہ پہنانے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں یا نہیں، بطور وکیل مجھے عمران خان اور میاں نواز شریف دونوں کو مشورہ دینے کا موقع ملا اور اس سے مجھے دونوں حضرات کا تجزیہ کرنے کی صلاحیت پرکھنے کا موقع بھی میسر آیا یہ بات حقیقت ہے کہ دنیا کے تمام انسانوں کی طرح میاں محمد نواز شریف کی ذات بھی غلطیوں سے مبرا نہیں، لیکن کیا یہ بات عمران خان کو میاں صاحب سے بہتر ثابت کرنے کی دلیل بن سکتی ہے نہیں ہرگز نہیں، عمران خان کو ابھی عوام کے اعتماد پر پورا اترنے کی کڑی آزمائش سے گزرنا ہو گا ،جبکہ میاں نوا ز شریف کا دو دفعہ انتخابی عمل سے گزر کر وزیر اعظم پاکستان بننا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ انہیں پاکستانی عوام کی مکمل حمایت اور اعتماد حاصل ہے اگر ذاتیات پر تنقید نہ سمجھا جائے تو ہم آسانی سے کہہ سکتے ہیں کہ آئین کے آرٹیکل 62کا اطلاق نہ صرف مالی بدعنوانی، ٹیکس چوری، جعلی ڈگریوں، اور ٹارگٹ کلنگ پر ہوتا ہے عیاشی، بدکاری، اخلاقی پسماندگی، اور جنسی بے راہ روی بھی اس کے دائرہ کار میں آتے ہیں کپتان ایک اولوالعزم مگر صبرسے عاری سیاستدان ہیں اور ایسا صبر، عقل و دانش اور عوامی حمایت سے ناممکن کو ممکن بنا دینے کا فن ہی سیاست کہلاتا ہے عمران خان جلد بازی میں حقیقت سے مبرا فیصلے کر لیتے ہیں جن کی وجہ سے بعد میں انہیں وہ لوگ جن کی مدد سے وہ اقتدار میں آنا چاہتے ہیں کٹھ پتلی کی طرح استعمال کر لیتے ہیں عمران اگر اپنی ہم خیال قوتوں میں سے کسی ایک کے ساتھ بھی اتحاد کر لیتے تو اب تک وہ ملکی سیاست میں اپنی جگہ بنا چکے ہوے اگر وہ بروقت بالغ نظری کا مظاہرہ کرتے تو اب تک وہ عوام کے کچھ سنجیدہ اور ووٹ ڈالنے والے حلقوں میں عزت و تکریم اور حمایت حاصل کر چکے ہوتے اور بے شمار سیاسی غلطیوں کے ارتکاب سے بھی بچ جاتے ان کے سیاسی فیصلے بھی خامیوں کے بغیر نہیں ہیں انہوں نے مشرف کے ریفرنڈم کی بھر پور حمایت کی مگر بعد میں پچھتائے انہوں نے اس بنیاد پر وزارت عظمی سے انکار کیا کہ وزارت عظمیٰ دینے والے جنرل پرویز مشرف چاہتے تھے کہ وہ چودھری برادران کے ساتھ مفاہمت کرلیں لیکن ان کا (اس وقت) موقف تھا کہ ق لیگ کے لیڈر کرپٹ اور بدعنوان ہیں اور وہ کسی ایسی کشتی کے کپتان نہیں بننا چاہتے جس کے ملاح بدعنوان ہوں مگر بعد میں وہ اپنے اس فیصلے پر بھی پچھتائے اور پنجاب کے چوہدریوں کے ساتھ دوبارہ میل ملاپ شروع کر دیا اور بعید نہیں کہ اب وہ ان چوہدریوں کے ساتھ مل کر کوئی نیا سیاسی اتحاد ہی قائم کر لیں ان سب سے بڑھ کر اپنے اس پرانے موقف (جس کی گردان کی سیاست کچھ عرصہ تک گھومتی رہی) سے کہ وہ کراچی کو مافیا سے نجات دلائیں گے اور ان کو سبق سکھا دیں گے بھونڈے انداز میں پسپائی اختیار کر لی ایم کیو ایم کیخلاف مقدمہ دائر کرنے میں ناکامی کے بعد وہ ایم کیو ایم کے قائد کو ملکی سالمیت اور احتساب سے متعلق اختیار کرنے پر مبارکباد پیش کرتے ہیں قول وفعل کے ایسے تضاد کی مثال کم ہی ملتی ہے دراصل ایم کیو ایم گزشتہ نو سال سے اقتدارمیں تھی اور اس سے دشمنی عمران خان کے لئے فائدہ مند اس طرح ثابت ہوئی کہ عمران کو کراچی میں داخلہ سے روک دیا گیا اور اس با ت کا انہوں نے خوب چرچا کیا عمران خان تب غلط تھے یا اب فیصلہ اب عوام کو کرنا ہے، میں ایک لیڈر کو پرکھنے کے لئے تین خوبیوں کا جائزہ لوں گا، کردار، عمل اور ماضی کے تجربات۔

عمران خان اپنے ماضی کے رنگین سایوں سے تو کسی طرح بچ ہی سکتے ہیں، لیکن ان کی ذاتی زندگی کے کچھ پہلو ابھی بھی دھندلے ہیں وہ تمام طرح کے خفیہ اثاثوں کے سخت خلاف ہیں مگر انہوں نے کبھی بھی اپنی اور ارب پتی گولڈ اسمتھ کی برطانیہ میں ہر دلعزیز بیٹی جمائما خان کی طلاق کے معاملات کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں یاد رہے کہ برطانوی قانون میں طلاق کے معاملہ میں میاں بیوی کے اثاثہ جات بھی تقسیم ہوتے ہیں ایسی کوئی بھی تفصیل (اگر کوئی ہے ) کبھی ظاہر نہیں کی گئی اور نہ ہی ان اثاثہ جات کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ برطانیہ میں ہیں یا پاکستان میں اور اگر ثاثہ جات تقسیم نہیں کیے گئے تو از خود طلاق پر سوالیہ نشان ہے، کیونکہ عمران خان جب بھی برطانیہ تشریف لاتے ہیں تو وہ رجمنڈمیں واقع اپنے سسرالی گھر میں قیام کرتے ہیں اس کے علاوہ برطانوی انتخابات کے دوران انہوں نے اپنے برادر نسبتی ( جو کہ برطانیہ کی قدامت پسند جماعت سے تعلق رکھتے ہیں ) کی انتخابی مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اس کے علاوہ بلاول بھٹو، اور حسن نواز کے برطانیہ میں قیام پر کڑی تنقید کرتے ہیں جب کہ ان کے اپنے دونوں بیٹے برطانیہ میں ہی قیام پذیر اور زیر تعلیم ہیں ان کا طرز عمل بھی خود وضاحتی ہے وہ چاہتے تو ٹیکنو کریٹس یا کم از کم کرکٹرز ہی کی کوئی ٹیم تشکیل دے سکتے تھے جو ان کی عزت کرتی، ہم نے چار سال میں ان کی کوئی بھی ٹیم نہیں دیکھی ان کی حالت اس کپتان کی سی ہے جو بورڈ کی طرف سے اپنی ٹیم کے اعلان کا انتظار کر رہا ہو، عمران کی ساری پارٹی ان کی ذات کے گرد گھومتی نظر آتی ہے پاکستان تو کجا برطانیہ میں بھی اپنی پارٹی کو مستحکم نہ کر سکے اور اپنے کارکنوں کو ناراض کرتے رہے وگرنہ وہ برطانیہ سے ہی اپنی پارٹی کے کچھ امیدوار چن سکتے تھے ان کا یہ موقف کہ کوئی بھی شخص ،جس کے پاس کوئی بھی غیر ملکی بینک اکاؤنٹ ہو اس کو انتخاب کے لئے نااہل قرا ر دیا جائے جلتی پر تیل کا کام کر رہا ہے اس طرح سے انہوں نے ایک ہی جھٹکے میں آٹھ لاکھ سے زائد بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو جن کو کبھی وہ قوم کا سرمایہ خیال کرتے تھے، اور جن میں بیشمار ٹیکنو کریٹس‘ کاروباری حضرات، ماہر اقتصادیات، بینکار، وکلا، ڈاکٹرز، اور انجینئر ز شامل ہیں اور ان سب کے غیر ملکی بینک اکاؤنٹس بھی ہیں کو انتخابات کے لئے نااہل قرار دے دیا، اس طرح تو جنرل پرویز مشرف، اور عمران میں کیا فرق رہ گیا دونوں نے جب چاہا بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کا استعمال کیا اور جب چاہا ٹھکرا دیا، میرے خیال میں عمران خان اب سیاسی حریفوں کو مات دینے کے لئے اسٹیبلشمنٹ کی ٹیم کی قیادت کے خواہشمند ہیں، کیونکہ وہ اپنی ٹیم بنانے میں تو بری طرح ناکام ہو چکے ہیں اگر وہ سیاسی عمل کے ذریعے آتے ہیں تو انہیں خوش آمدید کہا جائے گا، لیکن اگر وہ اسٹیبلشمنٹ کے کندھوں پر سوار ہو کر کسی مہم جوئی پر نکلتے ہیں ( جو کہ آتے تو احتساب کے نام پر اور جاتے این آر او جیسے سیاہ قانون بنا کر ) تو یاد رہے کہ انہیں سیاسی ناتجربہ کاری کی بنا پر شاید ایک ایسے سیاسی جلاد (تارا مسیح) کا کردار ادا کرنے کی بھی اہلیت نہیں رکھتے جو اپنے مخالفین کی کردار کشی اور سرکوبی کرنے کے بعد سب سے اونچی مسند پر بیٹھ سکے ،کیونکہ جیسے ہی وہ تمام سیاست دانوں کا قلع قمع کر دیں گے تو ایک سیاسی خلا پیدا ہو جائے گا، اور آمروں کی شب خون مارنے کے لئے ایک اور چور دروازہ میسر آ جائے گا اور ان کی جگہ بھی کوئی آمر آ جائے گا، پھر وہ دوبارہ سے اپنی سیاسی ساکھ کرنے کے لئے اس آمر کی مخالفت کر دیں گے جیسا کہ انہوں نے جنرل مشرف کے دور میں کیا تب وہ مسلم لیگ، ایم کیو ایم حتی کہ پیپلز پارٹی کے ساتھ نشستوں کی محفوظ تقسیم پر آمادہ ہوں گے مگر اس وقت ان کے ہاتھ دائمی پچھتاوے کے سوا کچھ بھی نہ حاصل ہو سکے گا۔(جاری ہے)

مزید : کالم