پنجاب ، خودکشی کے رجحان میں اضافہ ، متعدد وجوہات سامنے آگئیں

پنجاب ، خودکشی کے رجحان میں اضافہ ، متعدد وجوہات سامنے آگئیں

 لا ہور (ر پو رٹ :شعیب بھٹی ) پنجا ب بھر میں گھریلو جھگڑوں میں خودکشی کر نے کے واقعات میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔رواں سال کے دوران لاہور میں وحد ت کا لو نی کے علاقہ میں 25سالہ افضانہ وحدت کالونی کے نجی ہوسٹل میں سات ماہ سے رہائش پذیر تھی اور پنجاب یونیورسٹی میں ایم ایس سی میتھ کی طالبہ تھی جس نے مبینہ طو ر پر خود کشی کی ۔پو لیس کے مطا بق افضانہ وقوعہ کے روز صبح کے وقت نہانے کے لیے واش روم میں گئی جہاں اس کی موت واقع ہو گئی۔شبہ ظا ہر کیا جا ر ہا ہے کہ افضانہ نے خود کشی کی ہے ۔ شاہد ر ہ جیا بگا کی ر ہا ئشی 23سا لہ 2بچو ں کی ما ں ر ضیہ بی بی جس کی 3سا ل قبل شوکت نا می شخص سے شا د ی ہو ئی تھی ۔ پو لیس کے مطا بق شوکت کا اپنی بیو ی کے سا تھ رو یاٹھیک نہیں تھا جس پر اس نے زہر یلی گو لیا ں کھا کر زند گی کا خا تمہ کر لیا ۔ گرین ٹاؤن میں خاوند سے جھگڑ کر میکے رہنے والی 2 بچوں کی ماں نے زہریلی گولیاں کھا کر خود کشی کرلی۔ مسرت شفیع تین سال قبل اپنے خاوند احمد سے جھگڑ کر شریف کالونی میں اپنے والدین کے گھر آ گئی تھی، حالات سے دلبرداشتہ ہو کر زہریلی گولیاں کھا لیں، ہسپتال لے جایا گیا مگر وہ جانبر نہ ہو سکی۔ ورثا کے مطابق مسرت کا خاوند شیخوپورہ میں پرائیویٹ ملازمت کرتا تھا ،تین سال گزرنے کے باوجود احمد اپنی بیوی کو منانے نہیں آیا تھا ،جس پر دلبرداشتہ ہو کر مسرت نے گولیاں کھا لیں۔ سرائے مغل میں ماں کی ڈانٹ ڈپٹ سے دلبرداشتہ نوجوان نے زہریلی گولیاں کھا کر زندگی کا خاتمہ کرلیا۔ نواحی گاؤں لکھوڈیر کے 23 سالہ نوجوان ابوبکر کو اس کی ماں نے کسی بات پر ڈانٹ ڈپٹ کی جس پر نوجوان نے گندم میں رکھنے والی زہریلی گولیاں کھا لیں۔علاوہ ازیں شمالی چھاؤنی کے علاقہ میں 28 سالہ نوجوان نے کاروبار میں نقصان اور گھریلو جھگڑے پر خود کو گولی مار لی۔ شہزاد پولی تھین کا کاروبار کرتا تھا، شہزاد کو کاروبار میں نقصان ہوا جس پر اس نے گھر میں کنپٹی پر خود کو گولی مار کر خود کشی کرلی۔کمالیہ میں نواحی گاؤں چک نمبر 733گ ب کے 35 سالہ مظہر حسین کے اہل خانہ کے مطابق کچھ عرصہ سے ذہنی توازن ٹھیک نہیں تھا۔کیڑے مار دوائی پی لی۔ پاکپتن میں کمیر روڈ پر واقع 18 ڈوگراں والی گاؤں کے 28 سالہ نوجوان محمد افتخار نے اپنی والدہ سے گھریلو تنازع پر جھگڑا کرنے کے بعد طیش میں آ کر خود پر تیل چھڑک کر آگ لگا لی جس سے نوجوان بری طرح جھلس گیا ،ڈی ایچ کیو ہسپتال پہنچایا گیا جہاں دم تو ڑگیا۔لاہور کے نواحی علاقے مناواں میں 22 سالہ مطلقہ خاتون نے دوسری شادی سے دو روز قبل جہیز نہ ملنے پر پھندا لے کر خود کشی کرلی۔22 سالہ رضیہ بی بی تین سالہ بچی کی ماں تھی اور دو سال قبل طلاق کے بعد وہ والدین کے پاس رہتی تھی، والدین نے رضیہ کی دوسری شادی خالہ زاد قاسم سے طے کی دونوں ایک دوسرے کو پسند بھی کرتے تھے اور تین مارچ کو دونوں کی شادی طے پائی تھی، رضیہ کی نابینا والدہ کا کہنا ہے کہ رضیہ اس سے جہیز میں نیا فرنیچر بنوانے کا تقاضہ کرتی تھی جس پر اسے کہہ دیا تھا کہ شادی کے بعد پیسے آنے پر نیا فرنیچر خریددیں گے لیکن اس نے پنکھے سے لٹک کر خود کشی کرلی۔ گوجرانوالہ کے علاقے باغبان پورہ کی رہائشی خاتون صدف نے آئے روز شوہر اور سسرالیوں سے جھگڑے سے تنگ آکر پہلے دو کم سن بچوں 3سالہ ریحان اور 6 ماہ کے ایان کو دودھ میں زہریلی گولیاں ملاکر پلایا اور پھر خود بھی زہریلی گولیاں کھالیں۔ زہر خورانی سے صدف کی زندگی تو موقع پرہی ختم ہوگئی تاہم ریحان اور عیان کو اسپتال پہنچایا گیا جہاں ریحان نے دم توڑ دیا۔ فیصل آباد میں بھی ایک خاتون نے اپنے 2 بچوں سمیت خودکشی کی کوشش کی تھی جس سے اس کا ایک ماہ کا بچہ جاں بحق ہوگیا تھا۔گھریلو جھگڑوں کے نتیجے میں جہاں مرد بھی زک اٹھاتے ہیں وہاں عورت بھی نقصان اٹھاتی ہے، ویسے بھی عورتوں پر تشدد ہمارے معاشرے کا انتہائی دردناک المیہ ہے، مگر اس سے بھی زیادہ دردناک المیہ یہ ہے کہ اس تشدد کی ابتدا گھر کے ہی جھگڑوں سے شروع ہوتی ہے۔ابھی حال ہی میں ایک تحقیق سامنے آئی ہے کہ شرح اموات میں اضافے کی ایک اہم وجہ گھریلو جھگڑے بھی ہیں، تحقیق یہ بھی بتاتی ہے کہ قریبی تعلقات میں آنے والی پریشانیاں اور توقعات موت کی شرح میں اضافے کی وجہ ہیں، شریکِ حیات اور بچوں کی طرف سے کیے جانے والے مسلسل مطالبات اور روز روز کے جھگڑوں سے موت کے خطرے میں 50 سے 100 فیصد اضافہ ہو جاتا ہے۔

مزید : علاقائی