1973کا آئین آج بھی وفاق کی اکائیوں کو متحد رکھ رہاہے،نیئر بخاری

1973کا آئین آج بھی وفاق کی اکائیوں کو متحد رکھ رہاہے،نیئر بخاری

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)آئین کے ذریعے ریاستی و سیاسی امور میں عوام کی براہ راست شرکت کو یقینی بنانا پہلی منتخب جمہوری حکومت کے سربراہ قائد عوام ذولفقار علی بھٹو اور پارلیمانی قائدین کا بڑا کارنامہ ہے۔ 1973کا آئین آج بھی وفاق کی اکائیوں کو متحد رکھنے اور عوام کے بنیادی حقوق کی فراہمی کی ضمانت ہے۔ عوام میں سے عوام کی حکومت کے قیام کا آئینی حق صوبائی خود مختاری ، وسائل کی منصفانہ تقسیم ، سیاسی سرگرمیوں کی مکمل آزادانہ اجازت ، اداروں کے حدود وقیود کے تعین سے علاقائیت، صوبائیت اور لسانیت کے جن کو قابو کیا گیا لیکن بدقسمتی سے آئین شکنی کے ذریعے وفاقیت کو کمزور اور قومی اتحاد و یکجہتی کو پارہ پارہ کردیا گیا۔ ان خیالات کا اظہار سابق چیئرمین سینٹ سید نیئر حسین بخاری نے پی پی ضلع اسلام آباد کے صدر سید سبط الحیدر بخاری اور پی پی ضلع راولپنڈی کے صدر مرتضیٰ ستی کی قیادت میں ملاقات کرنے والے پارٹی عہدیداران سے ملاقات میں کیا ۔ سید نیئر حسین بخاری نے کہ آئین پاکستان مرتب کرنے اور منظور کروانے والے پارلیمانی قائدین کی قومی خدمت کے اعتراف میں ان ہیروز کو تعلیمی نصاب شامل کیا جائے انہوں نے کہا کہ آئین پاکستان توڑنے والوں کے خلاف بحالی جمہوریت کی تحریک میں جانوں کے نذرانے پیش کرنے والے عظیم قومی خدمت گاروں کے نام سینیٹ، قومی و صوبائی اسمبلیوں کی عمارات پر آویزاں کئے جائیں اور یوم آئین ہرسال سرکاری سطح پر منایا جانا چاہیے۔ نیئر بخاری نے کہا کہ جس طرح سیاسی قیادت اور کارکنوں نے آمریت کو ہر بار گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا اور اپنی جدوجہداور قربانیوں سے قوم کو جمہوریت واپس دلوائی ۔بے مثال کارنامہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین و جمہوریت کی حفاظت تب ہی ممکن ہے جب حقیقی سیاسی قوتیں اپنے اکابرین اور قائدین کی طرح سیاست اور ریاستی امور کے علاوہ مظلوم و محروم طبقات اور سیاسی کارکنوں کو نچلی سطح تک بھرپور نمائندگی دیں۔نیئر بخاری نے کہا کہ سیاسی قائدین اور کارکنوں کی قربانیوں کا ثمر ہے کہ سیاسی قیادت نظریاتی مخالفت کے باوجود جمہوریت کے تسلسل مضبوطی اور اس کی حفاظت کر یکجا اور متحد ہیں ۔ ملاقات کرنے والے میں راجہ امجد ایڈوکیٹ، اسد شاہ نقوی، راجہ شبیر، ملک خورشید، چوہدری ظہیر، ملک اعجاز ، افتخار شہزادہ اور قمرشاہ شامل تھے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر