اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس ، روس کیساتھ گیس پائپ لائن سمیت توانائی کے 5منصوبوں پر عملدرآمد کی منظوری

اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس ، روس کیساتھ گیس پائپ لائن سمیت توانائی کے ...

 اسلام آباد (آن لائن) اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی )نے روس کے ساتھ حکومتی سطح پر معاہدے کے تحت شمال جنوب گیس پائپ لائن منصوبے پر عملدرآمد کی منظوری دیدی‘ سیکرٹری پٹرولیم اینڈ قدرتی گیس‘ سیکرٹری لاء‘ سیکرٹری بورڈ آف انویسٹمنٹ ‘ وزارت خزانہ کے حکام ‘ ایم ڈی ایس این جی پی ایل اور ایم ڈی آئی ایس جی ایس کی سربراہی میں قائم کمیٹی روسی انظامیہ کے ساتھ گیس کی قیمتوں اور منصوبے کے حوالے سے تفصیلی بات چیت کرے گی۔ ای سی سی کا اجلاس وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت اسلام آباد میں ہوا اس موقع پر توانائی سے متعلق پانچ منصوبوں منظوری دی گئی ای سی سی نے گوادر ‘ نواب شاہ ایل پی جی ٹرمینل اور پائپ لائن منصوبے کی از سر نو تعمیر کی تجویز پر غور و خوض کیا اور بی او او ٹی بنیادوں پر منصوبے پر عملدرآمد کی منظوری دے دی۔ ای سی سی نے وزارت پٹرولیم و قدرتی گیس کو تمام لوازمات مکمل کرنے کی ہدایات کیں اور کہا کہ نظر ثانی شدہ سٹریٹیجی سے قیمت کی لاگت میں اضافہ نہ ہو اس موقع پر فیصلہ کیا گیا کہ سیکرٹری پٹرولیم و قدرتی گیس قیمتوں کے تعین کیلئے مذاکرات کی سربراہی کریں گے جبکہ سیکرٹری لاء‘ سیکرٹری بی او آئی ‘ وزارت خزانہ کے حکام ایم ڈی ایس این جی پی ایل آئی ایس جی ایس کمیٹی کے ممبر ہوں گے۔ ای سی سی نے وزارت پانی و بجلی کی جانب سے جمع کروائے گئے تجاویز پر سیر حاصل بحث کی اور توانائی شعبہ میں پچیس ارب روپے کی لاگت کی مربوط مالیاتی سہولت کے تناظر میں میں وزارت خزانہ کی خود مختار گارنٹی دینے کی منظوری دے دی۔ ای سی سی نے وزارت پیٹرولیم و قدرتی گیس کی ایل پی جی ائیر مکسچر منصوبے پر غور و خوص کیا اور فیصلہ کیا کہ سی سی آئی کی جانب سے 29 فروری کو ایل پی جی پالیسی 2016 ء کی منظوری دی جاچکی ہے اس لئے ای سی سی کی جانب سے اس کی مزید منظوری کی گنجائش باقی نہیں رہتی ۔ اب پالیسی پر عمل کروانا اوگرا پر منحصر ہے۔ وزارت پانی و بجلی کی ایک اور سمری پر ای سی سی نے مختلف حکومتی اداروں کے ذمے واجب ادا 70 ارب 16 کروڑ سے زائد رقم نان کیش سیٹلمنٹ میں کرنے کی منظوری دے دی۔

مزید : صفحہ اول