ہمیشہ کچھ مختلف کرنے کی کوشش میں رہتی ہوں ،معروف اداکارہ وماڈل ماہا وارثی کی باتیں

ہمیشہ کچھ مختلف کرنے کی کوشش میں رہتی ہوں ،معروف اداکارہ وماڈل ماہا وارثی کی ...

حسن عباس زیدی

ماہاوارثی ٹی وی کی بہت باصلاحیّت،خوبصورت اورمحنتی اداکارہ ہیں۔کینیڈا میں زندگی کے اٹھارہ اُنیس سال گزارنے والی ماہانے وہاں ایک ڈرامہ’’مینگوز‘‘سے اداکاری کاآغاز کیاجوکینیڈا میں رہنے والے جنوبی ایشیائی باشندوں کے بارے میں تھی۔اس کے بعد پاکستان آکراداکاری شروع کردی۔بلقیس کور،کنکراوردوسری بیوی کے بعددوڈرامے ’’مان‘‘،’’گذارش‘‘اور’’وصل یار‘‘ آج کل چینلز سے آن ایئر ہیں۔

ماہاوارثی کی تاریخ پیدائش18مئی ہے اوران کاسٹارٹورس بنتا ہے۔ستاروں پر یقین کے حوالے سے ان کاکہناہے کہ میں ان باتوں پرزیادہ توجّہ نہیں دیتی۔شوبزمیں آمد کے حوالے سے ماہاکا کہنا ہے کہ بس شوق تھا۔کسی سے متاثر ہو کرنہیں آئی۔شوق شوق میں ’’مینگوز‘‘کیلئے آڈیشن دیا اورمیرا انتخاب ہوگیا۔ میرے والدین نے بھی میری بھرپورحوصلہ افزائی کی ہے۔میرے شوبزمیں آنے کے فیصلے پرامّی اور ابو دونوں کا یہی خیال تھا کہ پہلے میں اپنی ڈگری مکمّل کروں کیونکہ پڑھائی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔2010ء میں ’’مینگوز‘‘آن ایئر ہوا تھا۔2012ء میں ’’کنکر‘‘اور2014ء میں ’’دوسری بیوی‘‘آن ایئر ہوا جس میں میرا مرکزی کردار تھا۔’’کنکر‘‘اور’’بلقیس کور‘‘کے وقت میری ڈگری بھی ساتھ چل رہی تھی لیکن ’’دوسری بیوی‘‘کے وقت ڈگری مکمّل ہوچکی تھی اورساری توجّہ کام پرتھی۔میں نے شوبز میں اپنی کچھ حدود خود ہی متعیّن کر رکھی ہیں کیونکہ مجھے خاندانی اقدار کا خیال ہے اور اپنی حدود میں رہ کر ہی کام کرتی ہوں۔

پہلی بار کیمرے کا سامنا کرنے کے حوالے سے ماہاکا کہنا ہے کہ ’’مینگوز‘‘تو کینیڈا میں شوٹ ہوا تھا۔اس کے پروڈیوسرز سہروردی برادران بھی بہت اچھّے تھے۔پاکستان آئی توسیٹ پر کچھ گھبراہٹ ہوئی تھی لیکن کیمرے کی وجہ سے نہیں بلکہ سیٹ کے ماحول کی وجہ سے،پھر عادی ہوگئی۔ اب بھی اگر کسی نئے سیٹ پر جاؤں تو کچھ گھبراہٹ ہوتی ہے۔جہاں تک ساتھی اداکاروں کا تعلّق ہے تو سب نے مجھے سپورٹ کیا ہے۔ ’’دوسری بیوی‘‘میں فہد مصطفٰی کیساتھ بہت اچھّا تجربہ رہا۔فہد کے ساتھ میں نے ’’کنکر‘‘بھی کیا تھا۔فہد نے میری بہت مدد کی۔’’مان‘‘میں میکال ذوالفقار کیساتھ بھی کام کا تجربہ اچھّا رہا ہے۔’’مان‘‘ اور’’وصل یار‘‘میں کرداروں کے حوالے سے ماہاکا کہنا ہے کہ میرے دونوں کرداروں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔’’مان‘‘میں میراکردارایک نفسیاتی سا ہے جو کسی حد تک منفی بھی ہے۔ یہ میری شخصیّت سے بالکل مختلف ہے لیکن’’وصل یار‘‘میں میں19-18سال کی ایسی لڑکی کا کردار ادا کر رہی ہوں جوماہی منڈا قسم کی پینڈو سی لڑکی ہوتی ہے۔میں اس کردار کو زیادہ انجوائے کررہی ہوں کیونکہ اس کے ذریعے بچپن کی کچھ یادیں بھی تازہ ہوئی ہیں۔اگرچہ میں اس کردار سے مختلف ہوں لیکن کہیں نہ کہیں کچھ مماثلت پائی جاتی ہے۔’’وصل یار‘‘ کے ڈائریکٹرعاصم علی ہیں۔مزید ڈراموں کے حوالے سے ماہاکاکہناہے کہ میں تعداد سے زیادہ معیار پر یقین رکھتی ہوں اس لئے زیادہ ڈرامے ایک ساتھ کرنے کی بجائے معیاری کام کرنے کی کوشش کرتی ہوں۔میرا ایک ڈرامہ ’’گذارش‘‘آن ائیرہے۔’’مینگوز‘‘سیزن2بھی آنے والا ہے۔اب میں کچھ آرام کرنا چاہتی ہوں کیونکہ مئی سے مسلسل کام کررہی ہوں ۔ہاں اس دوران اگربہت اچھّے کردارکی پیشکش ہوئی تو ضرورکرلوں گی۔میں نے ہمیشہ کچھ مختلف کرنے کی کوشش کی ہے اورکرداروں کے حوالے سے یکسانیّت کا شکارنہیں ہونا چاہتی۔

’’کس ڈرامے نے شناخت دی ؟‘‘اس حوالے سے ماہاوارثی کا کہنا ہے کہ وہ ’’دوسری بیوی‘‘ ہے جس میں مَیں نے پہلی بار لیڈ کیا تھا۔پہلے ’’مینگوز‘‘کا تجربہ بھی اچھّاتھا لیکن وہ ذرا مختلف قسم کا ڈرامہ تھا۔’’دوسری بیوی‘‘کی کہانی اور کردار ہمارے معاشرے سے مطابقت رکھتے تھے اور لوگ ان کے ساتھ خود کو جوڑ سکتے تھے۔شوبزمیں آنے کے بعدمیرے معمولات میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی۔ میں فیملی کیساتھ زیادہ وقت گزارنے کی کوشش کرتی ہوں اورحال ہی میں 20 دن فیملی کیساتھ کینیڈامیں گزار کر آئی ہوں۔اگرچہ کراچی میں بھی میری فیملی ہے لیکن یہاں صبح سے رات تک کام ہوتا ہے اورمیل جول کیلئے زیادہ وقت نہیں ملتا۔فی الحال میں خود کواداکاری تک محدود رکھے ہوئے ہوں۔ہاں اگر ماڈلنگ میں بھی بہت اچھّی پیشکش ہوئی تو وہ بھی ضرور کروں گی۔’’مینگوز‘‘ کی طرف سے ایک بار ریمپ کیا تھا۔جہاں تک مُستقبل کا تعلّق ہے تو میں بہت زیادہ منصوبہ بندی کرکے کام نہیں کرتی کیونکہ کامیابی نہ ملنے کی صورت میں بہت مایوسی ہوتی ہے۔ہاں میرا ذاتی کاروبارشروع کرنے کا ارادہ ہے اور آنیوالے تین چارسالوں میں اپنا کاروبار شروع کرسکتی ہوں۔میری ڈگری ہیومن ریسورسز میں ہے لیکن میں ملازمت نہیں کرسکتی بلکہ اپنا کاروبار کروں گی۔ امّی اور ابو دونوں فارماسسٹ ہیں لیکن میں کینیڈا میں اپنا بزنس کرنا چاہتی ہوں۔

خرچ کرنے کے حوالے سے ماہاکاکہنا ہے کہ موبائل وغیرہ کا مجھے زیادہ شوق نہیں ہے۔زیادہ خرچ کپڑوں پرکرتی ہوں۔ڈیزائنرزکپڑے خریدنے کی بجائے طارق روڈجاکر خود کپڑا پسند کرتی ہوں اورخرید کر اپنے ڈیزائن خود بناتی ہوں۔میں نے چونکہ ٹورنٹو میں بہت وقت گزارا ہے اس لئے ظاہرہے مغربی ملبوسات میں خود کوزیادہ آرام دہ محسوس کرتی ہوں لیکن یہاں موقع کی مناسبت سے مشرقی ملبوسات بھی شوق سے پہنتی ہوں۔عام زندگی میں بھی لباس کی تراش خراش کاکافی خیال رکھتی ہوں۔

پسندیدہ موسم کے حوالے سے ماہاوارثی نے بتایا کہ اگرچہ میں اٹھارہ،اُنیس سال ٹورنٹو میں رہی ہوں لیکن مجھے سردی زیادہ لگتی ہے اورکراچی کاآج کل کا موسم اچھّا لگتا ہے۔ گرمی میں برداشت کر لیتی ہوں ہاں اس سال جب کراچی میں گرمی کی شدیدلہرآئی تومجھے بھی بہت گرمی لگی تھی۔

فلم اورٹی وی انڈسٹری کے مُستقبل کے حوالے سے ماہا وارثی کاکہنا ہے کہ کچھ عرصے سے پاکستان میں بہت اچھّی فلمیں ریلیزہو رہی ہیں۔’’منٹو‘‘اور’’جوانی پھر نہیں آنی‘‘دیکھ کربہت خوشی ہوئی ہے اوروہ دن دور نہیں جب ہماری فلم انڈسٹری بالی وُڈ اور ہالی وُڈ کا مقابلہ کرے گی۔فلم انڈسٹری کی ترقّی سے ہماری ٹی وی انڈسٹری متاثر نہیں ہوگی کیونکہ ہرکوئی سینما نہیں جاتا اور ہماری خواتین کی ایک بڑی تعداد کی تفریح کا ذریعہ ڈرامہ ہی ہے۔میں ایسے کرداروں کی تلاش میں ہوتی ہوں جو مجھے دریافت کریں۔آج کل ایک ڈرامہ ’’نازو‘‘چل رہا ہے جس میں سونیا حسین ’’نازو‘‘کا کرداربہت خوبصورتی سے کر رہی ہیں۔میں بھی اس طرح کا چیلنجنگ کردار کرنا چاہتی ہوں۔

***

مزید : ایڈیشن 1