پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس ، پی ائی اے کو پبلک لمیٹڈ کمپنی بنانے کا بل منظور

پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس ، پی ائی اے کو پبلک لمیٹڈ کمپنی بنانے کا بل منظور

اسلام آباد (آن لائن،مانیٹرنگ ڈیسک) پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں پاکستان بین الاقوامی ائیر لائن کارپوریشن تبدیلی بل 2016 ء کو کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا۔ عوامی نیشنل پارٹی نے پی آئی اے کوکارپوریشن میں تبدیلی کا بل 2016 ء پر اعتماد میں نہ لینے پر ایوان سے علامتی واک آؤٹ کیا۔ اے این پی کے سینیٹر الیاس بطور نے کہا کہ اے این پی کو اس بل کے حوالے سے اعتماد میں لیا گیا اور نہ ہی ہمیں کمیٹی میں نمائندگی دی گئی۔ ہم اس بل کی مخالفت کرتے ہیں اور ایوان سے واک آؤٹ کرتے ہیں ۔پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اپوزیشن نے پاکستان انٹرنیشنل ائیر لائنز کے ملازمین کو جاری کیے گئے شوکاز نوٹس اور ملازمت سے برطرف کرنے کے احکامات واپس لینے پر اصرار کیا جس پر وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ کورٹ میں کیسز کے حوالے سے حکومت غور کر سکتی ہے جبکہ انتظامی کیسز کو 24 گھنٹوں میں ختم کردیا جائے گا لیکن اپوزیشن نے حکومت کے ماضی کے رویے کو مدنظر رکھتے ہوئے نوٹفکیشن ایوان میں لانے پر اصرار کیا جس کے بعد حکومت اور اپوزیشن ممبران کا ایک کمیٹی نے تین گھنٹے تک اس پر مذاکرات کئے جس کے بعد وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے ایوان میں آکر اعلان کیا کہ پی آئی اے کے ملازمین کو جاری کئے گئے شو کاز نوٹس واپس لیے جائیں گے اس حوالے سے متعلقہ حکام کو ہدایات جاری کردی گئی ہیں جس کے بعد زاہد حامد نے بل کو ایوان میں پیس کیا جسے کثرت رائے ے منظور کرلیا گیا۔ مزید برآں مشترکہ اجلاس میں سینیٹر غوث محمد خان نیازی نے امیگریشن ترمیمی بل 2016 ء منظوری کیلئے ایوان میں پیش کیا جس کو متفقہ طو رپر منظور کرلیا گیا۔ سینیٹر سعید غنی کی جانب سے سول سرونٹ ترمیمی بل 2016 ء کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں پیش کیا گیا جسے ایوان نے متفقہ طور پر منطور کرلیا۔پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اپوزیشن نے پی آئی اے ملازمین کے خلاف ہڑتال کے دوران بنائے گئے مقدمات کی واپسی تک پی آئی اے بل سمیت دیگر بلز کی منظوری سے انکار کر دیا اور مطالبہ کیا ہے کہ ایوان میں پانامہ پیپرز لیکس کے اہم ایشو پر بحث کرائی جائے اور قانون سازی منگل تک ملتوی کر دی جائے، اپوزیشن ارکان نے اس حوالے سے سپیکر اور وزیر خزانہ کی زبانی یقین دہانی ماننے سے بھی انکار کر دیا اور کہا کہ حکومت پہلے ملازمین کے خلاف بنائے گئے مقدمات واپس لینے کا خط تیار کروا کر اپوزیشن کو دیکھائے، پھر قانون سازی مکمل وہ گی، طویل بحث مباحثے کے بعد طے پایا کہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار سید نوید قمر اور دیگر اپوزیشن ارکان کے ساتھ پی آئی اے ملازمین کے خلاف مقدمات کی واپسی کا تحریری طریقہ کار طے کریں گے پھر بل منظور ہوں گے تاہم وزیر قانون پانچویں بلوں پر پارلیمانی کمیٹی کی رپورٹس پیش کر سکتے ہیں۔ قومی اسمبلی کا اجلاس گزشتہ روز سپیکر کی زیر صدارت شروع ہوا ۔محمود اچکزئی نے کہا کہ آج کے دن آئین بنا تھا یہ بڑا فورم ہے اس میں آئین کے دفاع پر بات ہونی چاہئے آج آئین کو خطرہ ہے۔ آئین کو تماشہ بنایا جارہا ہے۔ اگر آئین کا دفاع نہ کرسکیں تو پھر ہمارا اس ایوان میں بیٹھنے کی ضرورت نہیں۔سعید غنی نے کہا کہ پی آئی اے بل پر مکمل اتفاق نہیں ہوا، پی آئی اے ملازمین کے خلاف ہڑتال پر بنے کیس جب تک واپس نہیں ہوں گے اس وقت تک ہم بل منظور نہیں ہونے دیں گے۔ صاحبزادہ طارق اللہ نے کہا کہ بلز بارے اپوزیشن لیڈر نے کمیٹی میں موجود دیگر ممبران کو اعتماد میں نہیں لیا۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ جمعرات کو کمیٹی اجلاس میں پی آئی اے بل پر اتفاق رائے ہو گیا تھا، اپوزیشن کی ترامیم بھی لینے پر اتفاق ہوا، ملازمین کے ایشوز بارے یقین دہانی کرائی تھی کہ حل کریں گے ، انتظامی کیسز واپس کے لئے گئے لیکن عدالتی کیس پراسس کے بعد واپس ہوں گے۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ حکومت شوکاز واپس لے لے تو کیس خود ختم ہو جائیں گے۔ زاہد حامد نے کہا کہ جو کیس عدالت چلے گئے وہ فوری واپس نہیں ہو سکتے، اپوزیشن نے اتفاق رائے سے نہ مکرے۔ نوید قمر نے کہا کہ ملازمین کا سارا ایشو انتظامی ہے، حکومت چاہے فوری ختم ہو سکتا ہے۔ سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا کہ میں گزارش کروں گا کہ بل منظور کر لئے جائیں پھر باقی معاملات پر اتفاق رائے کرلیں گے، ہم کثرت رائے سے بھی بل منظور کر سکتے ہیں مگر ہماری خواہش ے کہ اتفاق رائے سے بل منظور کرلیں گے، اپوزیشن کو یقین دلاتا ہوں کہ پی آئی اے ملازمین کے خلاف تمام انتظامی کیس واپس لے لیں گے۔

مزید : صفحہ اول