مقبوضہ کشمیر میں احتجاجی مظاہروں کے دوران بھارتی فورسز کی خطرناک پیلٹ فائرنگ

مقبوضہ کشمیر میں احتجاجی مظاہروں کے دوران بھارتی فورسز کی خطرناک پیلٹ ...

سری نگر(کے پی آئی) مقبوضہ کشمیر میں احتجاجی مظاہروں کے دوران بھارتی فورسز کی پیلٹ فائرنگ کے نتیجہ میں کشمیر میں نوجوانوں کی زندگی میں اندھیرا چھاجانے کا سلسلہ جاری ہے اور تازہ واقعہ میں مذید دو جونوان بینائی کھونے کے قریب ہیں ۔ تفصیلات کے مطابق چار روز قبل کھریو میں پولیس اور مظاہرین کے مابین تصادم آرائی کے دوران پولیس نے طاقت کا بے تحاشا استعمال کرکے نہ صرف اشک آور گیس کے گولے داغے جبکہ پیلٹ گنوں کے دہانے کھول کر پیلٹ فائرکی برسات کردی جس کے نتیجہ میں اگر چہ کئی لوگ زخمی ہوگئے تاہم یہاں کے دو مقامی کمسن طالب علم بد نصیب ثابت ہوئے کیونکہ پیلٹ فائر ان کی آنکھوں پر لگے اور وہ بینائی کھونے کے قریب ہیں۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ سیمنٹ فیکٹری کے نزدیک گاڑیوں کے ڈرائیواروں نے گھریو کے مین چوک میں دھرنے پر بیٹھے مقامی آبادی، جس میں مرد وزن اور نوجوان شامل تھے ، کو یہ بات بتائی کہ پولیس نے گاڑیوں کے شیشے چکناچور کئے اور کئی لوگوں کو مارا پیٹا،موبائل پر جب یہ اطلاع دھرنے پر بیٹھے لوگوں کو دی گئی تو وہ مشتعل ہوئے اور انہو ں نے نعرے بازی شروع کی ۔اس موقعہ پر پولیس کی بھاری تعداد وہاں پہنچ گئی اور انہوں نے لاٹھی چارج کرنے کے علاوہ بے تحاشا طور پر آنسو گیس کے گولے داغے اور پیلٹ گن بھی استعمال کیا ۔پیلٹ فائرنگ سے کئی افراد زخمی ہوئے لیکن ان میں یہ بدنصیب دو طالب علم بھی شامل ہیں جو اس وقت دلی کی کیلاش کالونی میں شروف آئی ہسپتال میں زیر علاج ہیں ۔ گوہر احمد شیخ ولد غلام محمد اور محمد اقبال شیخ ولد علی محمد کی آنکھوں کی جراحی ہوچکی ہے ۔ایک کی دائیں آنکھ میں سیدھا پیلٹ لگا ہے جبکہ ایک کی بائیں آنکھ مجروح ہوچکی ہے ۔۔ہزراوں روپے آپریشن پر خرچ کرنے کے باوجود دونوں طالب علم اپنی زندگی میں اندھیرا دیکھ رہے ہیں ۔گوہر احمد شیح دسویں جماعت کا طالب علم ہے اور وہ بوائز ہائر سکنڈری سکول کھریو میں زیر تعلیم ہے جبکہ اقبال احمد شیخ بھی اسی سکول میں دسویں کا طالب علم ہے ۔گوہر احمد کے بھائی محمد شفیع ،جو اس وقت اپنے بھائی کے ساتھ نئی دلی میں موجود ہے ، نے بتایا کہ پیلٹ فائر آنے کے بعد جب دونوں کے آنکھوں سے بہ کثرت خون بہنے لگا تو اس نے کچھ دیگر نوجوانوں کے ساتھ مل کر دونوں زخمیوں کو پانپور ہسپتال پہنچایا لیکن یہاں پولیس نے ہسپتال پر چھاپہ مارا اور کچھ نوجوانوں کو اپنے ساتھ لے گئی ۔محمد شفیع نے مزید بتایا کہ انہوں نے کسی طرح دونوں زخمیوں کو پولیس کی نظروں سے بچایا اور وہ بھاگتے بھاگتے سرینگر کے صدر ہسپتال پہنچ گئے ۔ان کا کہنا ہے کہ ابھی چند منٹ ہی ہوئے تھے کہ پولیس وہاں پر بھی آگئی اور ہم میں بھاگم دوڑ مچ گئی لیکن کسی طرح ہم نے دونوں زخمیوں کو واڑ میں پہنچایا اور جب تک پولیس وہاں آتی ،دونوں زخمیوں کی مرہم پٹی کی گئی اور انہوں نے دونوں زخمیوں کو ہسپتال سے باہر نکالنے میں کامیابی حاصل کی اور دوسرے دن نئی دلی بھاگ گئے ۔محمد شفیع کا کہنا تھا کہ پولیس کے ہاتھ اگر دونوں زخمی آتے تو انہیں گرفتار کیا جا سکتا تھا ۔گوہر احمد اور محمد اقبال کی عمر 16یا 17برس کی ہے ۔دونوں نوجوان ہمسائیگی میں بھی رہتے ہیں ۔ان کے گھر والوں کے ساتھ بات چیت کرنے کے دوران دونوں نوجوانوں کی ایک آنکھ کی بینائی متاثر ہونے کا درد نمایا ں ہے ۔محمد شفیع نے بات چیت کرنے کے دوران کہا کہ وہ لوگ مزدور پیشہ آدمی ہیں اور ہسپتال کے اخراجات برداشت نہیں کر پا رہے ہیں ۔اس کا مزید کہنا تھا کہ ابھی تک انہوں نے جو کچھ بھی خرچ کیا وہ لوگوں سے ادھار لیا ہے لیکن ہمارا صرف یہ مطالبہ ہے کہ پولیس کے ان اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جانی چاہئے ۔انہوں نے کہا اگر مان بھی لیا جائے کہ نوجوانوں نے پتھرا ؤکیا لیکن یہ کہاں کا انصاف ہے کہ جو پتھر مارے اس کو بینائی سے محروم کر دیا جائے۔

مزید : عالمی منظر