پانامہ لیکس پر آزاد اور شفاف انداز میں تحقیقات ہونی چاہئے ، مذہبی و سیاسی رہنما

پانامہ لیکس پر آزاد اور شفاف انداز میں تحقیقات ہونی چاہئے ، مذہبی و سیاسی ...

 لاہور( جاوید اقبال ‘ شہزاد ملک) ملک کی مختلف مذہبی و سیاسی جماعتوں کے راہنماؤں نے کہا ہے کہ پانامہ لیکس پر آزاد اور شفاف انداز میں تحقیقات ضرور ہونی چاہئے مگر وزیراعظم کا استعفی مسلے کا حل نہیں، پہلے تحقیقات ہو جائیں اگر وزیراعظم قصور وار ثابت ہو جائیں تو انہیں ضرور مستعفی ہو جانا چاہئے ۔اس حمام میں سب ننگے ہیں اس لئے سب کا احتساب ضروری ہے مگر یہ قانون کے دائرے میں رہ کر ہونا چاہئے ا ورا س کے لئے قانون نے طریقہ کار بھی بتا رکھا ہے ملک جلاؤ گھیراؤ اور دھرنوں کا متحمل نہیں ہو سکتا ایسا ہوا تو ملک میں بے یقینی کی صورت حال پیدا ہو جائے گی جس سے ملک و قوم کو ایک ناقابل تلافی نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے ۔پانامہ لیکس پر تحقیقات کی بجائے سیاست زیادہ ہو رہی ہے اس پر پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے طرز عمل سے ایسے لگتا ہے کہ جیسے وہ تحقیقات نہیں بلکہ ایک دوسرے پر سبقت لیجانا چاہتے ہیں حکومت کا بھی فرض بنتا ہے کہ وہ ا س پر فوری طور پر قانون اور آئین میں رہتے ہوئے فوری طور پر تحقیقات شروع کروائے اور ایک مقررہ وقت میں اس کی رپورٹ قوم کے سامنے لائی جائے۔ اس امر کا اظہار انہوں نے ’’پاکستان ‘‘سے اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کیا۔ اے این پی کے رہنما غلام احمد بلور نے کہا کہ پانامہ لیکس کی تحقیقات وقت کا تقاضہ ہے اور اس کا طریقہ کار سڑکوں پر نہیں بلکہ پارلیمنٹ اور وزیراعظم نے طے کرنا ہے تاہم اس میں تاخیر نہیں کرنی چاہئے وگرنہ حالات دوسری طرف چلے جائیں گے مسلے کا حل وزیراعظم کے مستعفی ہونے سے حل نہیں ہو گا ۔سینٹر محمود خان اچکزئی نے کہا کہ عمران خان ہر کام میں ہی جلد بازی کرتے ہیں سیاست میں کوئی چیز حرف آخر نہیں ہوتی ہر وقت وزیراعظم سے استعفی طلب کرنا کسی طور پر بھی سیاسی اور جمہوری روائت کا حصہ نہیں ہے ۔مسلم لیگ (ق) کے رہنما کامل علی آغا نے کہا کہ پانامہ لیکس پر تحقیقات ضرور ہونی چاہئے اورا س میں جتنی تاخیر ہو گی تو اس کی وجہ سے ابہام بھی بڑھیں گے وزیراعظم یا ان کے اہل خانہ ملوث نہیں ہیں تو پھر انہیں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی سربراہی میں ایک آزاد خود مختار کمیشن بنانے کا اعلان کرنا چاہے احتجاج دھرنا عمران کا آئینی حق ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے چئیرمین راجہ ظفر الحق نے کہا کہ عمران خان ہمیشہ منفی سیاست کرتے ہیں اور وہ راتوں رات وزیراعظم بننا چاہتے ہیں انہیں کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ بات بات پر وزیراعظم سے استعفی طلب کریں جب وزیراعظم خود ایک کمیشن قائم کرنے کا اعلان کر چکے ہیں تو انہیں اس ایشو پر مزید سیاست نہیں چمکانی چاہئے اور تحقیقات کا انتظار کرنا چاہئے۔جماعت اسلامی کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل فرید پراچہ نے کہا کہ جب سے پانامہ لیکس کا ایشو منظر عام پر آیا ہے اس کے بعد وزیراعظم اپنے عہدے پر رہنے کا اخلاقی جواز کھو بیٹھے ہیں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی سر براہی میں کمیشن کے قیام کا مطالبہ جماعت اسلامی کا ہی نہیں بلکہ ہر سیاسی جماعت کا مطالبہ ہے اور وزیر اعظم کی جانب سے اعلان کردہ کمیشن کو سب جماعتوں نے ہی مسترد کردیا تھا ۔پاکستان تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل جہانگیر خان ترین نے کہا کہ جب پانامہ لیکس کے منظر عام پر آنے کے بعد آئس لینڈ کے وزیراعظم مستعفی ہو سکتے ہیں تو پھر پاکستانی وزیارعظم کیوں نہیں کیونکہ ان پر بھی وہی الزامات ہیں جو ان پر تھے اس لئے شفاف تحقیقات کے لئے ان کا وزیراعظم کے عہدے پر رہنا مناسب نہیں ہے انہیں چئیرمین تحریک انصاف عمران خان کی طرف سے دی گئی ڈیڈ لائن پر عمل کرتے ہوئے مستعفی ہو جانا چاہئے وگرنہ پی ٹی آئی کے کارکنان اپنے چئیرمین کی کال پر دھرنا دینے کے لئے تیار بیٹھے ہیں۔

مزید : صفحہ آخر