کراچی ، انسداد دہشتگردی عدالت میں دوران سماعت دستی بم پھٹ گیا ، 5افراد زخمی

کراچی ، انسداد دہشتگردی عدالت میں دوران سماعت دستی بم پھٹ گیا ، 5افراد زخمی

 کراچی(سٹاف رپورٹر)انسداد دہشت گردی کی عدالت میں تفتیشی افسر کی جانب سے دوران سماعت معزز جج کے سامنے پیش کیا گیا دستی بم اچانک پھٹ گیا جس کے نتیجے میں پولیس اہلکار سمیت 5 افراد زخمی ہوگئے۔پولیس کے مطابق کراچی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پولیس کی جانب سے معزز جج کے روبرو لیاری گینگ وار کے مبینہ ملزم سے برآمد ہونے والا دستی بم شہادت کے طور پر پیش کیا گیا جوکہ اچانک پھٹ گیا، دھماکے کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار سمیت 5 افراد زخمی ہوگئے۔ زخمیوں میں سے 2 افراد جناح اسپتال منتقل کردیا گیا جب کہ معمولی نوعیت کے زخمیوں کو موقع پر ہی طبی امداد فراہم کردی گئی، معمولی زخمیوں میں انسداد دہشت گردی عدالت کے جج شکیل حیدر بھی شامل ہیں۔ملزم کے قبضے سے برآمد ہونے والا دھماکا خیز مواد کیس پراپرٹی ہوتا ہے جسے معزز جج کے سامنے کھولا جاتا ہے لیکن اس کے لئے تفتیشی افسر کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ دھماکا خیز مواد کو ناکارہ کرنے کے بعد اسے سیل کر کے جج کے سامنے پیش کیا جائے تاہم تفتیشی افسر نے غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ڈیفیوز کئے بغیر بم عدالت کے روبرو پیش کردیا۔ کلاکوٹ تھانے کا اہلکار بیان ریکارڈ کرا رہا تھا کہ اچانک دستی بم پھٹ گیا جس سے پولیس اہلکار اور عدالتی اہلکار شعیب زخمی ہو گئے ، دونوں زخمیوں کو فوری طورپر ہسپتال منتقل کر دیا گیا ، دھماکے کے بعد انسداد دہشت گردی عدالتوں میں مقدمات کی سماعت ملتوی کر دی گئی ۔ دھماکے کے بعد تمام ججز ایک چیمبر میں اکھٹے ہو گئے ۔دھماکے کے بارے میں ملزم کے وکیل نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ سماعت کے دوران جج صاحب نے پوچھا کہ دستی بم کیسے چلتا ہے، جس پر پولیس اہلکارنے کہا کہ وہ کھول کردیکھتا ہے،پولیس اہل کار نے دستی بم کی پن نکال لی اور دھماکا ہوگیا۔ ایڈیشنل آئی جی کراچی مشتاق مہر نے نااہلی برتنے پر پولیس اہلکار کے خلاف تحقیقات کا حکم دے دیا ۔ کراچی پولیس چیف کا کہنا ہے کہ اہلکار کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی ۔دوسری جانب ڈی آئی جی پولیس کراچی جنوبی ڈاکٹر جمیل کا کہنا ہے کہ عدالت میں دستی بم نہیں ڈیٹونیٹر پھٹا، ڈیٹونیٹر میں بہت معمولی مقدارمیں بارود ہوتا ہے،ڈیٹونیٹر شیشے کے برتن میں پیک تھا تاہم وکیل صفائی کے اصرار پر جج صاحب نے ڈیٹونیٹر دکھانے کا حکم دیا۔

مزید : صفحہ اول