سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی سربراہی میں جوڈیشل کمیشن

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی سربراہی میں جوڈیشل کمیشن

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے وزیراعظم نوازشریف سے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے چیف جسٹس کی سربراہی میں جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ اپنے گھر بنی گالہ (اسلام آباد) سے قوم کے نام خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا جوڈیشل کمیشن سمیت دوسرے مطالبات منظور ہونے تک رائے ونڈ کا گھیراؤ کریں گے اگر موثر تحقیقات کا آغاز نہ کیا گیا تو 24اپریل کو قوم کو آئندہ لائحہ عمل دوں گا۔ اب بات بہت دور تک جائے گی پانامہ لیکس سے ملک کی تقدیر بدلنے کا موقع ملا۔ اس فیصلہ کن موڑ پر جدوجہد نہ کی تو ملک تباہی کی طرف جا سکتا ہے۔ نوازشریف منی لانڈرنگ کے ذریعے بھیجا گیا پیسہ کس منہ سے واپس لائیں گے۔ ٹیکس چوری، کرپشن ،اثاثے ظاہر نہ کرنے پر وزیراعظم عہدے پر رہنے کا اخلاقی جواز کھو چکے ہیں۔ عمران خان نے کہا کہ وزیراعظم نے سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج پر مشتمل جو کمیشن بنانے کا اعلان کیا ہے وہ ہمیں قبول نہیں، ہمیں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی سربراہی میں کمیشن چاہیے، جس میں وائٹ کالر جرائم کے ماہرین بٹھائے جائیں اور باہر سے آڈٹ فرم کی خدمات لی جائیں۔

وزیراعظم نے سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیشن بنانے کا جو اعلان کیا تھا اس سلسلے میں ابھی کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی، وجہ غالباً یہ ہے کہ جن ریٹائرڈ ججوں سے اب تک اس سلسلے میں رابطہ کیا گیا ہے انہوں نے اس ذمہ داری کا بوجھ اٹھانے سے انکار کر دیا ہے۔ انکار کی وجوہ مختلف ہو سکتی ہیں تاہم ایک بڑی وجہ بظاہر یہ نظر آتی ہے کہ مجوزہ کمیشن جو بھی فیصلہ کرے گا وہ جن لوگوں کو پسند نہیں آئے گا وہ نہ صرف اسے مسترد کر دیں گے بلکہ اسے سیاسی بنا کر کمیشن کے رکن (یا ارکان) کو بدنام کرنے کی مہم بھی چلانا شروع کردیں گے اور پھر چن چن کر ایسے گناہ بھی کمیشن کی جھولی میں ڈالنے کی کوشش کی جائے گی جس کا تجربہ سابق چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) فخر الدین جی ابراہیم کو بڑی اچھی طرح ہو گیا تھا۔ انہیں جب چیف الیکشن کمشنر بنایا گیا تو چاروں جانب سے ان کی تحسین شروع ہو گئی، ان پر داد و تحسین کے ڈونگرے برسائے گئے۔ بطور جج ان کے فیصلوں کو تاریخی قرار دیا گیا ان کی دیانت داری کی تعریف کی گئی، عمران خان بھی ان کی تعریف کرتے نہیں تھکتے تھے، لیکن جب الیکشن ہو گئے اور نتائج عمران خان کی خوش فہمیوں کے مطابق نہ نکلے تو انہوں نے اچانک الیکشن کمیشن کے ارکان سمیت چیف الیکشن کمشنر کو اپنے نشانے پر رکھ لیا۔ انہوں نے منظم دھاندلی کے جو الزامات لگائے وہ بعد میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی سربراہی میں بننے والے کمیشن نے مسترد کر دیئے، لیکن اس سے پہلے جسٹس (ر) فخر الدین جی ابراہیم کو ان کی عمر بھر کی کمائی ہوئی نیک نامی اور اچھی شہرت سے محروم کرنے کے لئے ہر حربہ اختیار کیا گیا، نتیجے کے طور پر انہوں نے اپنے عہدے سے استعفا دے دیا۔ کمیشن کے باقی ارکان کو بھی آج تک نہیں بخشا گیا لیکن وہ مضبوط اعصاب کے مالک ثابت ہوئے اوردباؤ کے سامنے جھکنے سے انکار کرتے رہے اور اب تک اپنے عہدوں پر قائم ہیں۔

جب ملک میں کلچر یہ بن گیا ہو کہ سپریم کورٹ کے سرونگ ججوں کے فیصلوں کو انشراحِ صدر کے ساتھ تسلیم نہ کیا جاتا ہو اور ان پر نکتہ چینی کرتے ہوئے تمام حدود پھلانگ لی جاتی ہوں۔ حالانکہ حاضر سروس ججوں کے پاس بہت سے اختیارات ہوتے ہیں جن کے ذریعے وہ ناروا تنقیدکرنے والوں کا منہ بند کر سکتے ہیں تو کوئی ریٹائرڈ جج ذمہ داری کیوں قبول کرے جس کے پاس تو ایسا کوئی اختیار بھی نہیں ہوتا۔ اسے تو جو ذمہ داری سونپی جائے گی اور جو دائرہ کار متعین کیاجائے گا وہ اس کے اندر رہتے ہوئے اپنی تحقیقات کے نتائج مجاز حکام کو پیش کردے گا۔ لیکن اس بات کی کیا ضمانت ہو گی کہ جج نے اپنے فیصلے تک پہنچنے کے لئے جتنی بھی عرق ریزی اور امانت و دیانت سے کام لیا ہو گا اسے وہ لوگ معاف کر دیں گے جنہوں نے ان سے مختلف امیدیں وابستہ کر رکھی ہوں گی۔

پھر عمران خان سمیت اکثر و بیشتر سیاسی جماعتوں اور سیاستدانوں کو ریٹائرڈ جج سے ہونے والی تحقیقات قبول نہیں۔ وزیرداخلہ چودھری نثار علی خان نے ایف آئی اے کے کسی بھی افسر سے تحقیقات کرانے کی پیشکش کی تھی جس کے جواب میں عمران خان نے ایف آئی اے کے افسر کا نام دینے کی بجائے ریٹائرڈنیک نام افسر شعیب سڈل کا نام پیش کر دیا جسے پیپلزپارٹی سمیت بہت سی جماعتوں نے مسترد کر دیا۔ دوسری جماعتوں سے وابستہ لوگوں نے بھی ان کے نام پر صاد نہیں کیا۔ ان حالات میں اگر حکومت کسی ریٹائرڈ جج کو کمیشن کی ذمہ داری اٹھانے پر رضامند بھی کر لیتی ہے تو نتیجہ کیا ہوگا؟ اگر تو کمیشن نے وزیراعظم کو قصور وار ٹھہرا دیا تو پوری اپوزیشن نہال ہو جائے گی۔ نتائج کی تعریفوں کے پُل باندھ دیئے جائیں گے۔ لیکن اگر رپورٹ میں یہ کہہ دیا گیا کہ وزیراعظم پر کوئی الزام ثابت نہیں ہوتا تو پھر کمیشن کے وہ لتے لئے جائیں گے کہ خدا کی پناہ۔ اس لئے بہتر یہی ہے کہ حکومت ریٹائرڈ جج سے تحقیقات کرانے کا فیصلہ واپس لے لے اور عمران خان کے اس مطالبے پر غور کرے کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی سربراہی میں ایسا کمیشن بنایا جائے جس میں فرانزک ماہرین بھی شریک کئے جائیں۔ یہی مطالبہ بعض دوسرے حلقے بھی کر رہے ہیں لیکن بہتر یہ ہے کہ پارلیمنٹ کے اندر نمائندگی رکھنے والی سیاسی جماعتوں کی ایک پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے جو پہلے مجوزہ کمیشن کی سہولت کے لئے ٹرمز آف ریفرنس طے کرے۔ کمیشن کا دائرہ کار کیا ہوگا اور تحقیقات میں کن کن لوگوں اور کن کن امور کا احاطہ کیا جائے گا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ وزیراعظم کا نام تو پانامہ لیکس میں نہیں، ان کے بیٹوں کی کمپنیوں کا ذکر ہے جسے وہ تسلیم بھی کرتے ہیں یہی معاملہ جب سندھ ہائی کورٹ میں پیش ہوا تو فاضل بنچ نے استفسار کیا کہ اگر وزیراعظم کا نام نہیں ہے تو ان کے خلاف کس بنیاد پر مقدمہ چلایا جائے؟ ابھی درخواست دہندہ نے اس سلسلے میں اپنا موقف پیش کرنا ہے۔لاہور ہائیکورٹ میں بھی ایک درخواست دائر کی جا چکی ہے جس میں وہی مطالبہ کیا گیا ہے جو عمران خان نے کیا ہے تو کیا یہ بہتر نہیں کہ ہائی کورٹ کے فیصلے کا انتظار کر لیا جائے عین ممکن ہے ہائی کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں حکومت کوئی بہتر فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں ہو۔

حکومت اگر کمیشن بنانے پر رضامند ہو جائے تو ان تمام لوگوں کے متعلق تحقیقات ہونی چاہیے جن کا ذکرِ خیر پاناما لیکس کی دستاویزات میں کسی نہ کسی حوالے سے آیا ہے۔ ستم ظریفی یہ ہوئی ہے کہ سارا فوکس تو وزیراعظم پر منتقل ہو گیا ہے اور وہ لوگ چین کی بانسری بجا رہے ہیں جن کا اس حوالے سے بھی ذکر ہے کہ انہوں نے عراق سے تیل کی خریداری میں اربوں روپے کمائے اور اس مقصد کے لئے اس وقت کے عراقی صدر کو رشوت تک دی۔ یہ لوگ اب بھی سیاست میں سرگرم عمل ہیں کیا ان کی تحقیقات اس لئے نہیں ہونی چاہیے کہ وہ اپنی حکومت کے دوران اس طرح کے کارنامے انجام دے کر اب رخصت ہو چکے ہیں۔ کمیشن کی تحقیقات کا دائرہ کار وسیع تر ہونا چاہییاور جس جس کا دستاویز میں نام آئے اس کی تحقیقات ضروری ہیں۔اس بات کی تحقیق بھی ہونی چاہیے کہ کیا پانامہ لیکس میں عبدالرحمان ملک کی کمپنی کا نام’’را‘‘نے سازش کے تحت ڈلوایا۔

مزید : اداریہ